تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کے یہ ایک پڑھے لکھے
نوجوان طبقے کی نماندگی کر سکتی ہے جو پرانے فرسودہ نظام کو بدل کر ایک نیا پاکستان بنتا دیکھنا چاہتا ہے۔
مگر تحریک انصاف کی لیڈر شپ، نماندگی، اور بیانیہ ایسے لوگوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے جو سوشل میڈیا پر لغو اور رکیک تبصرے کر کے چند ڈالر کمانے سے آگے نہیں سوچ سکتے ۔۔۔
ان لوگوں کے لئیے PTI ایک ایسی سونے کی مرغی ہے جس کا نظریاتی vote bank ان کے لئیے صرف کمائی کا زریعہ ہے۔ ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو ایجنسیوں کے ٹاوٹ رہے۔ اب لاوارث ہیں اور جلا وطنی میں اپنا غصہ اس ملک پر نکال رہے ہیں۔ PTI کے سپوٹر کو اسے لوگوں کے ایجنڈے سے دور رہنا چاہیے۔ عادل راجہ، معید پیزادہ، اور شہباز گل وغیرہ نے نیا پاکستان نہیں بنانا۔ ان گھس پیٹھوں سے جان چھڑایں ۔۔۔
The Government and its Allies exhausted every avenue
of parliamentary engagement, direct dialogue and back channel diplomacy with the KP Government and PTI Leadership.
KP has borne a heavy burden of terrorism and our security forces and civilians have made immense sacrifices. In these circumstances, cooperation should have been the priority not confrontation.
This was neither a political decision nor an easy step. It was a difficult CONSTITUTIONAL course made necessary by the circumstances on the ground. When every avenue for cooperation has been exhausted, the Constitution and Pakistan should be the priority.
May Allah protect Pakistan and bless our nation with lasting peace.
مان لو وہ جیت چکا ہے
پہلے خود اندر گیا ، پھر بیگم اندر ، پھر پارٹی اندر ، پھر حکومت بھی ختم کروا لی ۔۔۔ اب مان لو وہ بہت بڑی گیم کھیل رہا ہے پہلے اکیلا اندر تھا اب سب اندر 😉
PTI was, is and will be responsible for the destruction of our motherland. This project will always be remembered as a filthy waste of time and resources. They have looted and destroyed our land since 12 years and whatever damages they have done will take much more time to recover. Whatever happening now the responsibility lies on PTI and those who have brought them to power in 2013+2018+2024. This nation will never forgive you all.
میرے خیبر پختونخوا کے بہادر عوام!
آج وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں امن کے قیام، عوام کی خوشحالی اور صوبے کی ترقی کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دے چکا ہے۔ ہمارے عوام، پاک فوج، پولیس, شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیں اور مل کر اپنے صوبے میں پائیدار امن قائم کریں.
میں اپنے تمام بھائیوں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آئیں، سیاسی اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے، اپنے صوبے کے امن، اپنے عوام کے تحفظ اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل پر متحد ہو جائیں۔ ہمیں اپنی ریاست کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں اپنے اختلافات کو اپنے صوبے کے مشترکہ مفاد کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے حقوق کی آواز بننا، آپ کے مسائل کو متعلقہ فورمز پر اٹھانا اور آپ کے لیے مواقع پیدا کرنے کی جدوجہد کرنا میری ذمہ داری ہے. میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ خیبر پختونخوا کے حقوق کے لیے بھی، یہاں امن کے قیام کے لیے بھی اور اس صوبے کی ترقی و خوشحالی کے لیے بھی۔ لیکن اس جدوجہد میں مجھے آپ کا ساتھ چاہیے۔
یہ صوبہ ہمارا ہے، اس کا مستقبل ہمارا مشترکہ خواب ہے اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
میں آپ کا گورنر ہوں، لیکن اس سے بڑھ کر میں اس مٹی کا خادم اور آپ کے حقوق کا محافظ بن کر اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آئیے، مل کر خیبر پختونخوا میں امن لائیں،اور اپنے صوبے کی ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کریں
پاکستان زندہ باد!
خیبر پختونخوا پائندہ باد !
شاہد خٹک ٹوئیٹ کر رہے ہیں سارے قبائلی نکلیں، سارے اوورسیز پاکستانی نکلیں ۔۔۔ یہ سب کو نکلیں ۔۔نکلیں بول کر خود نکل جاتے ہیں اس بار تو حکومت سے ہی نکل گئے ۔۔۔ 13 سال سے بیٹھے تھے ۔۔بالکل ہی پیدل ہیں
خیبر پختونخواہ کے بھائیوں کا حق ہے کہ وہاں امن ہو ، دہشت گرد اور ان کےسہولتاکار ختم ہوں ، اچھی سڑکیں ، اچھے تعلیمی ادارے ، معیاری سہولتوں سے آراستہ اسپتال، اسکول اور تعلیمی اداروں میں مستقبل کے معمار پیدا ہوں ، ترقی خوشحالی ہو بھتہ خوری کا خاتمہ ہو ، اچھی حکمرانی ہو میرا خیبر پختونخواہ، بلوچستان، پنجاب ، سندھ ، گلگت بلتستان کشمیر ترقی کرے
Suhail Afridi and his associates have proven to be absolutely disastrous for the PTI. They have diligently worked to destroy the party's only political card (PTI govt) to bargain with the federation on Imran Khan. They have literally invited the federal govt to take over power. They are either top level fools or top level Trojan Horses. In either case, they have cooked the PTI's goose throughly.
