We are joining Macklemore in donating to the people of Palestine with another $10,000 to the Palestine Children’s Relief Fund, which will help aid families amid the ongoing genocide.
We encourage our followers & anyone with the means to join if they can: https://t.co/XXt2rHaCvl
may god reward with goodness everyone between whom and us there is neither affection nor acquaintance. for i am weary of harm, and i find no refuge from people except with those whom i do not know.
سینیٹر مشتاق احمد خان: مُلّا کی اذان اور، مَلّاح کی اذان اور؟
تحریر: نجم سہروردی
سفر پر روانہ ہونے سے پہلے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب سے میری بات ہوئی۔
انہوں نے مجھ سے کہا:
“نجم بھائی دعا کریں… میں واپس ہی نہ آؤں، شہید ہو جاؤں۔”
یہ ایک جملہ نہیں تھا؛ یہ ہماری پوری تہذیبی یادداشت کا گونج دار سناٹا تھا۔
عیش و آسائش سے آگے، موت کے معنی تک پہنچنے کی آرزو۔
یہ کون کہہ سکتا ہے؟ وہی جس نے زندگی کو انجام نہیں، امانت سمجھا ہو۔
مجھے احمد جاوید صاحب کا قطعہ یاد آتا ہےیہ سن کر:
گم ہیں تمامی گرد و نواح
نائو میں دریا لاد رہا ہے
تھکا ہوا ملاح
یہ تین مصرعے اس پورے سفر کی سوانح ہیں۔
چاروں طرف دھند -- خبریں، بیانیے، دعوے -- سب دھند۔
اور بیچ سمندر ایک ناؤ جس پر دریا لدا ہوا ہے؛ جیسے پوری انسانیت کا بوجھ ایک کشتی پر رکھا ہو۔
ملاح تھکا ہوا ہے، مگر اس کے ہاتھ کانپتے نہیں۔
آج یہ ملاح کون ہے؟ وہ پاکستانی مسافر جو غزہ کی طرف بڑھ رہے ہیں؛ وہ جو دنیا کی ساری تھکن اپنے کندھوں پر رکھ کر بھی ہمت کے چراغ جلائے ہوئے ہیں۔
ہم اکثر اپنے بومرز پر طنز کے تیر چلاتے ہیں:
انہوں نے ملک بگاڑا، سماج کو غلط مثالیں دیں، خودنمائی کی، تاریخ کی ذمہ داری ہم پر چھوڑ دی -- ہم یہ سب کہتے آئے ہیں۔
مگر سینیٹر مشتاق احمد خان نے ملینیئلز، جین زی، جین الفا اور آنے والی جین بیٹا -- سب نسلوں کو یہ دکھا دیا کہ ایک “بومر” ہی پورے ملک کا فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے۔
ان کے ہاں کردار ہی دلیل ہے۔
اور یہ پیغام صرف جوانوں کے نام نہیں۔
یہ اہلِ علم کے لیے بھی ہے جو کتب خانوں اور منبر سے آگے نہیں بڑھتے؛
اہلِ دانش کے لیے بھی جو عقل پر نازاں ہیں مگر ظلم کے سامنے ان کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے؛
اور اہلِ طاقت کے لیے بھی جو اپنی ہی چار دیواری میں فولاد ہیں اور حقیقی دشمن کے سامنے ریشم کی طرح نرم۔
“مُلّا کی اذان اور، مَلّاح کی اذان اور” ایک اذان محض شعار، دوسری اذان عمل کی تکبیر--
آج یہ کشتی والے ہی حقیقی مؤذن ہیں۔
غزہ کو نقشے میں نہ دیکھیں؛ یہ ہماری بے ضمیری کا آئینہ ہے۔
ایک ماں ملبے میں سے اپنی بچی کی گڑیا ڈھونڈتی ہےاور تھوڑی دیر پر اس کی اپنی گڑیا ملبے تلے جاں بحق ہوجاتی ہے؛
ایک باپ بیٹے کو دفناتے ہوئے جیب میں چھوٹا سا کھلونا رکھ دیتا ہے -- کہ کہیں آخرت میں بیٹا پوچھ ہی نہ لے،
“ابا! میرا کھلونا کہاں بھول آئے؟”
ہم یہاں جو فقرے بولتے ہیں -- “محاصرہ، محفوظ راہداری، بین الاقوامی قانون” -- یہ سب الفاظ ہیں، شاید بے معنی الفاظ؛
وہاں سانسیں ہیں جو لفظوں سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔
اسی لیے یہ فلوٹیلا لکڑی کے تختوں کی نہیں، ضمیر کے تختوں کی کشتی ہے۔
یہ سمندر پر کم، ہمارے باطن پر زیادہ چلتی ہے۔
ہر موج پوچھتی ہے:
تم کب تک خاموش رہو گے؟
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟
پاکستان کا پرچم ان کشتیوں پر صرف کپڑا نہیں ہوگا؛ وہ دعا ہوگا، وعدہ ہوگا، یا شاید کفن۔
جب وہ پرچم غزہ کی طرف جھکے ہوئے آسمان کے نیچے لہرائے گا تو شاید کوئی بچہ آہستہ سے کہے:
“سمندر کے اُس پار بھی لوگ جاگ رہے ہیں۔”
اور پھر وہی جملہ میرے کان میں گونجتا ہے:
“دعا کریں میں واپس نہ آؤں… شہید ہو جاؤں۔”
یہ آرزو کسی شخص کی ذاتی تقدیس نہیں، ایک قوم کے اخلاقی معیار کی رفعت ہے۔
یہ اعلان ہے کہ امام حسینؑ کے قافلے والے زندہ ہیں؛
وہ لوگ ابھی زندہ ہیں جو بے خطر آتشِ نمرود میں کود سکتے ہیں
