ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
حرم پاک بھی ایک۔۔۔ اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں تو کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اللہ تعالیٰ جل جلالہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
@ZainNaqvi70@jokkeerrr2 آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ایمان کا حصہ ہے
اس پہ کسی فرقے میں اختلاف نہیں ہے
کوئی بھی اس پر اجارہ داری نہ دکھائے
بحث سے گریز کریں
نہیں لنگدا وقت وچھوڑے دا
بن یار گزارا کون کرے
❍ ⟡ ❍
دنیا تو کنارہ ہو سکدا
یاراں تو کنارہ کون کرے
❍ ⟡ ❍
اک دن ہوئے تے لنگ جاوے
بلھیا ساری عمر گزارا کون کرے
#اردو_زبان
جسے دعویٰ ہو..... غلامیء مصطفیٰ کا
وہ غلط راہ پر ۔۔.....۔۔۔۔۔۔جا سکتا نہیں
جس دل میں .....۔۔تھوڑا بھی بغض ہو
اس میں عشقِ مصطفیٰ سما سکتا نہیں
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نشتر فی البدیہ
قاصد میں جل رہا ہوں تو ان کو جلا کے آ
ان کے بغیر ___ ٹھیک ہوں ان کو بتا کے آ
کہنا انہیں کہ بن تیرے رہنے لگے ہیں وہ
کچھ جھوٹ مـوٹ بول کے اُن کو ڈرا کے آ
#داستان_دل
ہر چند کہ وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مانندِ ماہتاب ہے
گلشن میں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر کالا گلاب ہے
لگتا نہیں۔۔۔۔۔۔ ہو وہ ہمارے نصیب میں
بس یوں سمجھئے وہ خیال وخواب ہے
نشتر فی البدیہ
اے حسن اپنی حوصلہ افزائیاں تو دیکھ
مانا کہ چشم شوق بہت بے حجاب ہے
میں عشق بے نیاز ہوں، تم حسن بے پناہ
میرا جواب ہے نہ تمہارا جواب ہے
#سویرا_کی_ڈائری_سے#قومی_زبان
جو نقش ِ قدم میرے مٹانے کو چلے ہیں
تقلید مری میرے تعاقب سے کریں گے
ہر جھوٹ یقیں جیت کے بیٹھا ہے سو احمد
حق بات بھی اب لوگ تذبذُب سے کریں گے
ڈاکٹر احمد خلیل
#اردو
@urdu_poetry_lov میں یہ کہنا چاہ رہا تھا
کہ بہت بڑے شاعر سے بھی ادبی غلطی ہو سکتی ہے
اس غزل پر 40 سال پہلے میرا مہدی حسن سے مکالمہ ہوا تھا
انہوں نے لاجواب ہو کر کہا کہ یہ بات فیض صاحب سے پوچھیں
دوسری بات یہ کہ ٹویٹر پر موجود نام نہاد دانشور غور ہی نہیں کرتے
بہت سے لوگوں کو سانپ سونگھ گیا
آپ 90 پرسنٹ درست
جب کعبہ بتوں سے پاک ہو گیا تو دوبارا ان کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
اس طرح کا استعارہ بھی شرک ہے
ہاں یوں ہو سکتا تھا
جیسے بچھڑے ہوئے مندر میں صنم آتے ہیں
Am I right ?
آپ نے جو “کھٹک” محسوس کی، اس شعر میں بنیادی تضاد یا پہلو میری رائے میں تو توحید (کعبہ) اور شرک (صنم) کا تضاد
کعبہ اسلام میں توحید کا سب سے بڑا مرکز اور علامت ہے، جہاں کسی بھی صورت میں بت (صنم) کی گنجائش نہیں۔ دوسری طرف “صنم” محبوب کا استعارہ ہے جو شرک اور بت پرستی کی علامت ہے۔