جناب فیلڈمارشل فارم 47 کی ایک جعلی حکومت بنانے کا آپکو ذاتی فائدہ تو ضرور ہوا لیکن پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کردیا اگر الیکشن چوری نہ کیا ہوتا تو انڈیا کو یہ کہنے کی جرات نہ ہوتی
اس پر پہلے کبھی بات نہیں ہوئی لیکن آج یہ پوسٹر لندن احتجاج میں دیکھا کہ جنت کے ٹھکیدار ،عمران خان،اسکی فیملی اور پاکستانیوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش کیوں؟
پوچھنا یہ تھا کہ
کورکمانڈر کے گھر سے مور چرانے والے کو تو 9 سال سزا سنائی گئی تھی
مگر ستر سال سے جو قوم کا ووٹ چوری کر رہے ہیں ان کیلئے کونسی سزا ہونی چاہیے
یہ ہےانکی اوقات باہر کے ملک میں کتے کی طرح زلیل ہوتےھین کیسےگالیاں کھارہا ہے اور منہ سے چوں تک نہیں نکل رہی اور اپنے ملک میں یہ کیسے فرعون بنے ہوتےھین بے شرم
دو سال ہو گئے، مگر ناانصافی ختم نہ ہوئی!
سید سلمان رضا امن اور روزگار کی تلاش میں شارجہ گئے اور سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے، لیکن 27 ستمبر 2024ء کو انہیں جبراً اغوا کر لیا گیا، آٹھ ماہ نا معلوم مقام پر بے رحمانہ تشدد اور بغیر اینستھیزیا کے ہولناک طبی سزاؤں کے بعد مئی 2025ء سے وہ ابوظبی کی الوثبہ جیل میں قید ہیں، ان کی اہلیہ نے 18 ماہ متحدہ عرب امارات میں تنہا جنگ لڑی اور انہیں ایک بار بھی بالمشافہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 8 تکلیف دہ مہینوں کی قید کے بعد بالآخر انہیں ویڈیو کالز کی اجازت دی گئی جو ان کا بنیادی حق تھا لیکن صرف 8 مختصر کالز کے بعد پچھلے 4 ماہ سے وہ سلسلہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، پاکستان میں ان کے شدید علیل اور بستر سے لگے والد جو دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، اپنے بیٹے کی ایک آخری جھلک دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
سید سلمان رضا کے ساتھ قید جنید جہانگیر بھی اسی بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں، دو سال ان کی زندگی سے چھین لیے گئے۔
ہم اماراتی قیادت، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے سید سلمان رضا اور جنید جہانگیر کی فوری، غیر مشروط اور بحفاظت رہائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
@uaeembassyisb@hrw@amnesty@UNHumanRights@amnestysasia@amnestyAR@RSF_inter@DropSiteNews@FirstPakGlobal
#TransnationalRepression
#ReleaseSalmanRaza
#ReleaseJunaidJahangir
بہادری ٹریگر دبانا نہیں بلکہ غلط ہونے پر ٹریگر دبانے سے انکار کرنا اصل بہادری ہے۔
ہر سپاہی کو ایک سوال کا جواب دینا ہوتا ہے کیا یہ حکم عادلانہ ہے؟
یاد رکھیں، اللہ کے حضور جوابدہی ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
#نکلو_ڈٹ_جاؤ_خان_کیطرح
فوجی پراڈکٹس کا بائیکاٹ! ⬇️
پاکستان میں مسلح افواج اپنے ویلفیئر اداروں اور ذیلی کمپنیوں کے ذریعے براہِ راست اور بالواسطہ پیٹرول پمپس کا نیٹ ورک چلاتی ہیں، فوج کی زیرِ نگرانی چلنے والے اہم پیٹرول پمپس اور ان کے برانڈز درج ذیل ہیں۔
1. عسکری فیولز / عسکری انرجیز
(Askari Fuels / Askari Energies)
یہ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (AWT) کا ایک پراجیکٹ ہے، یہ کمپنی ملک بھر میں اپنے نیٹ ورک کے تحت پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز اور ملٹی فیول پمپس چلاتی ہے۔
2. عسکری پیٹرول پمپس (فرینچائز نیٹ ورک)
پاکستان آرمی کے عسکری ادارے اور کینٹونمنٹ بورڈز ملک کی بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (جیسے PSO یا Total Parco) کے ساتھ اشتراک (Franchise) کے تحت بھی متعدد پمپس چلاتے ہیں، جنہیں عام طور پر عسکری پیٹرول پمپ (Askari Petrol Pump) کا نام دیا جاتا ہے۔
3. فوجی پیٹرولیم سروسز
(Fauji Petroleum Services)
فوجی فاؤنڈیشن اور اس سے وابستہ ذیلی ادارے بھی ملک کے مختلف حصوں (خاص طور پر فوجی شوگر ملز یا ان کے صنعتی یونٹس کے قریب اور کینٹونمنٹ کے علاقوں میں) اپنے پیٹرول پمپس چلاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، وزارتِ دفاع کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کی مختلف کینٹونمنٹس (Cantt Areas) اور ملٹری فارمز کے اندر اور ان کے ارد گرد 30 سے زائد پیٹرول پمپس فوجی انتظامیہ یا ریٹائرڈ فوجی افسران کی نگرانی میں کام کر رہے ہیں۔ (یہ 2014 کے اعداد و شمار ہیں)
#BoycottFaujiProducts
”لانگ مارچ کی تاریخ ایک ہفتہ آگے جانے سے تحریک انصاف کو تیاریاں کرنے کیلئے مزید وقت ملا ہے۔ ہم سب کو یقینی بنانا ہو گا کہ خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ سے عوام کی زیادہ سے زیادہ تعداد شریک ہو۔ ہزاروں پولیس اہلکاروں کو لانگ مارچ کے نام پر اربوں روپے قومی خزانے سے لوٹ کر ذلیل کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے افسران خود بہترین رہائش اور کھانے کھا رہے ہیں اور نیچے اہلکاروں کو غیرمعیاری کھانے پر رکھا ہوا ہے۔“ بیرسٹر شہزاد اکبر
@ShazadAkbar