ٹرمپ پاکستان کو استعمال کر رہا ہے ٹرمپ کو ہم اچھے اس لیے لگ رہے ہیں کیونکہ ہم استعمال ہو رہے ہیں، ورنہ نیٹو، سارا یورپ اسے اچانک سے برا لگنا شروع ہو گیا
سپین اور فرانس کے صدر کے بارے میں اس کے الفاظ سنیں کیونکہ وہ استعمال نہیں ہو رہے
علامہ جواد نقوی
جناب امیدواران سینیٹ
پہلے یہ آپ کو عمران خان کے حکم کا جھوٹ بولیں گے
پھر یہ اتحاد کے نام پر آپ کو بلیک میل کریں گے
پھر یہ آپ کو حکومت میں ایڈجسٹ کروانے کا وعدہ کریں گے
پھر یہ آپ کو مجبوریوں اور رکاوٹوں کا رونا رو کر سنائیں گے
پھر یہ دھمکیاں دے کر کھل کر بھی سامنے آئیں گے
آخر میں عدالت یا الیکشن کمیشن سے یہ آپ کو روک لیں گے
بس آپ نے آخر تک انکے جھانسے میں نہیں آنا
میری ساری زندگی، اللہ تعالٰی نے ہمیشہ مجھے اپنے اصول پر قائم رہنے کی رہنمائی کی ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نا بنوں ۔ اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے، مجھ پر سمجھوتہ کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے، لیکن میں کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے پیادہ کے طور پر استعمال کرے۔ پاکستان میں جدید ترین پراجیکٹس متعارف کروانے پر مجھے اور میرے کاروبار کو ہمیشہ نشانہ بنایا گیا ہے ۔ 1996 سے آج تک ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں۔ میں نے ماضی میں اللہ تعالٰی کی مدد سے اس طرح کے دباؤ کا پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ سامنا کیا ہے۔ آج بھی، ذاتی حیثیت میں، میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں، "over my dead body ۔" اپنی بیمار حالت اور پریشانی کے باوجود، میں اللہ کی مدد سے اس مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم ہوں، روزانہ مالیاتی کاروباری نقصان برداشت کر رہا ہوں اور پوری طرح دیوار کے ساتھ دھکیل دیا جا رہا ہوں، لیکن کسی دباؤ کے ہتھکنڈوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا۔ اللہ تعالٰی اس مشکل دور میں عزت کے ساتھ میری رہنمائی اور مدد کرے گا اور مجھے سرخرو کرے گا ۔ انشاء اللہ.
عدالتی حکم عدولی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار کا بڑا فیصلہ
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن، ایس ایس پی آپریشنز ملک جمیل ظفر توہین عدالت کے مرتکب قرار
ڈپٹی کمشنر چھ ماہ اور ایس ایس پی آپریشنز چار ماہ قید
اور ایک ایک لاکھ جرمانہ
ویسے خاور بھائی جب آپ ان لوگوں کو اپنے پروگرام میں لیتے ہیں جنہوں نے ارشد بھائی کو دھمکیاں دینے والو، ان پر جعلی مقدمے بنانے والو، ان کو دبئی سے نکالنے والو، ان کے قتل پر بیانیے بنانے اور ان کا کیس خراب کرنے والو کی سہولت کاری کی تو آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ مان لیتے ہیں وہ بہت طاقتور ہیں اور ہر کسی کی سو مجبوریاں ہوتی ہیں۔ لیکن ایسی بھی کیا مجبوری کہ بندہ ہر دوسرے روز ایسے لوگوں کو سامنے بٹھا کر باقی پاکستانیو کی تقدیر کا فیصلہ ان کی زبانی سنے؟ “اس کو تو مار دیا، اب ہماری سناؤ۔۔ ہمارے لیے کیا سوچا ہے”۔۔
چلو یہ بھی معاف مگر جو ان کے لیے انصاف مانگ رہا تھا اس کے لیے ہی آواز اٹھا لیتے۔۔ ارشد نہ سہی وہ تو زندہ تھا۔۔ باقیوں سے کوئ گلہ نہیں آپ تو ان کے اپنے تھے۔