کیونکہ عشق صرف آنسو نہیں، اقدام بھی ہے؛ صرف نعرہ نہیں، راستہ بھی ہے۔
اب سوال ہمارے سامنے ہے، اور سوال سیدھا ہے:
ہمارے اہلِ اقتدار کب تک ہمیں یہ بتا کر بہلائیں گے کہ “ہم نمبر ون ہیں؟”
کون سا نمبر ون -- تعداد میں، دعووں میں، یا عمل میں؟
اسلام کے نام پر ملک بنایا تھا؟ -- ٹھیک ہے؛ اچھا، اسلام کے نام پر ملک نہیں بنایا تھا! – یہ بھی ٹھیک ہے؛
مگر کیا انسان ہونے کے ناطے بھی ہم غزہ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟
یا ہمارا انسان ہونا بھی اب مسلمان ہونے کے دکھاوے سے زیادہ نہیں؟
انسان وہ ہے جو خوف کے بیچ اٹھے اور مفاد کے خلاف جا کر کھڑا ہو۔
خاموشی جرم ہے؛ اور جرم کی سزا صرف اداسی نہیں، ضمیر کی موت ہے۔
سینیٹر صاحب اور اُن کے رفقا نے یہ دکھا دیا کہ انسان ہونے کا ایک ہی پیمانہ ہے:
ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہو جاؤ۔
انہوں نے ان ناقدین کو بھی جواب دے دیا جو ان سے کہتے نہیں تھکتے تھے: “ڈی چوک کیوں بند کرتے ہو، غزہ جاؤ” -- سو دیکھ لیجیے، وہ چلے گئے۔
اور آپ میں سے کچھ کم ظرفوں نے سینیٹر صاحب، ان کی اہلیہ اور بچوں کو فلسطین کے حق میں احتجاج کے “جرم” پر گرفتار کرنے جیسے سفاک عمل کو دانشورانہ موشگافیوں سے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی۔
اس ڈوبتے منظرنامے میں پھر وہی قطعہ چراغ کی طرح روشن رہتا ہے:
گم ہیں تمامی گرد و نواح
نائو میں دریا لاد رہا ہے
1/2
it's just disappointing how muslims are still stuck at the "humanist - religion of peace" narrative in a post-7th October world, with no absolutely awareness of their own tradition.
The prophet of Allah, invoked Allah's curse against individuals, who then died horrible deaths - even the ones whose only crimes were mainly verbal. (Utbah ibn Abi Lahab).
Somebody who cheers on and justifies the slaughtering and r4 pe of your daughers, sisters and mothers, deserves much worse than this, which alhamdulillah he has now reached.
May Allah guide his daughters towards a life of justice and integrity and indeed no individual should be violated extra-judicially, but those who themselves support and encourage such violations of others whom they consider sub-human, then it's different, we would never ask it to happen to anyone, but if it has happened to such an individual, we shall so zero ounce of sympathies, so please just stop it with this forced humanist rhetoric.
the problem with creating cinema based on hind rajab is that the genocide is ongoing, actively wiping out palestinians + targeting hind’s family. making the movie + receiving accolades without doing everything possible to get hind’s family to safety is hollow + exploitative.
Sheikh Anis Ahmed mentioned that a sign that the gaze of the Prophet Muhammad ﷺ is upon you is that you stop falling into sin and a sign that the gaze has been lifted is that you fall back into sin.
Passive acceptance is part of the problem. We should be furious. We should feel the rage that burns crimson and refuses to forgive, the kind meant for revolution. Because revolutions only change things when enough people wake up and get really, really angry."
As a Muslim you simply can't exist as an individual. If we wish to live and survive as a Muslim, we must create an environment, a community, an order. However small it maybe.
"Do not think it is bad for you; rather, it is good for you."
Allah’s mercy is always working behind the scenes, even when we can’t see it.
What looks like harm may, in reality, be a hidden blessing that reveals itself later.
Look at the stories in Surah Al-Kahf:
The boat was