رسول الله صلی علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سبحانه اپنے بندے كو مال دےکر آزماتا ہے۔ جو شخص اپنے لئے اللہ كی تقسیم پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے اس مال میں بركت فرمادیتا ہے اور كشادگی كردیتا ہے اور جو شخص راضی نہیں ہوتا اس كے لئے اس كے مال میں بركت نہیں دی جاتی۔
السلسلہ صحیحہ ١٣٣٤
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو ان میں قتل عام ہوجاتا ہے، جب کسی قوم میں فحاشی عام ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر موت کو مسلط کردیتا ہے اور جب کوئی قوم زکوٰۃ کی ادائیگی روک لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔
(السلسلۃ الصحیحۃ، ۱۷۸۳)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے بستر پر جائے اور یہ کلمات کہے تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ چاہے سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں
*لَا إِلَه إِلَا الله وَحْدَه لَا شَريك لَه، لَه الْملَك وَلَه الْحَمْد وَهو عَلَى كُل شَيْء قَدِير*
*لَا حَوْل وَلَا قُوة إِلَا بِالله*
*سُبْحَان الله وَالْحَمْد لِلهِ وَلَا إِلَه إِلَا الله وَالله أكبر*
السلسلہ صحیحہ ٤١٥
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کر کے یا کسی اور معاملے میں اس پر ظلم کیا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ آج ہی (دنیا میں) اس سے معافی مانگ کر اپنے آپ کو فارغ کر لے، اس دن سے پہلے جب کوئی دینار اور درہم کام نہیں آئے گا۔ (اگر اس نے دنیا میں معافی نہ مانگی) تو اگر اس کے پاس نیک اعمال ہوں گے تو اس کے ظلم کے بقدر اس سے نیکیاں لے لی جائیں گی، اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ لے کر اس (ظالم) پر ڈال دیے جائیں گے۔“*
صحیح بخاری #2449*
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایات ہیں کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا روزانہ اپنے اوپر صدقہ کروں تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں صدقہ کیسے کروں، میرے پاس تو مال ہی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک صدقات کے دروازے یہ ہیں اَللّٰہُ اَکْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ
(یعنی ان اذکار کو پڑھنے پر صدقے کا ثواب ملتاے)
مسند احمد ٣٦١٤
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے ، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے ۔
سنن ابن ماجہ - ٤٥٢٩ -حسن
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
طاقتور مومن الله کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے، جبکہ خیر دونوں میں موجود ہے.
جس چیز سے تمہیں نفع پہنچے اُس میں حرص (رغبت) کرو، اور الله سے مدد مانگو، اور کمزور نہ پڑو (مایوسی، سُستی کابلی نہ کرو.)
اور اگر تمہیں کوئی نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ کاش اگر میں یہ کرتا تو اس، طرح اس طرح ہوتا، بلکہ یہ کہو: "(یہ) الله کی تقدیر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے."
اس لئے کہ (حسرت سے لفظ) "اگر" (کہنا) شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے.
مسلم 6774 (ماجہ 4168، 79؛ حبان 5721، 5722؛ بیہقی 20173؛ مشكوة 5298)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"کسی کے گناہ گار ہونے کے لئے یہی عمل کافی ہے کہ اپنے مملوک کے حق کو روک کر بیٹھ جائے."
(مملوک: جن کے نان و نفقہ، کفالت، اخراجات کا وہ ذمہ دار ہو. یعنی اپنے ان فرائض میں غفلت کرے).
