میں کچھ ہوسٹس یہ جانتے ہو بھی ری پوسٹ کرتا ہوں شاید یہ اصلی نہ ہو مگر اگر پاکستان کے دشمنوں کو اس تکلیف پہنچتی ہے تو میرے لیے پاکستان 🇵🇰❤️ ہمیشہ زندہ باد۔
🚨آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ مٹھی بھر بی ایل اے کے کارندے ریاست پر اچانک اتنی طاقت سے حملہ آور ہوگئے ہیں؟ کثیرجہتی حملے کرنے لگے ہیں؟
آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں کیوں کہ اتنی طاقت کیساتھ بی ایل اے حملہ آور نہیں ہوسکتی کیوں کہ ان بھگوڑوں میں اتنی جرات ہی نہیں ہے۔
درحقیقت پاکستان کے خلاف بھارت،افغان طالبان اور اسرائیل کا ٹرائیکا پراکسیز کے ذریعے لانچ ہوا ہے۔
اسرائیل عسکری،تکنیکی اور دیگر مدد فراہم کررہا ہے،بھارت منصوبہ بندی کرتا ہے،اسلحہ فراہم کرتا ہے اور افغان طالبان سرزمین فراہم کررہے ہیں۔یعنی پاکستان کے خلاف یہ ثلاثہ رکنی(تین رکنی) محاذ چھپ کر لانچ ہوا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا گزشتہ دنوں کوئٹہ میں مسافر ٹرین کے قریب خودکش دھماکہ ہوا تھا وہ دھماکہ بہت زوردار تھا
اُس دھماکے،کے فوری بعد ایک سی آئی اے کے سابق asset، ریسرچر،ڈیٹااینالسٹ لیری جانسن نے انکشاف کیا تھا کہ بی ایل اے نے یہ دھماکہ اسرائیل کی مدد سے کیا ہے۔
اب اسرائیل بی ایل اے کی مدد کیسے کررہا ہے؟ ظاہر ہے بھارت کے ذریعے مدد کی جارہی ہے،افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔
لیری جانسن نے ہی انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل کو پاکستان پر غصہ اس لئے ہے کیوں کہ پاکستان نے اُن کے عزائم پورے نہیں ہونے دیے،ایران کے خلاف جارحیت ثالثی کراکر رکوادی،جنگ بندی کرادی۔
دوسرا سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ بلوچستان کی اسرائیل کے لئے اسٹریٹیجک حثیت بہت اہم ہے وہ چاہتا ہے کہ وہاں بی ایل اے بیٹھ جائے،الگ ہوجائے اور پھر بلوچستان میں بیٹھی بی ایل اے کے ذریعے اسرائیل ایران سے محاذ آرائی کرے۔اس پر تفصیل اگلے ٹوئٹ میں ثبوتوں کیساتھ پیش کریں گے
ریاست نے ان دونوں کے ساتھ جو کیا، وہ بھی یاد ہے!
جب بی بی نے پہلا حلف اٹھایا، میں اسلام آباد میں ٹیبل ٹینس کھیلنے آیا ہوا تھا۔ ایچ نائن کالج سے پنجاب اربن ٹرانسپورٹ کی بس پر واپس پنڈی سٹیشن جا رہا تھا جب رستے میں جیالوں کا جشن دیکھا۔ بالکل یاد ہے۔ میرے مرحوم چچا، فیض الحسن بٹ اس وقت رو پڑے تھے جب اسلم بیگ نے بی بی کو سلیوٹ کیا کہ یار، یہ وقت تو کبھی سوچا ہی نہ تھا۔
پاکستان، شاندار وعدے کی سرزمین تھا۔ یہ اب بھی اپنا وعدہ رکھتا ہے۔ بس یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں کوئی اور جرنل باجوہ متاہر پر تیل شیل نہ مل رہا ہو۔
There are no more free lunches where you chuck information and term it as your own.
Since you claim to be a journalist, you can subscribe and pay and get access. Check the website.
As far as projects are concerned, Islamabad is small bubble everyone knows who works for which project, including you.