اخبار غور سے پڑھنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اہل اختیار کی عقل و دانش پر سولات پیدا ہو جاتے ہیں۔ آج کے اخبارات میں دانش یونیورسٹی اسلام آباد کی بلڈنگ کی تعمیر کا ٹینڈر نوٹس منسوخ کرنے کا اشتہار شائع کیا گیا اور ساتھ میں ایک نیا اشتہار بھی شائع کر دیا گیا یہ نہیں بتایا گیا کہ پچھلا اشتہار کیوں منسوخ ہوا اور کس کی دانش کے باعث ایسا ہوا؟
پٹرول کی روزانہ بڑھتی قیمتوں کے ساتھ اشیائے صرف بھی مہنگی ہو رہی ہیں۔ حکومت کا 2 ہزار روپے کا ریلیف عوام کے ساتھ بھونڈے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں؛ عام آدمی اس سے روزانہ صرف تقریباً دو نان ہی خرید سکتا ہے۔
عوام کو خیرات نہیں، مہنگائی میں حقیقی کمی چاہیے!
ایک نوجوان کئی سال ایک کمپنی میں کام کرتا رہا۔
ایک دن باس نے اسے سخت لہجے میں کہا:
"اگر تم خوش نہیں ہو تو نوکری چھوڑ دو۔"
نوجوان نے استعفیٰ لکھنے کے بجائے ایک سوال کیا:
"اگر میں آج چلا جاؤں تو کیا آپ کو میری کمی محسوس ہوگی؟"
باس خاموش ہو گیا۔
نوجوان نے دوبارہ پوچھا:
"اور اگر نہیں ہوگی تو کیا مجھے واقعی یہاں مزید رہنا چاہیے؟"
کبھی کبھی ہمیں اپنی قدر جاننے کے لیے دوسروں سے تعریف نہیں، حقیقت چاہیے ہوتی ہے۔
ہر جگہ صرف اس لیے نہ رکے رہیں کہ آپ وہاں بہت سال گزار چکے ہیں۔
وقت کی سرمایہ کاری ہمیشہ مستقبل کی ضمانت نہیں ہوتی۔
کچھ جگہیں ہمیں تجربہ دیتی ہیں،
کچھ جگہیں ہمیں صرف یہ سکھاتی ہیں کہ ہمیں اگلا قدم کہاں نہیں رکھنا۔
اور زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو خود سے پوچھنا پڑتا ہے:
"میں یہاں اس لیے ہوں کہ یہ میرے لیے اچھا ہے، یا صرف اس لیے کہ مجھے یہاں سے نکلنے کا ڈر لگتا ہے؟"
عالمی ادارہ آئی کیو ائیر کی آلودگی رپورٹ برائے 2025 کے مطابق، 143 ممالک میں پاکستان فضائی آلودگی کے اعتبار سے سب سے زیادہ آلودہ ملک رہا جہاں PM2.5 (ہوا میں معلق باریک ذرات) کی سالانہ اوسط مقدار عالمی ادارۂ صحت کی مقرر کردہ حد سے 13 گنا سے زیادہ رہی۔
تجربہ کاروں کی حکومت ہے۔
ہر گھر کی ضرورت کی اشیا میں سے 19 چیزیں پچھلے ایک ہفتے میں 0.49 فیصد جبکہ سالانہ بنیادوں پر دس فیصد مہنگی ہو گئی ہیں،
جبکہ حکمرانوں کا راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے
میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ نوازشریف کے پورے خاندان میں ایک بھی ایسا انسان نہیں کہ جس کو شعوری طور پر قابل انسان کہا جا سکے۔ تعلیم تو دور کی بات ان کے اندر کسی بھی حوالے سے سطحی سا علم بھی نہیں۔ بس قوم کی بدقسمتی اور ضیاالحق کی بددیانتی کہ یہ خاندان اس ملک اور قوم پر مسلط ہوگیا۔ کبھی اس خاندان کے کسی فرد کو دیکھ کر یہ vibe آئی کہ بندہ بولے گا تو کچھ سیکھنے کو ملے گا؟؟
ساڑھے چار سال قبل پیٹرول 150، آٹا 60 روپے کلو دودھ 120 روپے لٹر،دالیں 170 روپے اوسطاً فی کلو تھی پھر تجربہ رکھنے والے مسلط کئے گئے آج پیٹرول 389 روپے لٹر آٹا 135 روپے کلو دودھ 260 روپے لٹر دالیں 350 روپے کلو چینی 150 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے اس تباہی کو بے شرم پاکستان ترقی کر رہا ہے کا نام دے رہے ہیں
جینوئن سیاسی کارکنوں کے ساتھ گفتگو کے سلسلے میں سنئیر صحافی احمد نورانی صاحب @Ahmad_Noorani کی پیپلزپارٹی کے جید کارکن ہمارے بڑے بھائی میر عمران شاہ صاحب @MeerImranShah سے سیاسی کلچر اور ضیاناالحق کے دور میں سیاسی جدوجہد پر گفتگو
ضرور سُنیں۔۔۔
لیاقت علی خان کا آئیڈیا تھا کہ
اب سب کچھ مہاجرین کا ہے لوٹ لو ہندئوں کو بھگائو ورنہ ساری عمر کیمپوں میں سڑتے رہوگے۔کامریڈ روچی رام اس قتل عام کےآنکھوں دیکھے گواہ ہیں پھر مہاجروں نے کراچی میں ہندئوں کا قتل عام کیا انکےکاروبار دولت حویلیوں یہاں تک کہ مندروں اورگردواروں سے سونا لوٹا.
اب جھوٹ نہیں چلے گا سوشل میڈیا کا سب سے زیادہ فائدہ یہی ہوا ہے کہ اب تم لوگوں کے جھوٹے بیانیوں کے جواب مل جاتے ہیں اور بیانیہ نہیں چل پتا کیوں کہ نہ تو یہ 80یز ہے اور نہ ہی 90یز......
1990 کے عام انتخاب بھی فارم 47 کے الیکشن تھے۔ صرف اس وقت چیزیں اتنی کھل کر سامنے نہیں آئی تھیں۔ اسوقت پیپلزپارٹی کو دھاندلی اور جعل سازی سے ہرا کر ن لیگ کی حکومت بنوائی گئی۔ 2024 میں بھی فارم47 کا فایدہ ن لیگ کو پہنچایا گیا۔
سارے کام چھوڑ کر حکومت کو پبلک ٹرانسپورٹ پر توجہ دینی چاہیے.
ایک آدھ روٹ کی بجائے ہر علاقے میں میٹرو اور اورنج ٹرین کے ذریعے پبلک ٹرانسپورٹ کا جال بچھایا جائے .
لوگوں کو اپنی گاڑی اور مہنگے پٹرول پر انحصار کم کرنے کا حقیقی متبادل فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے. اس سے نظم و نسق بہتر ہوگا ،فضائی آلودگی ، رش اور حادثات میں بھی کمی آئے گی .
گرفت بہ دل ہوں
“وہ بہادر پیپلز پارٹی کہاں چلی گئی ؟”
:
میں تو جیالا ہوں چاہے پارٹی اقتدار میں ہو یا کمزور ہو
لیکن بے باک بیان تک دینے پر تاویلیں ؟؟؟؟
نہیں ، نہیں
یہ نہ کرو
ہمارے بھٹو صاحب اور بی بی صاحبہ کا مان نہ توڑو