رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کی ہلاکت کا پہلا سبب یہ بنا کہ کسی غریب کی بیوی اپنے شوہر سے ایسے کپڑوں یا زیورات کا مطالبہ کرتی جو امیر کی بیوی کرتی
السلسلہ الصحیحہ-۱۹۲۳-صحیح
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
(جامع ترمذی، ۲۱۶۹)
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :
اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔
صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو ( یہی اس کی مدد ہے ) ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر ٢٤٤٤)
17 تعلیمات رضا_Taaleem E Raza
کھانا کھاتے وقت جان کر خاموش رہنا کیسا؟
Khaana Khaate Waqt Jaan Kar Khaamoshi Ikhtiyaar Karna Kaisa?
https://t.co/6IgyoNRZ8E
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم معروف ( بھلائی ) کا حکم دو اور منکر ( برائی ) سے روکو، ورنہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیج دے پھر تم اللہ سے دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے“۔
(جامع ترمذی، ۲۱۶۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
جب کسی قوم میں علانیہ فحش ( فسق و فجور اور زناکاری ) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں۔
(سنن ابن ماجہ،۴۰۱۹)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تین دعائیں مقبول ہوتی ہیں ان میں کوئی شک نہیں ہے: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا اور بیٹے کے اوپر باپ کی بد دعا۔
(جامع ترمذی : 1905)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک کبیرہ گناہ یہ بھی ہے کہ ایک آدمی اپنے والدین کو گالیاں دے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ کوئی آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دے سکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا وہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دے اسی طرح وہ کسی کی ماں کو گالی دے
👇
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے ۔ اور جسے اس کے عمل نے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکتا ۔‘‘
(سنن ابی داؤد، ۳۶۴۳)
عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو، پھر کسی رات نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے ۔
سنن نسائی جلد ۱ ۱۷۸۷
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سو مرتبہ اللہ اکبر کہو، یہ تمہارے لئے نکیل ڈالی ہوئی مقبول اونٹنیوں کے برابر ہوگا ( جو تم اللہ کے راستے میں دو )
السلسلہ صحیحہ ٢٨٥٥