کون بولے گا اسی طرز پہ پھر سے حق پر
کس کی جرات ہے خداؤں کو دکھانا آنکھیں
بت پرستوں کو گوارا نہیں لہجہ اُس کا
کون چاہے گا کبھی اس سے ملانا آنکھیں
میرے محسن ترا احسان یہ نسلوں تک ہے
تجھ سے سیکھیں ہیں زمانے نے اٹھانا آنکھیں
ابھی تو آغاز ہے پیارے۔۔۔۔۔
وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتوں میں صرف ایک خیبر پختون خوا کی حکومت فارم 45 کی حقیقی عوامی حکومت ہے باقی تو مسلط شدہ ہارے ہوئے فارم 47 کی جعلی حکومتیں ہیں۔۔۔
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
واضح ہو گیا ہے کہ ہمارے جرنیل یا اسٹیبلشمنٹ، انڈیا سے بڑھ کر ہمارے دشمن ہیں۔ کوہاٹ کے دھماکے کے بعد محسن نقوی آ کر کہہ رہے ہیں کہ جماعتِ اسلامی یا تحریکِ انصاف اپنے دھرنے ختم کرو۔
تم نے پہلے بھی اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے بے قصور لوگوں کو قتل کیا ہے۔ تم جو اتنی مہنگائی کر رہے ہو، عوام کو لوٹ رہے ہو، تو عوام اسلام آباد کیوں نہ آئے؟ پیٹرول پر لیوی کس چیز کی ہے؟ کیا آئی پی پیز تمہارے نہیں ہیں؟ غریب عوام کہاں جائیں؟ کوئی بات ہو جائے تو آئی ایم ایف کو سامنے کر دیتے ہو۔
تمہیں آئی ایم ایف گیارہ، گیارہ ارب کے جہاز لینے دیتا ہے، لیکن عوام کو ریلیف نہیں دینے دیتا۔ ان کے پاس اس جہاز کی کوئی جسٹیفکیشن نہیں ہے۔
مریم نواز نے برطانیہ جانے کا اڑھائی کروڑ روپے کرایہ دیا ہے۔ اگر یہ جہاز نہ ہوتا تو بھی آپ اڑھائی کروڑ میں سفر کرتیں۔ کل وہ ملتان میں اپنے UK کے سفر کی رسیدیں پیش کر رہی تھیں۔
کل مریم نواز ملتان میں کہہ رہی تھیں کہ کارڈیالوجی میرے والد نے بنایا۔ جس مینارِ ہسپتال میں وہ کھڑی تھیں، اس کا آغاز کس نے کیا؟
کارڈیالوجی کا منصوبہ میں نے بنایا، جب میں ہیلتھ منسٹر تھا۔ اس کے فنڈز بھی میں نے مختص کیے۔ مینار کینسر ہسپتال پہلے سے موجود تھا، لیکن میں نے اسے بھی اپ گریڈ کیا اور جدید مشینری فراہم کی۔
میرے علاوہ ملتان کے کسی اور ممبر نے نشتر کالج، ایئرپورٹ اور باقی بڑے بڑے منصوبوں کا مطالبہ ہی نہیں کیا۔ صرف میں تھا جو اس خطے کے لیے آواز اٹھاتا رہا۔
نواز شریف ایئرپورٹ کا کریڈٹ یوسف رضا کو دیں گے، کارڈیالوجی کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو دیں گے، اس کا فنڈ فنانس ڈویژن سے بھی میں نے منظور کروایا، لیکن جاوید ہاشمی کا نام وہ کبھی نہیں لیں گے۔ حالانکہ کبھی یوسف رضا اور پرویز الٰہی نے کبھی کلیم بھی نہیں کیا۔
اس وقت میاں نواز شریف خود کہتے تھے کہ جاوید ہاشمی بازو مروڑ کر کام لے لیتا ہے۔
میرے بھائی کا فارم اب گرایا گیا ہے۔ کیا میں نے مریم نواز کا نام لیا؟ میں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے گرایا۔ ان کی اتنی ہمت بھی نہیں۔
میرا کنٹرول شیڈ عمران خان کی حکومت میں گرایا گیا۔ مجھے پتا تھا کہ گرانے والی اسٹیبلشمنٹ ہے۔
میں اگر ان کی کرپشن کا حصہ دار بنتا تو اپنے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام نہ کروا سکتا۔ اگر میں نواز شریف کی شوگر مل کی پیشکش مان لیتا، پلاٹ لے لیتا، تو آج بات کرنے کے قابل نہ ہوتا۔ مجھے اپنے موقف کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔
سہیل آفریدی مضبوطی سے کھڑا ہے، اسے salute کرتا ہوں۔
آج پاکستان کا جرنیل بزدل اور ڈرپوک ہے، ورنہ اسی مٹی نے دنیا کے بہادر ترین جرنیل پیدا کیے ہیں۔ تم نے ان کا نام مٹی میں ملا دیا۔
مجھے یہ کیوں نہیں پکڑتے؟ پہلے ایک عمران خان ان سے نہیں سنبھل رہا۔
میرا پیغام چودہ کروڑ لوگوں تک پہنچا ہے، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، جیسے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک وغیرہ۔
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
Indians comment a lot about the Taliban while their own country is no different.
Here, a couple is tied to a tree, their faces blackened, and a garland of slippers is hung around their necks.
India calls itself a democratic country where punishing criminals should be the job of the law.
But in reality, the laws here remain only on paper.
Many are quoting @NiohBerg as the voice of the oppressed Iranian, the one we must free, the truth of their people, and what they want and need.
What they forget is Nioh isn't Iranian.
He's Chandresh. An Indian paid by Israel, to pretend, but who forgot to delete.
As American soldiers return home in coffins draped in the Stars and Stripes, Netanyahu’s son is reportedly still living large in Miami
Recent video from Hallandale Beach 👇
بڑے شہروں میں رہنے والوں کیلئے انوکھا احتجاج ٹریفک بند کرنے کا آسان طریقہ شہباز گل نے بہت زبردست پلان دیا ہیں گھروں سے اپنے گاڑیوں کو نکال کر شہر میں آہستہ چلائے روڈ جام کرو خود بخود بلاک ہوگا اس طرح آپ کو چالان بھی نہیں ہوگا حکومت کا سر درد بڑھ جائے گا
@SHABAZGIL Salam Hai Apko