یوتھیوں کیلئے یہ ایڈوانس خبر ہے کہ اس بار لاڈ پیار ختم ہے، تم لوگوں کی خوش قسمتی تھی کہ ہر بار ریاست ماں کے روپ میں ملتی تھی اس بار ریاست باپ کے روپ میں ملے گی۔کیوں گندی اولاد کا علاج پیو کی چھترول سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
کسی بھی طرح کا انتشار فساد پھیلانے کی کوشش کی گئی نجی یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی پولیس سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی گئی تو چھٹی کا دودھ یاد کروا دیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے چند جاہل سوکالڈ رہنما شور مچا رہے ہیں کہ ہمارے MNAs کو اٹھایا جا رہا ہے ان پر ظلم ہو رہا ہے بھائی صاحب آپ کے MNA ہیں کون 77 کے قریب آزاد امیدوار اور چند سنی اتحاد کونسل اور ایک مجلس وحدت المسلمین کے ہیں
ان میں سے بھی 70 سے زائد تیار بیٹھے ہیں آپ کی حرکات کو دیکھ کر اس ڈوبتی کشتی سے باہر چھلانگ لگانے کو
جب انہوں نے آپ کی ڈوبتی کشتی چھوڑی تو خیبر پختونخواہ میں بھی MPAs کی لائین لگ جائے گی جو جن جہازوں میں بیٹھ کر آپ کے پاس آئے تھے انہی میں بیