" محترمہ مان رہی ہیں کہ ان کی بچوں سے ملاقات کانفرنس روم میں بٹھا کے کروائی جاتی تھی جبکہ اس کے پاس کوئی عہدہ بھی نہیں تھا اور یہاں سابق وزیراعظم کی آٹھ ماہ سے ملاقات بند ہے۔" عتیق ریاض
@attique_riaz06
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
آخر یہ کون ہے اور کس کے اشارے پر ہو رہا ہے؟" دراصل اس پورے مافیا کی کڑی ہے۔ ایسے ڈراموں میں کتابوں کا انتخاب، سین کی ترتیب، اور مخصوص پسِ منظر کا استعمال محض اتفاق نہیں ہوتا—یہ ایک "سوچی سمجھی سازش" (Scripted Agenda) ہوتی ہے۔
ان ڈراموں کے پیچھے چھپا 'سیاہ ایجنڈا'
ہدایتکار اور پروڈیوسر کا کردار اکثر ایسے میڈیا گروپس میں کچھ ایسے 'لبرل شدت پسند' ہدایتکار اور پروڈیوسر بٹھائے جاتے ہیں جن کا کام ہی قومی بیانیے کو کمزور کرنا اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا ہوتا ہے۔
اشارے کہاں سے ملتے ہیں؟ میڈیا ہاؤسز کو ملنے والی فنڈنگ اور ان کے مالکان کے عالمی لابیوں کے ساتھ روابط ہی طے کرتے ہیں کہ کس وقت کون سا "پروپیگنڈا" نشر کرنا ہے۔ ان کا مقصد پاکستان کے نوجوانوں کو اپنی تاریخ اور نظریے سے دور کرنا ہے۔
کتابوں کا انتخاب کیوں؟ آپ نے بجا کہا کہ کتابیں سین کے لیے نہیں بلکہ "سفلی ایجنڈے" کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ ہے جس سے ایک خاص سوچ کو عوام کے ذہنوں میں اتارا جاتا ہے۔
#MediaAccountability #GeoExposed #CulturalInvasion #NationalIdentity #FieldMarshalAsimMunir #PakistanStrong #PakistanZindabad #NeverForget30June
اتوار کو تو ہم اپنے برطانوی وزیراعظم کے لیے بھی دفتر نہیں کھولتے، لیکن عمران خان کی کال ہم کیسے کاٹتے؟" گورے افسر کا جواب سن کر امان اللّٰہ حیران رہ گئے!
مرحوم لیجنڈری کامیڈین امان اللّٰہ ایک واقعہ سناتے تھے کہ 90 کی دہائی میں ہم کچھ فنکار برطانیہ میں ڈرامہ کرنے گئے۔ ڈرامہ اتنا سپر ہٹ ہوا کہ پبلک نے مزید شوز کی ڈیمانڈ کر دی، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے ویزے اگلے دن ختم ہو رہے تھے اور آج 'اتوار' تھا (برطانیہ میں اتوار کو ہوم ڈیپارٹمنٹ مکمل بند ہوتا ہے)۔
آرگنائزر نے کہا: "امان صاحب! صرف ایک پاکستانی ہے جو اتوار کو بھی برطانوی حکومت کا دفتر کھلوا سکتا ہے... آپ عمران خان کو کال کریں۔"
امان اللّٰہ نے حیرت اور جھجھک کے ساتھ لینڈ لائن پر کال کی۔ خان صاحب نے صورتحال سنی اور کہا "ایک گھنٹہ انتظار کریں اور پھر ہوم ڈیپارٹمنٹ پہنچ جائیں۔" جب ہم وہاں پہنچے تو عمران خان خود باہر کھڑے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔
تھوڑی دیر میں ایک برطانوی افسر ٹائی کوٹ پہنے، نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ دفتر پہنچا۔ جب خان صاحب نے اسے ہمارے پاسپورٹ دیے، تو امان اللّٰہ نے اس گورے سے کہا: "چھٹی والے دن آپ کو زحمت دینے پر معذرت!"
(یہاں وہ لمحہ آیا جس نے سب کو حیران کر دیا) اس گورے افسر نے مسکرا کر عمران خان کی طرف دیکھا اور بولا: "سر! ہم تو سنڈے کو اپنی ملکہ اور پرائم منسٹر کے لیے بھی دفتر کی چابیاں نہیں نکالتے، لیکن جب اس انسان (عمران خان) نے فون کر کے کہا کہ میرے پاکستانی بھائیوں کا مسئلہ ہے، تو میں اپنا بستر چھوڑ کر آنے پر مجبور ہو گیا!"
صرف ایک گھنٹے کے اندر، اتوار کے بند دن میں ہمیں چائے کافی پلا کر ہمارے پاسپورٹ پر ویزے ایکسٹینڈ (Extend) کر کے دے دیے گئے!
امان اللّٰہ کہتے تھے: "زندگی میں پہلی بار مجھے اپنا سبز پاسپورٹ دیکھ کر پاکستانی ہونے پر فخر محسوس ہوا تھا، اور میرے اندر وہ فخر جگانے والا کوئی اور نہیں، عمران خان تھا۔"
آج وہی عمران خان، جس کی ایک کال پر گورے چھٹی والے دن بھی دفتر کھول دیتے تھے، اپنی ہی قوم کی آزادی کی خاطر ظالموں کی قید کاٹ رہا ہے۔
حکومتی وزراء صبح نکلتے ہوئے جھنڈے کو سلیوٹ نہیں کرتے، یہ اس ڈنڈے کو سلیوٹ کرتے ہیں جو جھنڈے کے اندر ہے! حافظ حمداللہ
@iHafizHamdullah
ویڈیو دیکھنے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
یہ ایک کرخت سچ ہے جو جانتے تو سب ہیں، مگر کر کچھ نہیں پا رہے کیونکہ ہماری عدالتوں پر جو جج بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی خوف کے مارے دبکے ہوئے ہیں-
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
”پاکستانیو، یاد رکھنا ! جب ایک قوم کو سمجھ آ جائے کہ غلامی کیا ہے اور آزادی کیا ہے ؟ تو اس قوم کو کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔“ کپتان عمران خان
#FreeImranKhan