مسلم 2312
(ابوداؤد 1692؛ مشکوٰۃ المصابيح 3346)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن حاضر کیا گیا ( پانی کا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ( مدینہ کے نزدیک ) مقام زوراء میں تشریف رکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں ہاتھ رکھا تو اس میں سے پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹنے لگا اور اسی پانی سے پوری جماعت نے وضو کیا۔ قتادہ نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ تین سو رہے ہوں گے یا تین سو کے قریب رہے ہوں گے۔
صحیح بخاری جلد ۵ ۳۵۷۲
صلح حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جو پانی آپ کے سامنے ہے، اس پانی کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ چھاگل میں رکھ دیا اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے چشمے کی طرح پھوٹنے لگا اور ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔
صحیح بخاری جلد ۵ ۳۵۷۶
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے معجزات کو ہم تو باعث برکت سمجھتے تھے اور تم لوگ ان سے ڈرتے ہو۔ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور پانی تقریباً ختم ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ بھی پانی بچ گیا ہو اسے تلاش کرو۔ چنانچہ لوگ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ برتن میں ڈال دیا اور فرمایا: برکت والا پانی لو اور برکت تو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹ رہا تھا اور ہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھاتے وقت کھانے کے تسبیح سنتے تھے۔
صحیح بخاری جلد ۵ ۳۵۷۹
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
’’ انصاف کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ہاں نور کے منبروں پر رحمٰن کی دائیں جانب ہوں گے۔ جو عدل کرتے ہیں اپنے فیصلوں میں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اور اپنی رعایا کے ساتھ ۔‘‘
(سنن نسائی، ۵۳۸۱)
قالَ النبی ﷺ:
دو بھوکے بھیڑیئے اگر بکریوں کے ایک ریوڑ میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ اُس ریوڑ کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا نقصان آدمی کی "مال" کی حرص (لالچ) اور "شرف" (عہدے، جاہ و منصب، شہرت، عزت و مرتبہ) کی حرص اُس کے دین کو پہنچاتی ہے.
ترمذی 2376
(مسند احمد 15876؛ مشکوٰۃ 5181)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔
صحیح بخاری جلد ۷ ۶۳۴۲
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں قیامت کے دن جنت کے دروازے پر آؤں گا او ردروازہ کھلواؤں گا ۔ جنت کا دربان پوچھے گا : آپ کون ہیں؟میں جواب دوں گا : محمد! وہ کہے گا : مجھے آپ ہی کےبارےمیں حکم ملا تھا ( کہ ) آپ سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں ۔ ‘ ‘
صحیح مسلم جلد ۱ ۴۸
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
کوئی شخص جس کو الله تعالیٰ نے کسی بھی رعیت کا ذمہ دار بنایا، وہ جس دن مرے اِس حال میں مرے کہ وہ اپنی رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والا ہے، تو الله تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا.
مسلم 4729
(مسلم 364، 363؛ بخاری 7150، 7151؛ مشکوٰۃ 3686)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
میرے بعد ایسے امام (حکمران اور رہنما) ہوں گے جو نہ تو میری ہدایت و طریق سے راہنمائی لیں گے، اور نہ میری سنت کے مطابق عمل کریں گے. اور ان میں کچھ ایسے آدمی ہوں گے جن کی جسم انسانی، (لیکن) دل شیطانوں کے دل ہوں گے.
مسلم 4785
(مشکوٰۃ 5382)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
ایک آدمی راستے پر چلا جا رہا تھا، اُس نے راستے پر ایک کانٹے دار ٹہنی (شاخ) دیکھی تو اُسے ایک طرف ہٹا دیا. الله تعالیٰ نے اُسے اس کا انعام دیا اور اُس کی مغفرت فرما دی.
بخاری 652، 2472
(مسلم 6669، 4940؛ ترمذی 1958؛ موطا امام مالک 292؛ مشکوٰۃ 1904)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، بال مونڈنے والا آپ کےسرکےبال اتاررہاتھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کے اردگرد تھے ، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کاکوئی بھی بال ان میں سے کسی ایک کے ہاتھوں کےعلاوہ کہیں اورگرے ۔
صحیح مسلم جلد ۶ ۶۰۴۳
ابی جحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمہ میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے ہیں اور ہر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نہ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا۔
صحیح بخاری جلد ۱ ۳۷۶
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان کی والدہ ) ام سلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ( اور بیدار ہوئے ) تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور ( جھڑے ہوئے ) آپ کے بال لے لیے اور ( پسینہ کو ) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر «سك» ( ایک خوشبو ) میں اسے ملا لیا۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس «سك» ( جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا ) میں سے ان کے حنوط میں ملا دیا جائے۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے حنوط میں اسے ملایا گیا۔
صحیح بخاری جلد ۷ ۶۲۸۱
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہوگا کہ اُس نے کیوں قتل کیا، اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا کہ اُسے کس بات پر قتل کیا گیا.