ہمارے بعد کی نسلین قومی ترانے کیلئے کھڑی نہیں ہوں گی، ہمارے بعد کی نسلیں پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گی سہیل آفریدی۔
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو خود کو ایک صوبے کا وزیراعلیٰ کہتا ہے اور ایسی آزادی بھی صرف پاکستان میں ہے جہاں ٹھہر کر آپ پاکستان کو توڑنے اور نفرت پھیلانے کا کام کر سکتے ہیں۔
اس لانگ مارچ میں یا اس سے پہلے کسی موقع پر سہیل آفریدی نے دہشتگردوں کی مذمت کی جو آئے روز پاکستانیوں کو مار رہے، جو آئے روز مسجدوں، بازاروں، حجروں، چیک پوسٹوں پر دھماکے کر رہے۔
جب سے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنا ہے کیا اس نے کبھی دہشتگردوں کی مذمت کی؟ کیا اس نے کبھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی؟ کیا یہ کبھی سیکیورٹی فورسز کے جنازوں میں گیا؟
لیکن یہ پاکستان ہے جہاں آپ ٹھہر کر پاکستان کو گالی بھی دے سکتے، پاکستان کو توڑنے کی بات بھی کر سکتے، پاکستان کے جھنڈے کی تذلیل بھی کر سکتے کیونکہ یہاں سب کو لامتناہی شتر بے مہار نام نہاد آزادی حاصل ہے۔
13 سال سے KP میں انکی حکومت ھے۔ چار سال وفاق میں یہ حکمران رھے۔ یہ اسی پاکستان کی نوازشیں ھیں جس کو یہ گالی دے رھے ھیں ۔ اسی پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ انکی ملی بھگت ھے۔ انکی وفاداری اقتدار اور صوبے اور وفاق کے وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ھے۔ یہ لوٹ مار اور اقتدار کے لئے وطن کی مٹی جس کو شہیدوں کے لہو نے سینچا ھے اس سے غداری کرنے کو ھر وقت تیار ھیں۔
منجی کا ترٹ گیا ہے پاوا خبر
اور ناظرین ریچھ اور کتے کی لڑائی پورے عروج پر پہنچ چکی ہے اور پیاز پُور یہ دعویٰ کررہا ہے کہ تم ایک بیغیرت شخص ہو جو مراد سویٹ طرح پچھواڑہ بیس پر وزارت اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے ہو
سناؤ فیر
100 دن میں امن لانے کا چورن جو سہیل آفریدی بیچ رہا ہے،اسی طرح کے چورن ماضی میں عمران خان نے بھی بیچے تھے جیسے 50 لاکھ گھر، 1کروڑ نوکریاں، 200$ارب باہر سے آئیں گے اور بلین ٹری سونامی وغیرہ وغیرہ۔ 13 سال حکومت میں جو کام نہیں ہوا وہ 100 دن میں کریں گے،یہ سمجھتے ہیں سارا پاکستان یوتھیا ہے
اور ناظرین خیبر باڑہ کے مقام پر “ بتیاں “ جلا کر ساڑھے چار کروڑ آبادی کے صوبہ پختونخوا میں لاکھوں کی حاضری کا دعویٰ کیا جارہا ہے اور تمام AI ایپس نے بتلایا ہے کہ 1800 سے زائد کا مجمع نہیں ہے جبکہ یوٹیوبر مافیا بھی اس ہجوم کو کروڑوں میں دکھا رہا ہے لیکن حقیقت گروک سمیت چیٹ جی پی ٹی نے کھول کر رکھ دی ہے اور عمرانی جماعت کا یہ پرانا طریقہ واردات ہے کہ رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیشہ کراؤڈ کی تعداد پر رپھڑ ڈالا جاتا ہے اور یہاں مورخ بھی لکھ چھوڑے گا کہ یہی کروڑوں لوگ دن کے اجالے میں کس مما کی چولی میں وڑ کر غائب ہوجاتے ہیں
جب سالا وارداتیں کر رہا تھا اسوقت دین نہیں یاد تھا۔ میں گناہ گار آدمی ھوں کہنے کی جسارت کر رہا ھوں ۔ یہ منافقت ھے ھمارا دین نہیں۔ دین حلیہ یا وضع قطع سے نہیں روح کی پاکیزگی سے آتا ھے۔
