سابق وزیراعظم عمران خان کا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام تیسرا کھلا خط:
میں اپنی ذات کے لیے کوئی ڈیل یا اپنی جماعت کے لیے کسی سے کوئی رعایت نہیں مانگ رہا- بطور سابق وزیراعظم اور محب وطن پاکستانی مجھے صرف اپنی فوج کی ساکھ کی بحالی اور وطن عزیز کا مفاد مقصود ہے۔ اس امر کے باوجود کہ فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اورروزانہ شہادتیں ہو رہی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کے باعث عوام اور فوج کے درمیان ہم آہنگی نہیں ہے۔
میں آئی ایس پی آر سے کہتا ہوں کہ جھوٹا بیانیہ نہ دیا کریں۔ بار بار یہ کہنا کہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی، قوم کی عقل کی توہین ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی چیز نہیں چھپ سکتی، ملک کا بچہ بچہ واقف ہے کہ آرمی چیف ہی اس ملک کا نظام چلاتے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلی ہو یا اراکین پارلیمینٹ کی خرید و فروخت، عدلیہ کی تباہی ہو یا عوامی رائے دہی پر قدغن کے کالے قانون، ناصرف ہماری باشعور قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی معلوم ہے کہ اس کے پیچھے کون سے "نامعلوم” ہاتھ کارفرما ہیں۔ لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ غلط بیانی سے گریز کیا کریں کیونکہ یہ صرف من حیث الادارہ فوج کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔
میں پانچ نکات پر روشنی ڈالوں گا جس کی وجہ سے پاکستان آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے:
۱- دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے قوم کی جانب سے مسترد شدہ چہروں کو ملک پر مسلط کرنا:
اسٹیبلشمنٹ کی اس پالیسی کی وجہ سے ملک کا شدید نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی چند سال قبل تک جن کی سرے محل اور مے فئیر فلیٹس جیسی بے شمار کرپشن کی داستانیں قوم کو سنائی جا رہی تھیں، انہی ��ے لیے پوری ریاستی مشینری اور ایجینسیز کو استعمال کر کے ناصرف قبل از انتخابات بدترین دھاندلی کی گئی بلکہ پولنگ ڈے اور اس کے بعد بھی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ ڈالا گیا ا��ر ان کو قوم پر مسلط کر دیا گیا۔
یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ شریف خاندان اور زرداری پر کیسز سیاسی نوعیت کے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے دور میں نیب کے کوئی کیسز نہیں بنائے گئے- انٹیلی جنس ایجینسیوں نے انکی کرپشن کے ثبوت اکٹھے کئے- جنرل احتشام ضمیر اور فاروق لغاری نے ان کے اربوں روپے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ڈوزئیر دئیے تھے کہ یہ لوگ کتنے کرپٹ ہیں- نیب تو ہمارے کنٹرول میں بھی نہیں تھا، جنرل باجوہ نیب کو کنٹرول کرتا تھا- انکے خلاف تمام کیسز ہمارے دور سے پہلے بنائے گئے- ہمارے دور میں صرف شہباز شریف کے خلاف مقصود چپڑاسی والا رمضان شوگر مل کیس بنا- اس کیس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ قوم نے دیکھا کہ انھی نیب زدہ چہروں کو ڈیل کی ڈرائی کلین مشین سے گزار کر دوبارہ پاکستان پر مسلط کر دیا گیا۔ نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دینے کے اس عمل سے ملکی معیشت کو ۱۱۰۰ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ اس فراڈ کے تانے بانے ملائیں تو تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ایک ہی ہاتھ کی طرف جاتی ہیں اور اسکا سارا نزلہ فوج پر گر رہا ہے-
۲ - جمہوریت کا خاتمہ:
جمہوریت اخلاقیات پر چلتی ہے- حکومت کے پاس اخلاقی قوت ہو تو ہی جمہوریت چل سکتی ہے- 30 سال لگا کر پاکستان میں رفتہ رفتہ جمہوریت کی کچھ بحالی ہوئی تھی، عدلیہ مسلسل جدوجہد سے خودمختار ہوئی تھی اور میڈیا کچھ آزاد ہوا تھا اور ملک بہتری کی طرف جا رہا تھا۔ لیکن پہلے سازش سے ہماری حکومت کو ہٹایا گیا، پھر ناصرف ایک جعلی حکومت کو مسلط کیا گیا بلکہ ان کو دوبارہ ملک پر مسلط کرنے کے لیے آئین توڑا گیا، انتخابات ملتوی کیے گئے، الیکشن سے پہلے ہر حربہ آزمایا گیا، قاضی فائز عیسٰی کے ذریعے ہمارا نشان چھینا گیا، ہمارے ترجیحی امیدواروں کو میدان سے ہٹوایا گیا، حتیٰ کہ الیکشن کمپین تک نہیں کرنے دی گئی- یہ سب کرنے کے باوجود جب الیکشن میں پاکستانی عوام نے ہمیں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستوں پر کامیاب کیا تو فارم 47 کے ذریعے رزلٹ تبدیل کر کے صرف 17 سیٹیں جیتنے والی پارٹی کو ملک پر مسلط کر دیا- اور اس انتخابی فراڈ کو چھپائے رکھنے کے لیے اور تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش میں جمہوریت کو مکمل طور پر پاؤں تلے روند دیا گیا ہے۔
الیکشن آڈٹ کے خودمختار ادارے “پتن” کی رپورٹ اس سلسلے میں سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کیسے اس ملک میں جمہوریت کا نقصان کر کے دھاندلی کے 64 نئے طریقے اپنائے گئے۔ میڈیا پر بدترین قدغنیں لگا کر اور انسانی حقوق کو پامال کر کے جمہوریت کے تمام ستونوں کو برباد کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو ان کے نمائندگان چننے کا حق نہیں ہے۔
الغرض جمہوریت کے تمام بنیادی ستون بشمول خودمختار عدلیہ، حق آزادئ رائے، آزاد میڈیا اور انسانی حقوق ختم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سب کے پیچھے بنیادی طور پر تحریک انصاف کو کچلنے اور الیکشن ڈاکے پر پردہ ڈالنے کی قبیح کوشش کارفرما ہے۔
1/3
Former Prime Minister Imran Khan's Conversation with His Lawyers and the Media Team in Adiala Jail on January 25, 2025
“The government of ‘orderlies’ [subservient to the military establishment] is continuously avoiding the establishment of a judicial commission because they know that the events of May 9th (2023) were orchestrated by the establishment itself. They committed arson and tampered with the CCTV footage. They got me abducted from the court only because they anticipated a public reaction and sought to manipulate public emotions to achieve their nefarious objectives. A peaceful protest was turned into a false flag operation by planting their agents. Thousands of our leaders and workers were abducted and tortured under the guise of May 9th. The tactic was devised where our people were abducted and then forced into giving statements against PTI and leaving the party. 16 of our workers were martyred, and four were left disabled. Despite these injustices inflicted upon us, fake cases were filed against us. The entire drama of May 9th was staged to crush PTI and instill fear so people would abandon the party. However, the narrative of May 9th collapsed on February 8th (2024) when despite all restrictions, PTI clean swept the elections. The elections were postponed with the aim of using false propaganda to discredit PTI amongst the masses, but they failed. Similarly, November 26th (2024) was used to instill fear and stop peaceful protesters from raising their voices. Our call on November 26th was for the restoration of democratic values in the country, but the government and establishment stained their hands with blood by opening fire on innocent, unarmed protesters. November 26th was yet another attempt to crush PTI.
The puppet government has dealt a severe blow to democracy, stripping the public of their fundamental rights. The PECA Amendment Act is another link in this chain. First, the independent media was silenced — (journalist) Arshad Sharif was killed, (other) journalists were abducted and tortured, and social media was restricted. Now, the Form 47 (electoral fraud) government has passed a draconian law to stifle freedom of expression. Amendments to PECA laws were made to suppress political dissent, an act that deserves the strongest condemnation. Democracy cannot thrive without an independent judiciary, rule of law, and freedom of expression. This illegitimate assembly has done nothing but pass laws attacking democracy, such as the 26th Constitutional Amendment or the PECA Amendment Act. The 26th Amendment was aimed at extending the tenure of the Chief of Army Staff, and they feared that election fraud would be exposed if the judiciary remained independent. Judicial autonomy has been sacrificed for personal gains.
