اسلام آباد ہائی کورٹ نے صدر اور وزیراعظم کو ان کے سیکرٹری کے زریعے نوٹس جاری کر کے کل تک جواب طلب کر لیا جبکہ وزارت قانون سے بھی جواب طلب کیا گیا ہے جسٹس ارباب طاہر نے ریمارکس دیے آخر ہو کیا رہا ہے اس طرح ججز سمری کو پاس نہیں رکھا جا سکتا اب تو 18 دن گزر چکے.
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ صدر اب سمری کو مسترد بھی نہیں کر سکتا جبکہ وکیل زاہد آصف چوہدری نے موقف اختیار کیا آئین اس حوالے سے واضح ہے وقت گزر جائے تو اس کے قانونی نتائج مرتب ہوتے ہیں صدر اس طرح سمری نہیں روک سکتا.
پہلے روس سے کان پھڑوائے پھر امریکہ سے کان چھیدوائے پورا ملک تباہی بربادی کا منظر پیش کررہا ہے اور بارود کی بُو ہر جانب فضا میں پھیل چکی ہے خانہ جنگی کا شکار ہے عورتیں بنیادی حقوق سے محروم ہے گھر گھر غربت ناچ رہی ہے لاء اینڈ آرڈر تباہ ہوچکا ہے مختلف گروہ آپس میں خانہ جنگی میں مصروف ہیں اور وہ منظر یاد ہو گا جب بہادر افغانی کابل ائیرپورٹ پر امریکی جہازوں سے لٹک کر ملک سے بھاگنا چاہتے تھے
زن فروش ناجائز فروش ڈرگ ڈیلر آج ہمیں باتیں سنائیں گے
پاکستان کی تاریخ سے سب سے بھیانک معاہدے آئی پی پیپز والے ہیں یہ ہمارے سیاستدانوں نے کیے اس کی وجہ سے آج پاکستان کی معیشت اور ایک عام آدمی کا بجٹ دونوں تباہ ہیں
صرف اس معاہدے کی وجہ سے جو جو ذمہ دار اس پر قیامت تک لعنت برسے گی
اُس کے کہنے سے سسٹم collapse کر جاتا ہے ؟ اُس کی تقریر میں نے سنی ہے اُس کی ایک بات دوسری بات سے میچ نہیں کرتی وہ سسٹم سے شروع ہوا مُلک کو بٹھا گیا وہاں سے وہ پرائم منسٹر تک پہنچا وہاں سے وہ ریڈ لائن تک پہنچا اور وہاں سے بزنس مین تک پہنچا اور انہیں کہا الیکشن لڑیں اور پھر سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے بیٹھنے کا مشورہ دے دیا 😂😂😂
انارکلی بازار،یونیورسٹی،میو ہسپتال اور اطراف میں گاڑیوں کا اتنا رش رہتا تھا کہ پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا تھا اس پلازہ کے بننے سے لوگ اپنی گاڑیاں یہاں کھڑی کر کے اطمینان سے جہاں مرضی جائیں گاڑی چوری کا بھی ڈر نہیں ہو گا یہ وزیراعلیٰ پنجاب کا بہت اچھا منصوبہ ہے.
کوہ سلمان:یہ وہ علاقہ ہے جہاں لوگ پینے کا پانی کئی کئی کلومیٹر دور سے لاتے تھے،خصوصا مائیں،بہنیں اور بیٹیاں یہ مشقت کرتی تھیں،مریم نواز نے ہزاروں ماؤں اور بیٹیوں کی مشقت ختم کردی۔شکریہ مریم نواز
جواد نقوی کی جیب میں پاکستانی پاسپورٹ ہے لیکن دلی محبت ایرانی مجوسیوں سے ہے شناخت پاکستان نے دی لیکن عشق ایران سے ہے اور یہ شخص پاکستان میں بیٹھ کر پاکستان سعودیہ ترکیہ دفاعی معاہدہ پر زہر اگل رہا ہے
آخر وجہ کیا ہے کہ ایرانی مجوسی ٹولہ اس معاہدہ پر تڑف رہا ہے
اس ویڈیو پر بنگلہ دیش میں قوم پرستوں کی چیخیں اور آہیں نکل رہی ہیں!
