یہ وہ شخص ہے لوگو جس کو سیز فاںٔر کے بعد 300 دفعہ گرفتار کیا گیا. 6 قاتلانہ حملے ہوۓ.پولیس کے تشدد سے کان کی سماعت بھی چلی گںٔی اور اپنی ساری زندگی جیل میں گزار دی۔یہ تمام ظلم سہنے کے باوجود اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا ۔ہم نے عشق کے بہت قصیدے سنے اور پڑھے لیکن اپنی أنکھوں سے جو عشق دیکھا وہ یاسین ملک کا عشق ہے جو اس نے کشمیر کی آزادی سے کیا اور اس عشق کی کوئی انتہا نہیں ہے💔
#ReleaseYasinMalik #Kashmir
میں برطانیہ انگریزی سیکھنے آگئی لیکن یہاں آ کر دیکھا سارا برطانیہ اس کی دیوانی ہے جس کی میں بھی دیوانی ہوں۔
اس بے وفا نے آگر تیسری شادی بشری سے کرنی تھی تو کیا میں مر گئی تھی
بشری انصاری نے تو آگ لگا دی 🔥
حبیب جالب کا قرض واپس کریں اسکی بیٹی کا مان بڑھایں۔ کھانا طاہرہ حبیب سے منگوایں
🌿 TJ’s Fresh Bites 🌿
Fresh Bites & Lunchbox Service
لنچ باکس، روزانہ کے کھانے اور خصوصی آرڈرز کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
📞 آرڈر کے لیے:
0300-4514686
📱 واٹس ایپ:
0311-4139498
🛵 ڈیلیوری دستیاب ہے
Sales on Autopilot
Launch in 2 minutes with your website link. The agent finds the people who need your product and talks to them until they are ready to talk to you.
یاسین ملک نے اپنی ماں سے کہا میرے لئے وکیل نہ بھیجنا میں ان ظالموں سے زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا ، یاسین ملک کی بہن نے اس انٹرویو میں بتایا ہے کہ یاسین ملک کو سرلا بھٹ کے قتل میں ملوث کرنے کا بہت دُکھ ہوا کیونکہ انہوں نے ہمیشہ کشمیری ہندوؤں کو پیار دیا تھا صحافی بار بار مشعال ملک کے بارے میں سوال کرتا رہا یاسین ملک کی بہن نے اپنی بھابی کا بھی بھرپور دفاع کیا
پہلے دن سے مطالبہ تھا کہ جس پر الزام لگا ہے اسے معطل کریں کسی بھی جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا کہ عوام نمائندے پر الزام لگے اور وہ عہدہ نہ چھوڑے ،قانون پر اعتبار کر کہ آنکھیں بند کرلیں تھیں کرسی پر بیٹھے لوگوں نے کہا کہ ہمیں دونوں سائڈ کا پتہ ہے ، اس کیس کو نہیں چھوڑوں گی چاہے کچھ ہو جائے ۔۔۔۔
مومنہ اقبال
سلیمان سہیل اس ملک کا ایک پڑھا لکھا، باشعور نوجوان شہری ہے، جس کی عمر صرف 19 سال ہے۔
اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ Generation Z کو شعور دیتا تھا۔ وہ حکومت کی ہر نااہلی اور غلط پالیسی پر سوال کرتا تھا، اپنی رائے کا اظہار کرتا تھا، اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہونے والے ظلم اور ناانصافی کے خلاف بھی اپنی آواز بلند کرتا تھا۔
کیا سوال کرنا جرم ہے؟
کیا شعور دینا جرم ہے؟
کیا ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا جرم ہے؟
آج اسے جبری طور پر غائب کیے تیسرا دن ہو چکا ہے۔
یہ صرف 19 سال کا ایک نوجوان نہیں…
یہ اس ملک کا روشن مستقبل ہے۔
یہ کسی ماں کا لختِ جگر ہے۔
یہ کسی گھر کا چراغ ہے۔
اس کے پیچھے ایک خاندان ہے جو اپنے بچے کی واپسی کے انتظار میں ہر لمحہ کرب سے گزر رہا ہوگا۔ 💔
سلیمان سہیل کی آواز بنیں، کیونکہ آج سلیمان ہے… کل کوئی اور بھی ہو سکتا ہے 🙏🏻
#ReleaseSulemanSohail
#StopEnforcedDisappearances
بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند انسان، خان کا ساتھی، رمیض راجہ چھا گیا، کھل کر گندے سسٹم کے خلاف کھڑا ہوگیا، ویڈیو پیغام جاری کردیا 🔥🔥