مسلم 7303
حضرت ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں:
ایک رات نبی ﷺ نکلے اور حضرت ابوبکر ؓ کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اُن کی آواز دھیمی تھی. اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس سے گزرے، وہ بھی نماز پڑھ رہے تھے، اُن کی آواز بلند تھی.
جب وہ دونوں نبی ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا، تم نماز پڑھ رہے تھے اور تمہاری آواز دھیمی تھی؟" اُنہوں نے کہا: اے الله کے رسول! میں نے جس سے مناجات کی، اُسے سنایا (یعنی الله پاک کو). پھر آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا: "میں تمہارے پاس سے گزرا، تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے؟" اُنہوں نے کہا: اے الله کے رسول! میں سوتے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا.
نبی ﷺ نے فرمایا: "ابوبکر! اپنی آواز کچھ بلند رکھو." اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا: "تم اپنی آواز کچھ دھیمی رکھو."
ابوداؤد 1329 (ترمذی 447؛ حاكم 1168؛ خزیمہ 1161؛ حبان 733؛ بیہقی 4700؛ مشکوٰۃ 1204)
[سورۃ اسراءیل، 17:110] ترجمہ: کہہ دو کہ چاہے تم الله کو پکارو یا رحمن کو پکارو، جس نام سے بھی (الله کو) پکارو گے (ایک ہی بات ہے) کیونکہ تمام بہترین نام اسی کے ہیں. اور تم اپنی نماز نہ بہت اونچی آواز سے پڑھو، اور نہ بہت پست آواز سے، بلکہ ان دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار کرو.
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت کے زمانے میں کاہن رہے ایک شخص سے پوچھا غیب کی جو خبریں تمہاری جنیہ تمہارے پاس لاتی تھی، اس کی سب سے حیرت انگیز کوئی بات سناؤ؟ شخص مذکور نے کہا کہ ایک دن میں بازار میں تھا کہ جنیہ میرے پاس آئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے، پھر اس نے کہا جنوں کے متعلق تمہیں معلوم نہیں۔ جب سے انہیں آسمانی خبروں سے روک دیا گیا ہے وہ کس درجہ ڈرے ہوئے ہیں، مایوس ہو رہے ہیں اور اونٹنیوں کے پالان کی کملیوں سے مل گئے ہیں عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سچ کہا۔ ایک مرتبہ میں بھی ان دنوں بتوں کے قریب سویا ہوا تھا۔ ایک شخص ایک بچھڑا لایا اور اس نے بت پر اسے ذبح کر دیا اس کے اندر سے اس قدر زور کی آواز نکلی کہ میں نے ایسی شدید چیخ کبھی نہیں سنی تھی۔ اس نے کہا: اے دشمن! ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد مل جائے ایک فصیح خوش بیان شخص یوں کہتا ہے لا الہٰ الا اللہ یہ سنتے ہی تمام لوگ ( جو وہاں موجود تھے ) چونک پڑے ( چل دئیے ) میں نے کہا میں تو نہیں جانے کا، دیکھو اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ پھر یہی آواز آئی ارے دشمن تجھ کو ایک بات بتلاتا ہوں جس سے مراد بر آئے ایک فصیح شخص یوں کہہ رہا ہے لا الہٰ الا اللہ۔ اس وقت میں کھڑا ہوا اور ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے یہ ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے سچے رسول ہیں۔
صحیح بخاری جلد ۵ ۳۸۶۶