Pak PMS Fraternity, a superior service of all Provinces adding its memorable contribution in the development of Pakistan. (Tweets R NOT official stance by PMSA)
اعلامیہ اجلاس پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA)
لاہور، 17 جولائی 2026
پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA) کی ایڈوائزری کونسل کا ایک اہم اجلاس آج فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوا، جس میں گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے 100 سے زائد پی ایم ایس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف میڈیا اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
اجلاس سے جن سینئر افسران نے خطاب کیا ان میں جناب طارق محمود اعوان، جناب رائے منظور ناصر، جناب ظفر حسین نقوی اور صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی شامل تھے۔
صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی نے پنجاب میں گورننس سے متعلق مسائل اور پی ایم ایس افسران کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جہاں PAS افسران کی تعداد تقریباً 326 ہے، وہاں PMS افسران کی تعداد 1200 سے زائد ہے، جو پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے انتہائی شفاف، میرٹ پر مبنی مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اپنے کیریئر میں مسلسل ناانصافی اور امتیازی رویے کا سامنا ہے جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی اور بددلی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ:
• پروموشن بورڈز بروقت منعقد نہ ہونے اور محدود آسامیوں کی وجہ سے PMS افسران کی ترقی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے۔
• اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں میں PAS افسران کو غیر متناسب ترجیح دی جاتی ہے جبکہ PMS افسران کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر GOR-I لاہور میں حالیہ الاٹمنٹس میں تقریباً تمام مکانات PAS افسران کو دیے گئے جبکہ کسی بھی PMS افسر کو الاٹمنٹ نہیں ملی۔
• سرکاری قرضہ سکیموں میں بھی واضح عدم توازن موجود ہے جہاں تقریباً 80 فیصد کیسز PAS اور صرف 20 فیصد PMS افسران کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
• اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کا طرزِ عمل PMS افسران کے حوالے سے جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے، جس سے سروس کے مورال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی گئیں:
کیڈر کی نشستوں کی باقاعدہ کیڈرائزیشن کی جائے تاکہ پروموشن کا منصفانہ اور پائیدار ڈھانچہ قائم ہو۔
• پروموشن بورڈز مقررہ اوقات میں باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
• اہم عہدوں پر تعیناتیاں اور تبادلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں اور PMS افسران کو ان کے جائز تناسب کے مطابق نمائندگی دی جائے۔
• مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط، بااختیار اور فعال بنایا جائے۔
• بہتر عوامی خدمت کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔
• وفاقی حکومت کی طرز پر صوبہ پنجاب میں سیکرٹری کابینہ کا علیحدہ عہدہ تخلیق کیا جائے تاکہ چیف سیکرٹری کے اختیارات میں مناسب توازن پیدا ہو۔
• چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ وفاقی پلاننگ کمیشن کی طرز پر ایک منتخب عوامی نمائندے کے سپرد کیا جائے۔
• افسران کے پروموشن بورڈز سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے بجائے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقد کیے جائیں تاکہ مکمل غیرجانبداری اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن کیا جائے تاکہ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ہو۔
• سیکرٹریز اور دیگر افسران کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی مؤثر نگرانی کی جائے اور غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو مونیٹائز کیا جائے۔
• عوامی وسائل کے استعمال اور سرکاری اخراجات کی مکمل تفصیلات ایک عوامی آن لائن پورٹل پر دستیاب کی جائیں تاکہ شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے۔
• سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکٹ ہاؤسز کی بکنگ کا نظام بھی مکمل طور پر آن لائن کیا جائے تاکہ ہر اہل افسر کو مساوی اور شفاف سہولت میسر آ سکے۔
* شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ایم ایس افسران کو اعتماد میں لئے بغیر پی ایم افسران کو متاثر کرنے والے کسی بھی نئے انتظامی تجربے کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ مطالبہ کیا کہ پنجاب میں حکومت کے گُڈ گورننس اور بہترین پبلک سروس ڈیلیوری کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبائی افسران کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور امتیاز کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ انصاف اور میرٹ پر مبنی انتظامی تعیناتیاں ہی مؤثر گورننس، عوامی خدمت اور ادارہ جاتی استحکام کی ضمانت ہیں۔
آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ایم ایس افسران کے تحفظات دور نہ کرنے کی صورت میں آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے آئیندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ @MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
https://t.co/Cm5HR26AEM
Section Officers posts were almost redundant because of automation so we converted them into Additional Assistant Commissioners post. Says Additional Chief Secretary Punjab.
Punjab’s creation of 101 AAC posts by executive fiat is a blatant encroachment on legislative power. Bypassing assembly debate to restructure the civil service invites systemic chaos. It hollows out the secretariat and compromises democratic checks.
