پیارے بیٹے حسان خان نیازی!
مجھے تمہارے حوصلے اور استقامت پر فخر ہے۔ تم نہ جھکے ہو، نہ ڈرے ہو؛ یہ قید زندگی بھر تمہارے لیے باعثِ فخر رہے گی۔وفاداری بشرطِ استواری اصلِ ایماں ہے۔
امتحان تمہارے سے زیادہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے تمہارے اوپر غیر قانونی غیر آئینی ظلم کے پہاڑ ڈھائے ہیں۔ دس سالہ قید میں سے تین سال گزر چکے ہیں؛ باقی سات بھی، اگر قسمت میں یہی لکھا ہے، ان شاء اللہ پلک جھپکتے گزر جائیں گے۔
آئین و قانون پامال کرکے تمہیں گرفتار کیا گیا اور ایک فوجی عدالت نے دس سال قید کی سزا سنا دی، مگر آج تک نہ جرم واضح کیا گیا، نہ دسمبر 2024 میں سنائے گئے فیصلے کی آج تک تفصیلات سامنے آئیں ہیں۔ایک دو سطری فیصلہ بھی جاری نہ ہونا اس پورے عمل کی کے کھوکھلے پن اور موجود ہائی برڈ نظام کی بے بنیاد حیثیت مستحکم کرتا ہے۔ اصل شکست پاکستان اور اس کے بچے کھچے نظامِ انصاف وقانون کی ہے۔
تمہیں سزا دینے اور انصاف سے محروم رکھنے والے اداروں میں بیٹھ کر اپنے حلف پامال کر رہے ہیں۔ بوٹ کی نوک اور کالے کوٹ کی آڑ میں آئین و قانون کو مفادات کی بھینٹ چڑھایا چکے ہیں۔ وسیع و عریض خلقِ خدا ان سے بیزار اور ان کے مکافاتِ عمل کی گرفت میں آنے کی منتظر ہے۔ پاکستان میں تاریخ بار بار دہرائی جا رہی ہے؛ ماضی کے جن جرنیلوں اور ججوں نے آئین سے کھلواڑ کیا، وہ باقی زندگی اپنی صفائیاں دیتے دیتے بالآخر قبروں میں جا اترے اور آج نشانِ عبرت ہیں۔
حسان بیٹا! تم اصولوں پر قائم ہو اور تمہاری عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک جہان تمہاری پامردی، بہادری اور استقامت کا معترف ہے۔ اللہ سے تعلق جتنا گہرا ہو، آزمائش سہنے کا حوصلہ اتنا ہی بڑھتا ہے، اور اس تعلق کی گہرائی کی نہ کوئی حد ہے، نہ حساب۔ قید کے اڑتیس ماہ میں تم نے تفہیم القرآن کی چھ جلدیں مکمل کیں، سیرت پر درجنوں کتابیں پڑھیں اور فقہ، تاریخ، سیاست، جغرافیائی سیاست اور تزویراتی امور کا وسیع مطالعہ کیا۔ دنیاوی آلائشوں سے دور رہ کر علم و دین سے اس تعلق کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھو۔
تمہیں قید کرنے والے خود عدمِ تحفظ کے اسیر ہیں؛ عہدے بچانے اور دنیاوی مفادات سمیٹنے کے لیے گناہ و جرم میں ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے ہیں۔ ایسوں لوگوں پر فیصلہ کی گھڑی آن پہنچی ہے اللہ کے ہاں دیر تو ہو سکتی ہے اندھیر نہیں ہے۔
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
@noshigilani خوش آئند بات ہے کہ ججز آتے جاتے رہتے ہیں؛ افسوس صرف یہ ہے کہ بعض فیصلوں کی گرد اتنی جلدی نہیں بیٹھتی۔ عوام کے حافظے میں پروٹوکول نہیں، انصاف کا معیار محفوظ رہتا ہے۔