بس اب بہت ہوگیا، سب پاکستانی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے کرپٹ لوگوں سے، اس ملک کی جان چھڑوانے میں عمران خان کی مدد کریں۔ آؤ اس سسٹم کو شکست دیں۔ ناکام لوگوں کو گھر بھجیں۔ انکا احتساب کریں۔ اپنا حق ان سے چھین لیں، خاموشی اب ختم کرو۔
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
نوجوان سلیمان سہیل پاکستان کے ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور کارکن ہیں جو (Gen Z Rights Movement) سے وابستہ ہونے،سلیمان سہیل کوحقوق کی پامالیوں پر بات کرنے پر لاپتہ کر دیا گیا ہے،نوجوان کے لیے آواز
سلمان سہیل جو ایک معروف سوشل میڈیا انفلونسر اور نوجوانوں میں مقبول یوتھ آئیکون ہیں پہلے ان کے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بند کیا گیا پھر انہیں جم جاتے ہوئے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا اور اب ان کے والد صاحب کو بھی اٹھا لیا گیا ہے
میری ان کی فیملی سے جب گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ نہ سلمان گھر میں موجود ہیں اور نہ ان کے والد صاحب گھر پر ہیں جبکہ ایک اکیلی والدہ تنہا یہ سوال کر رہی ہیں کہ آخر ہم نے ایسا کون سا سنگین جرم کر دیا ہے کہ ایک ہی گھر کے دو افراد کو اٹھا لیا گیا ہے
سلمان سہیل کے والد صاحب خود ایک ریٹائرڈ آرمی افسر ہیں
یہ سلیمان سہیل ہے جو ہمیشہ مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے مگر آج جب خود اس کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تو طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں
ذرا ایک لمحے کے لیے اس ماں کا سوچیے جس کے گھر میں اس وقت نہ اس کا بیٹا موجود ہے نہ اس کا شوہر
اپنے اختلافات بھول جائیے اور اگر سلیمان سہیل کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لیے آواز بلند کیجیے
سلیمان سہیل کی مبینہ گمشدگی پر تشویش، فوری وضاحت اور قانونی تحفظ کا مطالبہ
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان نے نوجوان سماجی کارکن سلیمان سہیل کی مبینہ گمشدگی اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غیر فعال ہونے سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اختلافِ رائے، تنقید اور پُرامن اظہار ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کسی شخص کے خیالات یا ریاستی پالیسیوں پر تنقید کو اس کے قانونی و آئینی حقوق سے محرومی کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ سلیمان سہیل کے بارے میں فوری طور پر ان کے اہلِ خانہ اور عوام کو آگاہ کیا جائے۔ اگر وہ کسی ریاستی ادارے کی تحویل میں ہیں تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، وکیل اور خاندان تک رسائی دی جائے اور مکمل Due Process یقینی بنایا جائے۔
کسی شہری کو قانون سے ماورا لاپتا رکھنا آزادیِ اظہار، شخصی آزادی اور انسانی وقار کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔
آواز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، آواز کو غائب نہیں کیا جا سکتا۔
Human Rights Council of Pakistan (HRCPakistan)
#SuleimanSohail #HumanRights #FreedomOfExpression #RightToDueProcess #CivilLiberties #Pakistan #HRCPakistan #EndEnforcedDisappearances