#NoToAAC#NoTo(mis)Governance
@LoneWolf1502 Many PMS officers are CSS qualified. There is not much difference in CSS and PMS exams. There are dozen of example of those who were failed in PMS and then passed CSS 😁
پیرا فورس، تحصیلدار،AC ہونے کے باوجود AAC کی پوسٹ تخلیق کرنا سمجھ سے بالاتر ہے؟ تحصیل میں کیا کرنا چاہتے ہیں۔ افسران کی فوج ظفر موج اکٹھی کرنے کا کیا مقصد ہے؟ تخلیق بھی اسمبلی کی منظوری کے بغیر غیر آئینی طور پر۔ اور پھر عوام کو انکی گاڑیوں گھروں عملہ کیلئے اربوں روپے کا جھٹکا
@PMSPUNJAB@MaryamNSharif@MaryamNSharif Mam Super CM, PMS Officers constitute majority of administrative officers in Punjab. We have been facing worst kind of discrimination and injustice during last 3 years, yet we didn’t complain and endured it and showed grace. 1/n
@altaccountwoes@PMSPUNJAB@RShahzaddk PAS service is totally unconstitutional and unlawful since day 1. This service is not derived from any constitution or its Act. It is based on a agreement and that agreement is not available. While PMS is constitued under Art 240B of constitution and PMS Act 2005.
@alfahigh111@PMSPUNJAB ہم تو آج بھی کہتے ہیں کہ ایک آفیسر کو ایک گاڑی دی جائے۔ GOR1 اور 2 کے ایک ایک بنگلے میں 10، 10 سرکاری گاڑیاں جنکا ریکارڈ میں وجود نہیں وہ کہاں سے آئی؟ جن گھروں کی مرمت و تزئین ہر 14، 14 کروڑ خرچ ہو رہا ہم تو اسکے بھی خلاف ہیں۔ صرف ضرورت کی مراعات ہوں جو ہر آفیسر کو یکساں ملیں
کیا یہ کھُلا تضاد نہیں ؟
————————-
* ایک طرف کفایت شعاری اور سمارٹ گورننس کے دعوے دوسری طرف کروڑوں کے اخراجات؟
* عوام اور افسران کے درمیان ایک اور دیوار ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر؟
* ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے اخراجات کا تخمینہ ساڑھے چارکروڑ سے زائد؟
عوامی خزانے پر نئے تجربے کب تک ؟
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK
بڑے سر: بیٹا آپکو کہاں مشکل پیش آتی ہے
بیٹا: سر ہمیں اے سی لیول پہ خود کام کرنا پڑتا ہے۔ باقی جگہ تو ہمیں ایڈیشنل مل جاتے ہیں
سر: لو بیٹا آپ کو اے سی لیول پہ بھی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دے دیتے ہیں۔ ہمارے بیٹے کو ساری زندگی کام نہیں کرنا پڑے گا 😁😁
@AcimHafeez@lostguy79 Those SO posts are vacant since long means there is no need for those. And there is hell of difference in SO and field post. SO is not given vehicles, TA, residences etc. If these SO posts are not required simple abolish them.
@IhsanRao@sajjadmustafa Those SO posts are vacant since long means there is no need for those. And there is hell of difference in SO and field post. SO is not given vehicles, TA, residences etc. If these SO posts are not required simple abolish them.
پنجاب میں 326 ڈی ایم جی افسران کے مقابلے میں 1200+ PMS افسران خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر اہم انتظامی عہدوں، پروموشنز، رہائش اور دیگر سہولیات میں مسلسل عدم توازن برقرار ہے۔ اگر گڈ گورننس مقصود ہے تو میرٹ، شفافیت اور مساوی نمائندگی ناگزیر ہے۔
پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA) نے اسی سلسلے میں اپنا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے
پی ایم ایس افسران نے مریم نواز کی ہر تحصیل میں اضافی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لگانے کی پالیسی بھی مسترد کردی ہے
#PMS #GoodGovernance
گورننس ہے یا بچوں کا کھیل؟
———————————-
جب چاہا سیٹ اپ گریڈ کر لی
جب چاہا ڈاؤن گریڈ کر لی
جب چاہا سیکشن 9 کی غلط تشریح کر کے اپنے بچوں کو سینئر پوزیشنز کے کھلونے کھیلنے کیلئے دے دیے۔
جی میں آیا تو گریڈ 22 کے افسر کو گریڈ 21 کی سیٹ دے دی۔
من میں آیا تو کمشنر کو ڈپٹی کمشنر بنا دیا۔
پھر شکوہ کناں ہیں کہ آپ لوگ تلخ بولتے ہیں۔
بُرا نہ مان میری تُند و تیز باتوں کا
تُو میری فِکر میں جلتے ہوئے الاؤ تو دیکھ
@MaryamNSharif@GovtofPunjabPK@CS_Punjab
Under what law a seat can be upgraded personal to Falan personal to Falan? Its the jurisdiction of Punjab Assembly. & how PCS Act being provincial may be applicable to a Federal employee? Totally lawlessness 🙄
@HamidMirPAK@helloqaisarkho1@NasrullahMalik1@maliksalmanpk
تمام صوبائی افسران 3 اگست 2026 کو احتجاج کے طور پر کالے لباس میں آفس آئیں گے۔ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی سیٹس کی ردو بدل صرف اور صرف پی ایم ایس افسران کا استحصال کرنے کیلئے کی گئی جو کہ اسمبلی کی قانون سازی کے تحت ہی کی جا سکتی ہیں
@GovtofPunjabPK@HamidMirPAK