شہید اللہ بخش سومرو نے اپنی شہادت سے پہلے جو بات جی ایم سید سے کہی، وہ آج بھی لفظ بہ لفظ زندہ ہے:
"تم ہندوؤں سے غصہ کھا کر تقسیم کا ساتھ دے رہے ہو،
مگر ڈرو اُس وقت سے
جب انڈیا یو پی اور سی پی کی نوکر شاہی
اور
پنجاب کی اشرافیہ حکومت کرے گی،
سندھ کا جو حشر ہوگا
وہ وقت خود بتائے گا"
شبر زیدی جیسے لوگ بھی اس تباہی میں برابر کے شریک ہیں ۔ جب ہم جیسے معیشت سے نابلد لوگ یہ باتیں لکھ اور کہہ رہے تھے اور اس کی سزا بھگت رہے تھے تو شبر زیدی نے اس وقت ہمت کرکے یہ باتیں قوم کو کیوں نہیں بتائیں؟۔ اس ملک کا ایک بڑا مسئلہ اخلاقیات اور اخلاقی جرات کا فقدان ہے۔ جب بولنے کا وقت ہوتا ہے تولوگ بولتے نہیں اور جب بندہ چلاجاتا ہے تو پھر ہر کوئی افلاطون بن جاتا ہے۔
غالباً 9 سال پہلے سرگودھا میں پیر صاحب کا دعویٰ تھا :-
" وہ مرے ھوئے اپنے مرید کو زندہ کر دینے کی صلاحیت و قدرت رکھتا ھے" ۔
ایک دن قریبی گاؤں کے کچھ مرید پیر صاحب کے پاس جمع تھے، تو پیر نے پر جوش انداز میں کہا کہ:-
"اگر آپ میں سے کچھ لوگ مرنے کو تیار ھو جائیں تو وہ انہیں مار کر دوبارہ زندہ کر دے گا" ۔۔
7 افراد تیار ھو گئے۔۔ پیر صاحب انہیں کمرے میں لے گئے اور ساتوں کی گردنیں کاٹ دیں، سر باھر لا کر انکے رشتہ داروں کو دکھا دئے۔۔ اور تسلی دی کہ صبح یہ سب لوگ زندہ ملیں گے۔۔ رشتہ دار اور مجمع پیر صاحب کی علمیت کے نعرے لگاتا رھا۔۔ اور یقین کئے ھوئے تھا کہ یہ سب مقتول صبح صحیح سلامت ملیں گے۔۔
رات گئے کسی نے پولیس کو پوری واردات جا بتائی، 7 افراد کا قتل۔۔۔ پولیس کیسے خاموش رہ سکتی تھی۔۔ سینئر افسران سمیت پولیس فوراً جائے وقوعہ پہنچ گئی ۔۔ قاتل پیر صاحب کو گرفتار کر لیا گیا۔۔ پیر صاحب کے مزید مریدین بھی اکھٹے ھو گئے سب پیر کو قاتل ماننے سے انکاری تھے۔۔
صبح بھی ھو گئی ۔۔ مُردے زندہ نا ھوئے۔۔۔ اب مریدین نے کہنا شروع کر دیا کہ:-
"پولیس کی مداخلت کی وجہ سے پیر صاحب کا عمل مکمل نہیں ھو سکا، اسی لئے مُردے زندہ نہیں ھو سکے۔۔ ھمارے لوگوں کا قاتل پیر نہیں، پولیس ھے" ۔۔
لاکھ سمجھانے کے باوجود مقتولین کے رشتہ دار اور دیگر مریدین یہ ماننے کو تیار نہیں تھے کہ پیر صاحب مُردوں کو زندہ نہیں کر سکتا۔
کئی دنوں تک مریدین متعلقہ تھانے کے سامنے احتجاج کرتے رھے، کہ پیر صاحب کو رھا کریں اور مقتولین بھی واپس دیں، پیر صاحب انہیں زندہ کر دے گا۔۔
کئی دنوں کے بعد احتجاج کم ھوتا ھوتا ختم ھوا، لیکن کئی مریدین کا پیر صاحب کی کرامات پر یقین کمزور نا ھوا، وہ پولیس کو ہی زمہ دار سمجھتے رھے۔۔
_______ ______ _____
ایک عالمی ادارے نے خفیہ سروے کرایا ھے۔۔ جس کے مطابق 2018 میں عمران خان کی حمایت کرنے والوں میں سے 66% افراد سمجھ گئے ھیں کہ وہ غلطی پر تھے، انکے ساتھ دھوکا ھوا۔۔
لیکن 33% اب بھی "پیر صاحب" کی صلاحیتوں و کرامات پر یقین کئے ھوئے ھیں۔۔ انہیں یقین ھے کہ "پیر صاحب" جو "گردنیں" کاٹ چکا ھے وہ انہیں دوبارہ جوڑ کر مُردے زندہ کر دے گا۔
🤣🤣🤣🤣
میں جب وزیراعظم بنا تو چیف کو توسیع نہیں دونگا: 2010
ملک حالت جنگ میں ہے اسلیے باجوہ کو توسیع دے رہے ہیں: 2019
میری سب سے بڑی غلطی باجوہ کو توسیع دینا ہی ہے :2022
باجوہ کو مزید ایک سال کی توسیع دے دینی چاہیے :2022
اندازہ لگائیں یہ سارے بیان ایک ہی شخص کے ہیں۔
یہ کیا ہو رہا ہے سندہ میں ریاست کے
اندر افغان ریاست کب سے قائم ہو چکی ہے ؟؟
ایک میچ ہارنے پہ سندہ کے شہریوں کو یرغمال بنا کر پاکستان مردہ آباد کے نعرے لگوائے گئے وڈیو بنائی
ریاست کہاں ہے کیا کسی دوسرے ممالک میں بھی ایسا کر سکتے ہیں ؟؟؟
اس میں پی ٹی آئی کے دوسرے ارکان کیلئے بھی سبق ہے، آپ عمران خان کے کہنے پر تمام حدود تو کراس تو کر لیتے ہیں مگر بعد میں آپکو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔افواج پاکستان ہمارے ملک آن اور شان ہے، خدارا ان کو جھوٹے پروپیگنڈے سے دور رکھیں۔۔