میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اس وقت تیراہ کا آپریشن اور لوگوں کا زبردستی انخلأ بند کمروں کا فیصلہ ہے جس کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں سیاسی عزائم پورے کرنا ہے۔
تیراہ میرا گھر ہے۔ وہ لوگ میرے ہیں۔ میں اُن سے ہوں اور وہ مجھ سے ہیں۔ وہاں پر آج جو کچھ کروایا جا رہا ہے وہ صرف مجھے میرے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے میرے لوگوں کو مجھ سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت اپنے لوگوں کے تمام مسائل حل کرنے میں انشاءاللہ کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ یہ میں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے اور میں انشاءاللہ ثابت بھی کرونگا۔
ہم پر زبردستی مسلط کی گئی دہشتگردی، بند کمروں کے فیصلوں میں بدمعاشی سے جاری کردہ ملٹری آپریشن کے تحت لوگوں کا مجبورا انخلاء، ان تمام مظالم کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے کاموں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے زبردستی مداخلت کی جا رہی ہے۔ تمام پروسز کو آہستہ کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کی رجسٹریشن نادرا کر رہا ہے جوکہ وفاقی ادارہ ہے وہاں سے رجسٹریشن میں جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار چیکنگ اور آنکھ کا سکینر لگا کر لوگوں کو ویریفائی کرنے میں وقت ضائع کر کے لوگوں کو پریشان کر رہےہیں۔ گھنٹوں کا کام دنوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ تنگ ہو۔
مجھے بدنام کرنے کی کوشش کرنے والے” اپنے اچھے لوگوں”کو متاثرہ لوگوں میں گھسا کر اُن کو اکسا رہے ہیں۔ تیراہ کے لوکل ایم پی اے عبدالغنی آفریدی اور میرے بڑے بھائی جب وہاں پہنچے تو اپنے ٹاؤٹس سے اُن کی بے عزتی کروانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ واپسی میں اُن کے لیے سڑک بند کر کے راستہ تبدیل کروانے پر اُن کی جان کو خطرے میں ڈالا گیا۔ “اچھے لوگوں”راستے میں گاڑیاں کھڑی کر کے جان بوجھ کر سڑک پر رش بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام غصہ کرے اور منتخب نمائندوں کو بُرا بھلا کہے۔
دہشتگردی کی جنگ بند کمروں کے فیصلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ نیت ٹھیک ہونی چاہیئے اور اعتماد کو بحال رکھنا چاہیئے۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر مستقل اور پائیدار امن نا ممکن ہے۔ بند کمروں کے فیصلے زبردستی مسلط کرنے کے پیچھے ہمیشہ عزائم کچھ اور ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگے میں خیبر پختونخوا کی ہر سیاسی و مذہبی جماعت سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے دیرپا امن قائم کرنے کے لیے جو تجاویز پیش کیں ان پر عمل کروا کر ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے-
بند کمروں میں فیصلے کرنے والے ذرا نیچے دی گئی تصویر دیکھیں۔عمران احمد خان نیازی صاحب کو ختم کرنا سب کا ادھورا خواب رہ جائے گا۔ یہ عشق اب کئی نسلوں تک پہنچ چُکا ہے۔ جو کبھی بھی انشاءاللہ مٹ نہیں پائے گا!!