پاکستان سے الگ ہونے کے 55 سال بعد ایک مرتبہ پھر سے بنگلہ دیشی فوج نے "جوئے بانگلہ" نعرے کی بجائے نعرہ تکبیر بلند کرنا شروع کردیا۔
اندرا گاندھی، قائد اعظم محمد علی جناح کا نظریہ اسلام آج بھی زندہ ہے۔
انڈیا بہت بڑی اکانومی معیشت بہت تیزی سے ترقی بھی کر رہی سات سو ارب ڈالر کا خزانہ بھی مگر آپ انڈیا کے دارلحکومت دہلی کی حالت دیکھ لیجئے
جو یورپی یوٹیوبر وہاں جاتے وہ کہتے دہلی دنیا کے گندے ترین شہروں میں ہے
بڑی بریکنگ: ترکی کے وزیر خارجہ نے مکہ دفاعی معاہدہ کی تفصیلات بتا کر سب کو حیران کر دیا۔۔
ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل پانچ جیسا ہی ہے۔۔
نیٹو کی طرح وزرا کی مشترکہ کمیٹی ہوگی اسی طرح ایک سیکرٹریٹ ہو گا۔۔
ایران کے حوالے سے معنی خیز بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "کوئی ملک ہدف نہیں ہے جب تک کہ وہ معاہدےمیں شامل ملک پر حملہ نہ کرے"
مصر بھی تکنیکی معاملات طے ہونے پر فوجی اتحاد میں شامل ہو گا۔۔
شہلا صاحبہ نے اتنا زور لگایا اتنا زور لگانے سے پہلے ذرا یہ تو سوچتی کہ وہاں کا وزیر اعظم کس کا تھا ؟جو ریوینیو آفیسرز لگائے گئے تھے کس نے لگائے پولنگ اسٹیشن کس نے لگائے ہوئے تھے ؟تمام انکے لگائے ہوئے تھے اپنے وزیر داخلہ سے پوچھیں اپنے وزیر اعظم سے پوچھیں،
الیکشن کمیشن کو جو تمام چیزیں ملتی ہیں وه انڈیا کی حکومت یا چین کی حکومت نہیں دیتی کشمیر کی حکومت دیتی ہے،
سندھ میں اگر اوپر 12 ایم این اے ایم کیو ایم کے بیٹھے ہیں اور نیچے انکے ایم پی ایز بیٹھے ہیں تو وہاں یہ فارم 47 کا شور نہیں کرتے،
مولانا کا رونا بھی یہی ہے کے پی کے میں پی ٹی آئی نے انکا ووٹ چھینا ہے ہمارے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے پی ٹی آئی والوں نے ،
کہتے ہیں ملک میں بولنے کی اجازت نہیں،زباں بندی ہے،
سب بکواس ہے،،
جتنی اس ملک میں آزادی ہے،دنیا میں کہیں اور نہیں۔۔
جس کتی کے بچے کا دل کرتا ہے، وہ حرامزادہ اس وطن کے خلاف بھونکتا ہے،بکواس کرتا ہے،کبھی ایرانیوں کی محبت میں،تو کبھی یہود کے عشق میں،
اور مجال ہے اسے کوئی پوچھے۔۔!!
واہ بھئی کیا بات ہے👌🏼
وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کا لاہور میٹرو ٹی کیش کارڈ اب بیرون ملک بھی قابل استعمال ہو سکتا ہے۔
ایسے ہی نہیں کہتے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے۔
آج یوتھیے چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ اسٹیٹ کسٹڈی میں طبیعت خراب ہو جائے تو اُسے اسپتال داخل کرنا ضروری ہو جاتا ہے جبکہ یہی گندی نسل والے اُس وقت ہمیں بیماری کا بہانہ بنانے کے طعنے دیتے تھے
اچھا ہے اچھا ہے ہم آج یہ دن دیکھ رہے ہیں بیماری کے نام پر NRO کی بھیگ مانگ رہے ہو ؟