Prepare to observe a nationwide ‘Black Day’ on February 8th. Public mandate was stolen on this day, just like it was in 1971. People from Khyber Pakhtunkhwa and northern Punjab should gather in Swabi for protests, while others must hold demonstrations in their respective cities. Overseas Pakistanis should also raise their voices across the globe on this day. Once again, I urge overseas Pakistanis to continue their boycott of foreign currency remittances. Sending money to this government strengthens the very hands that are tightening the noose around your necks.
We will engage with all political parties in Pakistan for the restoration of democracy. I direct my party to expedite communications with other parties for this purpose so the public can be freed from this dictatorship masquerading as democracy.
Ali Amin Gandapur faces immense pressure in governance as Chief Minister. Therefore, we have decided that Junaid Akbar Khan, a loyal and long-serving worker of PTI, will be appointed as President of PTI Khyber Pakhtunkhwa, and organizational matters will be entrusted to him.”
“سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے-
میں اس آمریت کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا اور اس آمریت کے خلاف جدوجہد میں مجھے جتنی دیر بھی جیل کی کال کوٹھری میں رہنا پڑا میں رہوں گا لیکن اپنے اصولوں اور قوم کی حقیقی آزادی کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کروں گا-
ہمارا عزم حقیقی آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہے، جس کے حصول تک اور آخری گیند تک لڑتے رہیں گے- کوئی ڈیل نہیں کروں گا اور تمام جھوٹے کیسز کا سامنا کروں گا-
میں ایک بار پھر قوم کو کہتا ہوں کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھیں- پاکستان میں 1971 کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے- یحیٰ خان نے بھی ملک کو تباہ کیا اور آج بھی ڈکٹیٹر اپنی آمریت بچانے کے لیے اور اپنی ذات کے فائدے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے-
آج القادر ٹرسٹ کے کالے فیصلے کے بعد عدلیہ نے اپنی ساکھ مزید تباہ کر دی ہے- جو جج آمریت کو سپورٹ کرتا ہے اور اشاروں پر چلتا ہے اسے نوازا جاتا ہے- جن ججز کے نام اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھیجے گئے ان کا واحد میرٹ میرے خلاف فیصلے دینا ہے-
یہ کیس تو دراصل نواز شریف اور اس کے بیٹے کے خلاف ہونا چاہییے تھا جنہوں نے برطانیہ میں اپنی 9 ارب کی پراپرٹی ملک ریاض کو 18 ارب میں بیچی- سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ ان کے پاس 9 ارب کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔
القادر یونیورسٹی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ہی عوام کے لیے ایک مفت فلاحی ادارہ ہے جہاں طلبأ سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے- القادر یونیورسٹی سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہوا اور حکومت کو ایک ٹکے کا بھی نقصان نہیں ہوا-
القادر ٹرسٹ کی زمین بھی واپس لے لی گئی جس سے صرف غریب طلبأ کا نقصان ہو گا جو سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے-
القادر ٹرسٹ کا ایسا فیصلہ ہے جس کا پہلے ہی سب کو پتہ تھا- چاہے فیصلے کی تاخیر ہو یا سزا کی بات سب پہلے ہی میڈیا پر آ جاتا ہے- عدالتی تاریخ میں ایسا مذاق کبھی نہیں دیکھا گیا- جس نے فیصلہ جج کو لکھ کر بھیجا ہے اسی نے میڈیا کو بھی لیک کیا-
میری اہلیہ ایک گھریلو خاتون ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے- بشرٰی بی بی کو صرف اس لیے سزا دی گئی تاکہ مجھے تکلیف پہنچا کر مجھ پر دباؤ ڈالا جائے- ان پر پہلے بھی گھٹیا کیسز بنائے گئے- لیکن بشرٰی بی بی نے ہمیشہ اسے اللہ کا امتحان سمجھ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ میرے کاز کے ساتھ کھڑی رہی ہیں-
مذاکرات میں اگر 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں- بددیانت لوگ (cheaters) کبھی نیوٹرل ایمپائرز کو نہیں آنے دیتے- حکومت جوڈیشل کمیشن کے مطالبے سے اسی لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ بد دیانت ہے۔” - سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
A Pakistani court handed former Prime Minister Imran Khan a prison sentence after finding him guilty of misusing power while in office https://t.co/lV1NGrGa9X