@bbcnewspunjabi Koi ghoorta nhi hamry city Mai tou boht respect krty hain even Jahan traffic zyda ho help b krty hain aur guide bhi.. 98% log achy hi milty hain
@GFarooqi Baji sochny wali BAAT ye b hai k jis wardi ko dur sy daikh k nojwaan izzat aur ahtraam daity thy aisa Kya ho gya k us wardi py hath utha liya???
@zeshmohmand Exactly.. wohi old script cheekh cheekh k bolny wala aik insaan salan Mai paani mix kr k bloody bloody bol k pilwana.. to b honest ye sab daikh k koi b maa apny baity es haal Mai na daikh sakay
8500 روپے میں مہینے کا بجٹ:
دو بچوں کی سکول فیس: 150 روپے
بجلی کا بل: 58 (اٹھونجا) روپے
گیس کا بل: 30 روپے
پانی کا بل: 5 روپے
پٹرول کا خرچہ: 300 روپے
گھر کا کرایہ: 150 روپے
کچن/گروسری: 800 روپے
شادی بیاہ سالگرہ وغیرہ: 400 روپے
ٹوٹل ماہانہ اخراجات: 1893 روپے
ماہانہ بچت: 6607 روپے
ہر مہینے اتنی بچت ہو جائے گی کہ ایک لاکھ اکیاون ہزار سال بعد ہر شخص اپنا ذاتی گلف سٹریم جہاز ✈️ خرید سکے گا!
آپ کو بتایا جاتا ہے کہ وہاں فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ، وہاں باڈی کاونٹ درجنوں میں چلتا ہے ، وہاں لڑکیاں لڑکے ہر وقت نشے کرکے دنیا و ما فیہا سے بے خبر پڑے رہتے ہیں ، وہاں بڈھوں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں ، اولاد کو پتہ ہی نہیں وہ کس کس باپ میں سے ہیں ، والدین کو اولاد کی پرواہ نہیں۔ آپ نے مغرب سے متعلق سب ایسا ہی سنا ہے نا؟
آپ نے جو سنا ہے وہ سب بکواس ہے۔ مڈل کلاس آدمی ہفتے میں بس پانچ دن آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے۔ سردیاں ہیں تو گھروں میں ہیٹ ہر وقت آن رہتی ہے۔ زیادہ تر مغربی ممالک میں ایک دن کی آمدن سے دس کلو کا آٹے کا تھیلا ، تین چار کلو گوشت ، چار پانچ بوتلیں دودھ ، دس بیس ڈائپرز ، گاڑی میں دس لیٹر تیل ، سبزیاں ، فروٹ کچھ ہلکی پھلکی گروسری سب آجاتا ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجیے کہ ایک دن کی آمدن سے پانچ چھ دن کا کھانا پینا کام پر جانا آنا سب ہوجاتا ہے۔ اور ابھی نسبتا بہت مہنگائی ہے۔ آپ کے ہاں مزدور کی دیہاڑی میں سے آدھ کلو بکرے کا گوشت نہیں آتا۔ بلکہ یہاں سکلڈ لیبر عام فیکٹری ، سٹور یا کسی چھوٹے موٹے دفتر کے ورکر سے زیادہ پیسے کماتے ہیں۔
یہاں پولیس سے ڈر نہیں لگتا ، بلکہ برطانیہ وغیرہ میں تو پولیس کو ہتھ چھٹ لونڈوں سے ڈر لگتا ہے۔ امریکہ میں بہرحال پولیس طاقتور ہے۔ عدالت ، پٹواری ، یونین کونسل ، ان کا کبھی منہ نہیں دیکھنا پڑتا آن لائن ہر چیز مینج ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کام کاج نہیں کرسکتے خدانخواستہ کسی بیماری یا معذوری کا شکار ہوگئے تو حکومت آپ کے سر پر آکر کھڑی ہوجاتی ہے۔ علاج معالجہ تعلیم سب مفت ہے۔ سکولوں میں سب بچوں کو کھانا ملتا ہے۔ ہر پروفیشن، ہر ورک پلیس ہر چیز کے لائبل لاز ہیں ۔ جہاں کسی کی غفلت سے آپ کا نقصان ہوگا آپ کو معاوضہ ملے گا۔ یہاں پیٹ چیرا بچہ باہر بھی نہیں ہوتا۔ خیر آگے چلیں۔
ہفتے میں دو دفعہ کچرا اٹھایا جاتا ہے ، ہر اشارے پر سگنلز ہیں ، جگہ جگہ پارکس ہیں ، وہاں گھاس کٹی ہوئی ملتی ہے ، درخت تراشے ہوئے ملتے ہیں۔ بڑے شہروں میں پانچ پانچ منٹ کی واک پر میٹرو ، ٹیوب یا سب وے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں دس دس منٹ کے واک کے اندر بس سٹاپ ہیں۔ پندرہ بیس سال پرانی گاڑی دو ہفتے کی آمدن سے آجاتی ہے۔ وہی وہی چھ سات آٹھ ماڈل جاپانی گاڑیاں جو آپ تیس تیس لاکھ میں لیتے ہیں۔ جم ہیں ، سپورٹس گراونڈز ہیں ، نوکریوں کے مواقع ہیں۔ سسٹم ہے۔
آپ کا بھی قصور نہیں ہے۔ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ زندگی کیا ہے۔ آپ یہ سوچ ہی نہیں پاتے کہ آپ کو ذلیل کرنے والے حکمرانوں کو آپ سے خوفزدہ ہونا ہے۔ آپ کے دماغ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر آپ کے لیے یہ ملک اور اسکی حکومتیں بہترین تعلیم ، بہترین صحت کی سہولیات ، گالف کلب ، سوئمنگ پولز پیدا نہیں کرسکتے تو آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے انہیں یہ سب عیاشیاں لینے کا کوئی حق نہیں۔
آپ کو صبر شکر کا سبق تو پڑھا دیا گیا ہے۔ لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا گیا کہ صبر اور شکر اللہ کی طرف سے آئی آزمائش پر یا مشکل پر کرنا ہے۔ کسی انسان یا کسی خدا بنے فرعون کی طرف سے آزمائش آئے تو اس شخص کو ادھیڑ کر رکھ دینا ہے۔ آپ اسلام کے قلعے کا چورن منہ میں ڈالے بیٹھے ہیں۔ آپ جیسے ستاون مزید اسلامی ممالک کے بچوں کو بھی یہی والی پڑیا دی جاتی ہے۔ آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ جغرافیائی طور پر بڑا اہم ملک ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ مطالعہ سوڈان یا مطالعہ چاڈ میں یہ لکھا ہوگا کہ سوڈان لٹ گیا چاڈ برباد برباد ہوگیا مر گیا؟ نہیں ، یہی والی پھکی جو آپ روز کھاتے ہیں۔
ملک پہاڑوں کی اونچائیوں یا دریاؤں کی لمبائیوں سے نہیں بنتے۔ ملک رقبے کے اعتبار اور آبادی کے اعتبار کے پیمانوں پر بھی نہیں چلتے۔ ملک نظام بناتے ہیں، ملک عوام بناتے ہیں ، ملکی کی ترقیوں کے پیمانے وہاں کے شہریوں کی حالت زار ہوتی ہے۔ انکو ملنے والی سہولیات ہوتی ہیں۔ انکا لائف سٹائل ہوتا ہے۔ آپ دنیا کے ایک برباد ہوتے ملک میں ، نہایت بدترین حالات میں ، بغیر کسی سسٹم کے اپنے کٹے ہوئے دھڑوں کیساتھ زندگیاں گھسیٹ رہے ہیں۔ اپنے لیے اپنی حالات پر رحم کریں ورنہ ہر گزرتا دن آپ کے لیے اذیت اور مصیبت کا باعث ہوگا۔
@hinaparvezbutt اوہ باجی ۔۔ اگر مڈل کلاس ہونے کو آپ لوگ چھوٹا سمجھتی ہیں تو یاد رکھیے انہی چھوٹے لوگوں کا خون چو س کر ہی تم لوگ " بڑے" بن کے بیٹھے ہو۔۔ غریب طبقہ کی تذلیل کرنے کی میں بھی مذمت کرتی ھو ۔۔ واقعی تم لوگ عام عوام کو کیڑے مکوڑے ہی سمجھتے ہو