ٹورونٹو اور اسکے گرد و نواح میں افغان کثیر تعداد میں آباد ہیں، چونکہ ان کا شمار غیر ہنرمند لیبر میں ہوتا ہے اس لئیے زیادہ تر ٹیکسی ڈرائیور، حجام، ریسٹورینٹ ورکر، ورکشاپ ورکر یا گروسری سٹور ورکر کے طور پر کام کرتے ہیں، البتہ پچھلے چند برسوں سے ان میں چند ایک ریسٹورینٹ بزنس قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
اگر آپ کی ان سے کبھی ملاقات ہو تو یہ آپ کو دیسی دیکھ کر کھِل اٹھتے ہیں۔۔کچھ خراج عقیدت کے طور پر ایشوریہ رائے پر فلمایا گیا ایک آدھ بالی ووڈ فلمی گیت بھی بھدی آواز میں گانے کی کوشش کرتے ہیں، پھر پوچھتے ہیں۔۔آر یو انڈین؟ لیکن جیسے ہی آپ بتائیں کہ آپ پاکستان سے ہیں، بدن کے ہر عضو اور زاوئیے سے نفرت اور بیزاری ٹپکنے لگتی ہے۔ پھر آپکو بتاتے ہیں۔۔۔پاکستان از ویری بیڈ کنٹری ۔ ۔ نو گُڈ۔۔! کچھ تو اس حد تک بیزار ہوتے ہیں کہ سروس دینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ ایسا بےشمار بار ہو چکا ہے کہ کسی ریستوران یا ہئیر ڈریسر کے پاس آپ گئے ہیں لیکن ویٹر نے سرو کرنے اور حجام نے بال کاٹنے سے صرف اس لئیےانکار کر دیا کہ 'اسکی مرضی'.
اگر یہ کچھ گفتگو پر آمادہ ہو جائیں تو فوراً بتاتے ہیں کہ یہ خود بھی اسلام آباد یا پشاور میں پلے بڑھے ہیں اور یہ چھ ماہ سے ماں کے پیٹ میں تھے جب ان کے والدین نے پاکستان ہجرت کی جہاں یہ اور انکا خاندان نہ صرف محفوظ رہا بلکہ کاروبار قائم کرنے میں بھی کامیاب ہوا۔ انکے بہن بھائی پاکستان میں پیدا ہو کر پلے بڑھے ہوتے ہیں، والدین میں سے ایک آدھ پاکستان میں مدفون بھی ہوتا ہے۔
یہ خود گفتگو میں بتاتے ہیں کہ کیسے انکے فلاں فلاں کزن نے لاہور میں ایک تاجر سے بحث کے دوران اسکی آنتیں باہر نکال دی تھیں کیونکہ وہ انکے کزن سے بحث کرتا تھا۔ یہ اس بات پہ فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی
معاشرے کو سوائے منشیات اور اسلحے کے کچھ نہیں دیا
یہ خود قانونی یا غیر قانونی پاکستانی پاسپورٹ پر باہر آئے ہوتے ہیں، یہ خود غیر تعلیم یافتہ، گفتگو میں غیر متوازن، حرکات و سکنات میں دھونسی، اور بدن بولی میں رعونت سے پُر ہونے کے باوجود خود کو آپ سے افضل سمجھتے ہیں، اور آپ سے روزمرہ سلوک بھی ویسے ہی کرتے ہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان کی ہر جگہ برائی کرنا اور اسے بطور ایک برائی کا منبع پیش کرنا فرض سمجھتے ہیں۔
لیکن۔۔۔
اسکے باوجود رہنا انہوں نے پاکستان میں ہے اور ان کو انکے پاکستان سے 'ہزار درجہ افضل' ملک افغانستان واپس بھیجنا 'ظلم' ہے۔
فوج کو گالیاں دیں گے کیونکہ دہشتگردی ہو رہی ہے
لیکن جو دہشتگردی کر رہے ہیں، انکے خلاف نہیں بولیں گے
یہ بیانیہ صرف چرس اور ہیروئین پینے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ عام آدمی کے ذہن میں نہیں آتا
میر صاحب آپ معاملے کو جس زاویے سے دیکھ رہے ہیں در اصل حقائق اس سے مختلف ہیں اور یہی سوال تو ہم مسلسل اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایمل ولی اور مولانا فضل الرحمن وغیرہ بھی ان اضلاع میں پی ٹی آئی کی طرح جلوس"بخیرو عافیت" گزار لیں گے؟
اگر نہیں ! تو پھر "پس پردہ معاملے" کو سمجھنا بھی چاہیئے۔
پاکستان کی پالیسی غلط ہے،
پاکستان کی فوج بھی غلط ہے،
بند کمروں کے فیصلے بھی غلط ہیں،
آپریشن بھی غلط ہیں،
تمھاری سب باتیں مان لیں گے لیکن ایک دفعہ یہ بھی بول کر دکھاو کہ
"جو دہشتگردی کرتا ہے وہ غلط ہے"
"جو مساجد میں پھٹتا ہے وہ غلط ہے"
ادھر تمھاری ہٹ کیوں جاتی ہے؟