"میں ایک لاکھ افراد کا مذہبی پیشوا تھا۔ 15 برس سے کلیسا میں بطور پادری خدمات سر انجام دیتا رہا۔ کلیسا کے ساتھ ہی رہائش تھی۔ پھر ایک خواب دیکھا، وہی خواب پھر بار بار دیکھا۔ مجھے حکم دیا گیا کہ اپنے لوگوں کو سفید لباس پہناو۔ میں نے سوچا کہ سفید لباس تو مسلمانوں کی نشانی ہے۔ بس اشارہ سمجھ گیا۔ میں نے اپنے تمام پیروکاروں کے ہمراہ کلمہ شہادت پڑھ لیا۔" إبراهيم ريتشموند
چند روز جنوبی افریقہ کی ایک ویڈیو آئی تھی، جس میں پادری سمیت چرچ کے تمام سینکڑوں پیروکار بیک وقت کلمہ پڑھ رہے تھے۔ تو یہ صاحب ہیں، اس چرچ کے پادری، جن کی وجہ سے پورا کلیسا ایمان لے آیا۔ اب یہ حج کی سعادت حاصل کرنے مکہ مکرمہ میں پہنچ چکے ہیں۔ ارض مقدس پر قدم رکھ کر ہی ابراہیم صاحب سجدہ ریز ہوگئے۔ عرب چینل کو انٹرویو ملاحظہ فرمایئے۔۔