موجودہ ڈی جی ISPR کی سب سے خطرناک بات جو وہ بار بار ہر پریس کانفرنس میں دہراتا ہے:
• “اس سال ہمیں دہشتگردی پر مکمل “clarity” حاصل ہوئی ہے”
• “پہلے جو پالیسیز تھیں وہ ادارے کی نہیں شخصیات کی تھیں”
اس کا مطلب یہی ہے کہ جو بندہ آتا ہے وہ اپنے ذہن کے تحت ناقص پالیسیاں بناتا ہے
جو نیا آئے گا وہ موجودہ کو غلط کہ کر نیا تجربہ شروع کر دے گا
جیسے ضیأ نے مجاہد بنائے، مشرف نے انہیں دہشتگرد کہا، باجوہ اور موجودہ نے انہیں واپس بسایا اور اب خود ان کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں؟
اس میں اصل نقصان عام شہریوں کا ہو رہا ہے جنہیں دہشتگرد بھی مارتے ہیں اور فوج کا بھی “ کولیٹرل ڈیمج “ اور “ملک کی خاطر قربانی” کے نام پر حجرت ، نقل مکانی سمیت نقصانات کے نام پر نشانہ بنتے ہیں
تو انہیں دوسروں کو لیکچر دینے چاہییں یا اپنا ادارہ ٹھیک کرنا چاہییے؟ جہاں institutional memory یا long term planning نامی کوئی چیز نہیں؟
◀️ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر ردعمل
◀️ ’80 ہزار جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے عوام کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے‘
تفصیلات: https://t.co/214rvWKV85
عمران خان صاحب پاکستان کے مقبول اور عوامی اعتماد رکھنے والے قبول ترین لیڈر ہیں اور پاکستان تحریک انصاف اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے پاکستان کے ایک مقبول سیاسی قائد اور سابق وزیرِاعظم کے بارے میں سیاسی نوعیت کے اور حقائق کے برعکس بیانات نہ صرف ایک ریاستی ادارے کے وقار کے منافی ہیں بلکہ جمہوری اقدار اور آئینی روح کے ساتھ بھی سنجیدہ مذاق کے مترادف ہیں۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔
یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔
اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوب�� نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج پیدا کرے گا؟ پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔
وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کا اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ میرے عظیم ملک پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلسل قربانیوں کے باوجود، ایک صوبے کے عوام کو بے مقصد اور غیر سنجیدہ پریس کانفرنسوں کے ذریعے موردِ الزام ٹھہرانا، ہمارے شہداء اور ان کے لواحقین کی قربانیوں کی صریح توہین ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزراء دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔
دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرن��ز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔
حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا میں ایک امن جرگہ منعقد ہوا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی، حتیٰ کہ تحریکِ انصاف کے مخالفین بھی شریک ہوئے۔ اس جرگے میں مذہبی اور قبائلی عمائدین بھی شامل تھے۔ آج ایک سرکاری نوکر کی پریس کانفرنس محض بیانیہ گھڑنے کی ناکام کوشش ہے۔ صوبے کے حقیقی نمائندے بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے۔
#KPAmanJirga
یہ کیسا جمہوری نظام ہے جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر اپنے پریس بریفنگ میں میڈیا کو ایک صوبے اور ایک پارٹی کے لیڈرشپ کی تصویریں اور تقریریں دکھارہا ہے اور ان کیخلاف سیاسی گفتگو کرتا ہے اور دھمکیاں دیتا ہے؟؟؟
یہ کس قانون کے تحت ہورہا ہے؟؟کس حلف کے تحت ہورہا ہے؟؟؟
یہ نہ جمہوری نظام ہے اور نہ ہی ہ��ئیبرڈ نظام،یہ مارشل لاء ہے۔اب کسی کو کوئی مغالطہ نہیں ہونا چاہئے،
آج کی پریس کانفرنس افسوسناک تھی
عاصم منیر نے عوام پر گولیاں چلوا کر اور مائوں بہنوں پر انتہا کا ظلم کر کے ساری زندگی کی بدنصیبی کما لی ہے۔ بیٹی کی شادی بھی چھپ کر کی۔
”مرد بنیں، یہ کیا چھپ کے شادی چھپ کے پولو“
@WajSKhan#ItIsOver
یہ آرٹیکل آج ایکسپریس ٹربیون سے ڈیلیٹ کروا دیا ہے میں اس اردو ترجمہ جاری کر رہا ہوں اسے خود بھی پڑھیں اور آگے بھی پھیلائیں تا کہ دوبارہ ڈیلیٹ کروانے سے پہلے دس بار سوچیں
Title: It is over
Author: ZORAIN NIZAMANI
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بن�� سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگر�� میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے۔
یہ پرانا ہو چکا ہے۔
بیرسٹر شہزاد اکبر @ShazadAkbar پچھلے دو سال سے پاکستان میں جاری ڈکٹیٹرشپ کے خلاف سب سے مؤثر اور واضح آوازوں میں سے ایک ہیں
آج کے قاتلانہ حملے کے بعد میری شہزاد اکبر صاحب سے بات ہوئی اور وہ پہلے کی طرح ہی بھرپور حوصلے سے عمران خان کے ساتھ اور ڈکٹیٹر کے خلاف کھڑے ہیں
اگر عمران خان قاتلانہ حملے کے بعد پیچھے نہیں ہٹے تو ان کے ورکرز بھی ایسے بزدلانہ حملوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے انشأللہ
Barrister Shahzad Akbar, after this speech, has been brutally attacked by masked men, at his home, this morning, who left him in a pool of blood with broken nose, jaw and broken ribs.
Shahzad’s speech was focused on Pakistan’s Army Chief, Gen Asim Munir..What it means?
“To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.
At this moment, Pakistan is being governed solely under “Asim Law”. Here, verdicts are pre-written and merely announced aloud. Like the baseless decisions and sentences of the past three years, the Toshakhana 2 verdict is nothing new for me. This ruling, too, was delivered in haste, without any evidence and without fulfilling legal requirements. Neither we nor our lawyers were even given opportunity to present our case.
The sustained solitary confinement imposed on me and my wife constitutes severe mental torture. We are barred from books, television, and meetings. Although television access is granted to every other prisoner, even this fundamental facility has been withheld from me and Bushra Bibi. The books sent by my family are confiscated by jail authorities, and we are kept in solitary confinement for weeks at a time. This treatment is inhumane, yet all this oppression and brutality cannot weaken my resolve.
It is not our tradition to target women and children. Our religion mandates mercy toward women even during warfare, yet here they are being persecuted purely out of political vendetta. I am deeply saddened and distressed by the mistreatment and brutality faced by my sisters and other women outside Adiala Jail. The treatment meted out to Bushra Bibi, Dr. Yasmin, Mahrang Baloch, and other women stands in clear violation of Islamic traditions and moral values. Bushra Bibi, my wife, has been subjected to solitary confinement purely because of personal hostility towards me, even though she has no political role and is a homemaker.
The army is mine and belongs to the people of Pakistan. When I criticize Asim Munir, it is criticism of an individual, just as past dictators were criticized. Asim Munir did not come into power through a public referendum or popular vote. Whatever is happening to me in jail is being carried out on the instructions of a colonel acting under Asim Munir’s orders.
The rule of law in Pakistan has been severely undermined. Just as in 2007, PCO judges who sided with a dictator and tarnished the sanctity of the judiciary earned no respect, while those who resisted were hailed as national heroes. Similarly, today, the judges who are resisting this system are our heroes, while those acting as puppets, obediently following orders, lack conscience and are no different from the PCO judges of the Musharraf era.
For the struggle to restore the rule of law and uphold the Constitution, it is essential for the Insaf Lawyers Forum and legal fraternity to step forward decisively. Only a just legal system can safeguard the people; without it, neither economic progress nor moral development is possible.
I have full confidence in Salman Safdar and his team and have instructed them to file an appeal against these bogus decisions in the Islamabad High Court.
My message for Sohail Afridi is to prepare for a street movement. The entire nation must rise for their rights!!
To strive for justice is a sacred duty, and I am ready to lay down my life for Haqeeqi Azadi (true freedom) of my nation.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his lawyers after the verdict of a military-style trial in Adiala Jail - (20 December, 2025)
اس وقت جو نظام ہے اس کو اگر منی مارشل لاء کہا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ میڈیا پر پابندیاں پہلے بھی لگتی رہیں لیکن جب سے حکومت اور فوج ایک پیج پر آئے ہیں حالات بہت برے ہیں۔ صحافیوں کو صرف آف لائن نہیں کیا جارہا ان پر ایف آئی آرز ، اغواء ان کے بینک اکاؤنٹ بھی بند کیے جارہے۔ میں پاکستان کے بہترین ٹیکس دینے والوں سے ہوں لیکن آف لائن کے بعد مجھے ایف بی آر سے نوٹس آئے ، ایف آئی اے نے میرا نام کنٹرول لسٹ میں ڈالا کہ میں باہر نہیں جاسکتا، میری بیوی کے اکاؤنٹ بھی فریز کردئیے گئے۔ پچھلی حکومت میں جب پیکا لگا تھا تو ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے کیمپ لگایا تھا احتجاج کرتے تھے اب تو وہ بھی نہیں کر سکتے۔ سینئر اینکر پرسن کاشف عباسی
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاض�� پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
🚨In London, I interviewed Imran Khan’s sons @Kasim_Khan_1999 and Sulaiman about their father’s detention, which they call torture, and the role of Trump and the UK government, and much more. Check it out. Preview clips below.
Full Zeteo interview: https://t.co/1mkudgeDxa