حزب الشیطان آخر چاہتا کیا ہے؟
گزشتہ مضمون میں ہم نے حزب الشیطان کا ابتدائی تعارف پیش کیا تھا۔ بتایا تھا کہ یہ محض سوشل میڈیا پر توہین کرنے والے چند افراد کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا منظم نیٹ ورک ہے جس نے اپنے لیے باقاعدہ مذہبی شناخت، اپنا کلمہ، اپنی کتاب، اپنے قواعد اور اپنے نظریاتی تصورات تک تشکیل دے رکھے ہیں۔
لیکن اگلا سوال اس سے بھی زیادہ اہم ہے:
آخر حزب الشیطان کا مقصد کیا ہے؟
اس سوال کا جواب کسی مخالف کی تشریح سے نہیں بلکہ اس گروہ کے اپنے بانی اور خود ساختہ مذہبی پیشوا طیب بن عارف کے بیان اور اس کی تحریروں سے سامنے آتا ہے۔
طیب بن عارف خود کو محض کسی فیس بک گروپ کا منتظم نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے لیے ایک باقاعدہ مذہبی حیثیت وضع کرتا ہے اور خود کو شیطان کی طرف سے پیغام حاصل کرنے والا شخص قرار دیتا ہے۔ اسی تصور کے تحت اس نے اپنے پیروکاروں کے لیے ایک علیحدہ مذہبی شناخت بنائی، اپنا کلمہ پیش کیا اور اپنی تحریروں کو مذہبی احکامات کی شکل دی۔
اس کی کتاب فرامینِ اجنبی کے آغاز ہی سے اس منصوبے کا بنیادی تصور واضح ہونے لگتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہ شیطان کی عبادت پیش کی جاتی ہے اور اپنا الگ کلمہ متعارف کرایا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں مقصد محض اسلام یا مقدسات کی توہین کرنا نہیں، بلکہ اسلام کے بالمقابل ایک شیطانی متبادل مذہبی نظام کھڑا کرنا ہے۔
یہاں معاملہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔
طیب بن عارف کی تحریروں اور اس کے بیان سے سامنے آنے والا دوسرا مقصد مسلمانوں کے مقدسات کے احترام کو منظم طور پر ختم کرنا ہے۔ قرآن مجید، رسول اللہ ﷺ، اہل بیت، امہات المؤمنین، صحابۂ کرام اور اسلامی شعائر کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے تاکہ توہین ایک وقتی اشتعال انگیزی نہ رہے بلکہ گروپ کے افراد کے لیے معمول کی سرگرمی بن جائے۔
معذرت: اس مقصد کے لیے جو زبان، تصاویر اور جنسی نوعیت کی توہینات استعمال کی گئی ہیں، ان کی تفصیل یہاں نقل کرنا ممکن نہیں۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ اس مواد میں فحاشی اور مذہبی توہین کو جان بوجھ کر ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ خود فرامینِ اجنبی میں اس نوعیت کا مواد بڑی مقدار میں موجود ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فحش توہین اس نیٹ ورک کی ایک باقاعدہ شناخت بن جاتی ہے۔
تیسرا مقصد اپنے ماننے والوں کی مذہبی حساسیت کو بتدریج ختم کرنا دکھائی دیتا ہے۔ کسی نئے شخص سے ابتدا ہی میں انتہائی درجے کی سرگرمی نہیں کروائی جاتی، بلکہ اسے ایک ایسے ماحول میں لے جایا جاتا ہے جہاں پہلے مقدسات کا مذاق، پھر توہین، پھر شدید تر توہین اور بالآخر خود اس عمل میں شرکت معمول بنا دی جاتی ہے۔
یوں ایک ایسا شخص جو ابتدا میں کسی توہین کو دیکھ کر بھی شدید ردعمل محسوس کرتا ہو، اسے رفتہ رفتہ اسی عمل کا حصہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
چوتھا مقصد افراد تیار کرنا ہے۔
حزب الشیطان کا منصوبہ صرف مواد بنانے تک محدود نہیں۔ اسے پھیلانے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہے۔ اسی لیے گروپس، ممبرشپ، باہمی رابطوں اور مخصوص ذمہ داریوں کا پورا تصور سامنے آتا ہے۔ نئے افراد کو شامل کرنا، انہیں مخصوص نظریاتی ماحول میں رکھنا اور پھر ان سے مختلف نوعیت کی سرگرمیاں کروانا اس نیٹ ورک کی توسیع کا بنیادی ذریعہ بنتا ہے۔
پانچواں اور شاید سب سے خطرناک مقصد یہ ہے کہ اس شیطانی فکر کو چند بند گروپس سے نکال کر معاشرے میں پھیلایا جائے۔
اگر چند لوگ کسی خفیہ کمرے میں بیٹھ کر کوئی نظریہ رکھتے ہوں تو اس کا خطرہ محدود رہتا ہے۔ لیکن جب اسی نظریے کے لیے کتاب تیار ہو، مذہبی اصطلاحات وضع ہوں، باقاعدہ پیروکار بنائے جائیں، سوشل میڈیا نیٹ ورک کھڑے ہوں اور ہزاروں افراد تک رسائی پیدا ہو جائے تو معاملہ چند افراد کے انفرادی جرم سے آگے بڑھ جاتا ہے۔
یہ ایک نظریاتی اور تنظیمی منصوبہ بن جاتا ہے۔
اسی لیے حزب الشیطان کو سمجھنے میں سب سے بڑی غلطی یہ ہوگی کہ اسے چند نوجوانوں کی آن لائن شرارت یا محض توہین آمیز پوسٹیں بنانے والا گروہ سمجھ لیا جائے۔ اس کے اپنے مواد کو پڑھیں تو تصویر کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے: یہاں ایک طرف شیطان کی عبادت پر مبنی خود ساختہ مذہبی نظام ہے، دوسری طرف مقدسات کی منظم بے حرمتی، تیسری طرف فحاشی اور توہین کا امتزاج، اور چوتھی طرف دوسرے لوگوں کو اسی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش۔
اور ابھی ہم نے صرف یہ دیکھا ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔
اگلے حصے میں ہم اس سے بھی اہم سوال کا جواب دیں گے:
حزب الشیطان کام کیسے کرتا ہے؟
یعنی لوگوں کو گروپس تک کیسے لایا جاتا ہے، نئے ممبران کے ساتھ ابتدا میں کیا کیا جاتا ہے، انہیں کس طرح مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے، کیا ٹاسک دیے جاتے ہیں، گروپ میں رہنے کے قواعد کیا ہیں، اور کس طرح ایک عام سوشل میڈیا صارف کو بتدریج اس منظم شیطانی نیٹ ورک کا فعال حصہ بنایا جاتا ہے۔
#OrganizedGroup #Pakistan #exposed #reality #hizb_u_shaitan #islamabadhighcourt