خاور بھائ ارشد بھائی کے جانے کے بعد بہت سے چہروں کے نقاب الٹے ہیں لیکن یقین مانیں جو تکلیف آپ جیسے دوستو کو ان گِدھوں کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر ہوتی ہے۔۔ اللہ آپ کو ہمت اور ہمیں صبر دے۔ یا رہنے دیتے ہیں اللہ ہمیں ہی یہ دیکھنے کی ہمت بھی دے دے۔
چوہدری پرویز الٰہی @ChParvezElahi اپنی بیوی اور بچوں کو ہفتے میں ایک دفعہ مل سکتے ہیں ۔ لیکن ان کے ووٹ چور بھانجے جب دل کرے منہ اٹھا کے چلے جاتے ہیں۔ #MandateThieves
تمام تر ہتکھنڈے اپنا لینے کے بعد منصوبہ سازوں کو اندازہ ہوچکا ہے کہ عوام کا فیصلہ تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ کسی نا کسی شکل میں تحریکِ انصاف کو کھیل کا حصہ رکھنا بھی مجبوری ہے تاکہ دنیا انتخابات کی شفافیت پر زیادہ سوال نہ اٹھائے لیکن لندن پلان کی کامیابی اور بیرونی آقاؤں کے ساتھ کیے وعدوں اور ذاتی مفادات کا تحفظ بھی مطلوب ہے۔ اس لیے بشری بی بی کےذریعے خان صاحب کو درج ذیل شرائط پہنچانے کی کوشش کی گئی؛
۱- مقتدرہ کے معتوب قرار دیے گئے افراد (جن میں میرا نام سرِ فہرست تھا) تحریری معافی مانگیں اور ہمیشہ کے لیے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ ان کے خاندان کے افراد میں سے کسی کو آگے لایا جاسکتا ہے لیکن وہ خود دوبارہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔
۲- عمران خان اگلے تین سال بنی گالہ میں مقید رہیں گے اور پارٹی یا انتخابات جیتنے کی نتیجے میں بننے والی تحریکِ انصاف کی حکومت کو کسی قسم کا کوئ مشورہ سیاسی، یا حکومتی امور سے متعلق نہیں دے سکیں گے۔
۳- عمران خان کو تین نام دیے جائیں گے جن میں سے کسی ایک کو وہ اگلا وزیر اعظم نامزد کردیں گے، اور عوام میں تاثر یہی دیا جائیگا کہ یہ فیصلہ عمران خان کی جانب سے کیا گیا۔ ایک سال تک اِس حکومت کی کارکردگی کو جانچا جائیگا اور اُس کے بعد عمران خان اور تحریک انصاف کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائیگا۔
بشری بی بی کی جانب سے خان صاحب تک اِن میں سے کوئ بھی شرط پہنچانے سے انکار کیا گیا جس کے بعد سے انہیں دباؤ میں لانے کے لیے تمام تر میڈیا اور ریاستی مشینری کا استعمال بروئے کار لایا جارہا ہے۔
میرے پاکستانیو میں جانتا ہوں آپ باشعور ہیں اور ان تینوں شرائط سے مطلوب نتائج کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں! آپ یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان شرائط کو نا ماننے کی صورت میں ان کو کِن نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہونگی اور اُن پر کس رفتار سے عملدرآمد جاری ہے۔
آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اِس وقت خان صاحب اور ان کی اہلیہ اُن کے نرغے میں ہیں۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کا شعور ان کے کسی انتہائ اقدام کے راستے کی اکلوتی رکاوٹ ہے۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فی الحال میرا اس سے زیادہ کہنا مناسب نہیں۔ اس وقت ضروری ہے کہ آپ اپنا فوکس ۸ فروری پر رکھیں، اور اپنی آنکھیں اور کان کھلیں رکھیں۔
آپ کا لیڈر اللہ کے بعد آپ کے بھروسے یہ صعوبتیں جھیل رہا ہے۔