اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج جسٹس محمد آصف کا بیٹا اسلام آباد کی اہم شاہراہ پر دو معصوم بچیوں کو کچلنے کے تین دن بعد کیس سے فارغ ہو کر گھر پہنچ جاتا ہے تو ایسے نظام میں رضا ڈار کو کیسے سزا ہو سکتی ہے ؟زورین نظامانی کا سوال
کمال ہے: لوگ صحافیوں کی واہ واہ کر رہے ہیں کہ انہوں نے فیصل کامران کی پریس کانفرنس میں ہالالالا مچا دی! اور بھولے بادشاہو آپکو آئیڈیا ہی نہیں کتنا بڑا نقصان کیا میرے بھائیوں نے۔۔ تمام سوالات جو سارے پاکستان کے زہن میں تھے وہ پوچھے ہی نہیں اور موقع گنوا دیا!
جیو نے نادانستہ غلط حرکت کی جس کی معافی بھی مانگی ہر پلیٹ فارم سے اس کے باوجود لبیک والے اس کے خلاف احتجاج کے لئے نکل آئے ہیں جو اپنے لیڈر سعد رضوی اور انس رضوی کے لاپتہ ہونے پر نہیں نکلے۔ یہ کون سا الجبرا ہے؟
A similar delegation once met PM Imran Khan, demanding an expensive plot to build a swimming pool for the SCBA. Imran Khan greeted them with his trademark smirk, along with tea and a single biscuit each.
He really was a terrible politician….. by Pakistani standards!
ایران اگر سائفر پر سرنڈر کر دیتا اپنی غیرت کا سودا کر دیتا شہباز شریف جیسا حکمران بنا دیتا تو ایران کی عوام کو یہ خوشخبری کبھی سننے کو نا ملتی ، ایران نے بہادری خوداری اور غیرت پر امریکہ سے لڑ مرنے کا فیصلہ کیا اور آج وہ ہی امریکہ ایران کو نوازنے پر مجبور ہے
🚨🚨 BREAKING: Iran's negotiators have LEFT the venue in protest of Trump's threats, per Tasnim.
Trump is single-handedly destroying the entire peace process.
I am shocked ایسی بکواس وزیرِ خاتون کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خواجہ آصف کی کوئی بھانجی یا بھتیجی بھی ہیں۔ انہوں نے Telecom Companies سے پیسے لے کر جان بوجھ کر یہ بل پاس کروایا ہے۔ یہ کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام تھا! نجم سیٹھی ۔
“عمران خان سے وفا کے جرم” میں آج لاہور کے آٹھویں جھوٹے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید صاحب کو مزید 17-17 سال کی سزائیں سنا دی گئیں
اب تک دی گئی جھوٹی سزائیں:
ڈاکٹر یاسمین راشد: 280 سال
سینیٹر اعجاز چوہدری: 280 سال
عمر سرفراز چیمہ: 280 سال
میاں محمود الرشید: 268 سال
ان کے علاوہ بھی چار ورکرز کو سزائیں سنائی گئیں جو وقوعہ کے دن تھے ہی جیل میں
اس کیس میں مدعی نے خود بتایا کہ نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی ہی یہ چاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں