راولاکوٹ اپڈیٹ: 8:13
راولاکوٹ شہر اور اطراف کی بجلی بند کر دی گئی ہے۔
جبکہ صحافی حارث قدیر کے مطابق راولاکوٹ میں کم از کم 5 افراد فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
اموات کی تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ متعدد افراد زخمی ہیں۔
راولاکوٹ: جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کے نہتے شرکا کی تین اطراف سے شہر میں داخل ہونے کی کوشش۔
سیکورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس، شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
کل 26 جولائی کو میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کا آغار ہو گا قافلے راولاکوٹ دھرنے میں پہنچیں گے اور 27 جولائی کو بعد از نماز ظہر مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا ،
عمر نذیر کشمیری
#RightsMovementAJK
محترم احباب!
یہ گزشتہ تین سالوں سے جاری تحریک جو صرف بنیادی عوامی حقوق کی تحریک ہے، جس میں اب تک ہمارے سینکڑوں بھائیوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ماؤں نے اپنے بیٹے دیے، بہنوں نے اپنے بھائی دیے۔ ایک ماں جب صبح اپنے بچے کو بھیجتی ہے تو اسے یہ نہیں پتہ ہوتا کہ یہ واپس لوٹ کر آئے گا یا نہیں۔
کل ہی بلوچ سدھنوتی سے آٹھ نو جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
ایسے میں مختلف اوقات میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رہا لیکن وہ بے نتیجہ ہی رہا۔ موجودہ صورتحال میں جو بھی، وہ مظفرآباد سے وکلا کی برادری تھی وہ راولاکوٹ دھرنے میں تشریف لائی۔ اس کے بعد سینٹر مشتاق صاحب دھرنے میں تشریف لائے۔ صحافی راٹھور صاحب، تشریف لائے۔ اس کے بعد امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم صاحب نے اپنا وفد بھیجا۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان صاحب نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔
اس کے بعد جتنے بھی لوگوں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ان سب کا فرداً فرداً اسٹیج سے شکریہ ادا کیا گیا۔ اسی طرح آج عاصم منیر کی طرف سے ثالثی کی جو پیشکش کی گئی اس پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔
اس کے بعد فیک آئی ڈیز، زیادہ تر جو ہیں وہ فیک آئی ڈیز ہیں، وہ ڈائریکٹ یہ کہنا شروع ہو گئیں کہ جناب عاصم منیر کا شکریہ کیوں ادا کیا گیا؟
فورسز نے بندے مارے بلکل مارے لیکن منگوائے کا نے سہولتکارو ان 53 نے سائین کیے پھر آئے ان کو ہار بھی ڈالتے ہو ساتھ فساد بھی
اگر وکلا کا شکریہ ادا کیا گیا، حافظ نعیم صاحب، جو فرد بھی وہاں پر آیا اس کا شکریہ ادا کیا گیا، تو عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا گیا تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔
نہ یہ "کشمیر بنے گا پاکستان" کی لڑائی ہے، نہ "کشمیر بنے گا خودمختار" کی لڑائی ہے۔ نہ ملک پاکستان کے خلاف ہے اور نہ کسی ادارے کے خلاف ہے۔ میرے خیال میں ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ یہ ہمارے بنیادی عوامی حقوق کی لڑائی ہے اور ہم اپنے بنیادی عوامی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جس میں کوئی ایک... مختلف لوگ، عام عوام ہیں۔ اور جو مرنے والے ہیں ان کا تعلق بھی اگر آپ دیکھیں تو زیادہ کا تعلق عام لوگوں سے ہے کل بلوچ سے تعلق رکھنے والے زاہد کو دیکھ لیں
تو تھوڑا سا ہمیں سنجیدگی کا اختیار کرنی پڑے گا۔ ابھی تو نہ مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں نہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں۔ یقین ہی کیا جا سکتا ہے، بہتری کی امید ہی لگائی جا سکتی ہے۔ تو ہمیں اپنی تحریک پر زیادہ فوکس کرنا چاہیے۔ جب ہم ساتھ خود بھی کہتے کہ یقین نہیں اگر اس پر بھی یقین نہیں تو پھر غور کرنا ہوگا دھرنے میں موجود سب ہمارے بھائیوں کو شاہد ہم نہ مل سکیں کیوں طاقت ان کہ پاس مشینری ان کہ پاس بندہ ان کہ لیے مارنا کوئی بڑی بات نہیں مزید لاشوں کہ متحمل ہم نہیں ہو سکتے جس کا بھائی مرتا یہ دکھ جس کا بیٹا جاتا یہ دکھ ان سے کہنے اور سہنے میں بڑا فرق ہے فہد برکت کا کی والدہ بکرا کے کر بیٹھی ہوئی کہ میرا بیٹا آئے گا صدقہ دوں گی تو اگر مثبت کوئی پہلو سامنے آتا تو اس سمجھنا چاہیے واللہ میں خود کہتا مجھے یقین نہیں لیکن ساتھ یہ ضرور کہتا کہ انھیں جواز نہ ملے آج ملاں عمر نے شکریہ ادا کیا اس کہ بعد کیا جواز رکھیں گے ان کہ پاس کوئی ایسا جواز بچتا ہی نہیں کہ یہ دنیا کو بتا سکیں کہ ہم نے ان بے گناہوں کو کیوں مارا تحریکیں کسی فرد واحد کی جاگیر نہیں ہوتی اور پھر پوسٹیں یہ بھی آپ نے دیکھی ہوں گی کہ خواجہ مہران اور سردار امان کو آگے کریں عقل کہ اندھو کوئی بھی فیصلہ تنہا کوئی نہیں کرتا وہاں موجود ہر شخص سے مشاورت ہوتی ہے اس کہ بعد کور کمیٹی کی مشاورت ہوتی اس کہ بعد کوئی فیصلہ ہوتا فرد واحد ہو تو یہ تحریک نہ ہو یہ ایک تنظیمی دھڑا ہو اب آتے ہیں مذاکرات پر مذاکرات ہوئے کب یہ پہلی سنجیدہ پیش قدمی ہے اگر کامیاب ہوتے تو ہماری فتح ہے کل تک فیصل نے بھی کہا رٹ بحال کروں گا سیدھے منہ بات نہیں کی یہ صبر ہمت دعاؤں شہدا کی قربانی اور ہمارے امن نے ہماری سنجیدگی نے آج یہ وقت لایا کہ آپ سامنے قرآن بھی رکھا گیا ۔۔۔
لڑائی لمبی ہے ابھی بہت کچھ کرنا ہے ابھی ہمارے بھائیوں کی لاشیں منتظر ہیں ابھی ہم نے جنازے دفنانے ہیں ابھی ہم نے مزید کہا کچھ سہنا ہے یہ قبل از وقت ہے اچھے کی امید رکھنی۔ چاہیے فتح عوام کی ہو گی
کسی کا چہرہ اچھا نہ لگنا، یا کسی کے ساتھ ذاتی بغض و حسد کو نکالنے کے لیے ہمارے پاس بہت وقت موجود ہے۔ ابھی ہم نے صرف اپنے بنیادی حقوق شہدا کہ خون سے وفا کرنی ہے نہیں تو جلوہ وقت دور نہیں سب ہمارے بھائی ہیں لیکن کل ایک ماں کہ پیٹ سے بھی کھونے پڑیں
ہم ایک تھے ہیں رہیں گے
ایک کا زخم سب کا زخم
طویل مذاکرات کے بعد لانگ مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیاگیا ہے۔حکومت کو 21 جولائی تک کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے اور مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت 22 جولائی کو دوبارہ مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دھرنے جاری رکھے جائیں گے۔
15 جولائی :
مظفرآباد لانگ مارچ کیلئے لاکھوں لوگ دھرنوں میں جمع ہو چُکے ہیں-
حکمرانوں کے کسی جھانسے کا شکار نہ ہوں- آس پاس سول اجنبی اشخاص پر خصوصی نظر رکھیں- آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے- اپنے وطن میں آذادانہ حرکت سے ہمیں کوئی طاقت نہیں روک سکتی انشاء اللہ
سردار عمر نظیر کشمیری
Alert 🚨🚨🚨🚨
سردار عمر نذیر کشمیری
کور ممبر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی
کال پر بڑی تعداد میں طلباء و طالبات سکول یونیفارم میں بستے اٹھائے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے دریک دھرنے میں شریک ہو رہے ہیں
پاک پروردگار شہیدوں کے خون کے صدقے ظالموں کی سازشوں سے محفوظ فرما اور ایکشن کمیٹی کی تحریک کو کامیابی عطاء فرما آمین
عوامی جوئنٹ ایکشن کمیٹی سے ہر وہ طبقہ تنگ ہے جس نے اپنی زندگی حرام، دھوکے بازی ،رشوت ،چوری، چاپلوسی اور منافقت میں گزاری ہو🤔✌️
#RightsMovementAJK#AzadKashmir
عوامی جوئنٹ ایکشن کمیٹی سے ہر وہ طبقہ تنگ ہے جس نے اپنی زندگی حرام، دھوکے بازی ،رشوت ،چوری، چاپلوسی اور منافقت میں گزاری ہو🤔✌️
#RightsMovementAJK#AzadKashmir
جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی طرف سے حکمرانوں کو چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے لیے آج 8 جولائی ڈیڈ لائن ہے
اگے کا لائحہ عمل کل دریک دھرنے سے پوری قوم تیار رہے
ہم نے اس جبر استحصال دہشتگردی کے خلاف پر امن اور متحد رہ کر شکست دینی ہے
ٹرمپ کے ساتھ کوئی ظہرانے کرے یا امریکہ سے جو مرضی ڈیلیں کرتا پھرے، پاکستانی عوام کسی صورت ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی سہولتکاری برداشت نہیں کرے گی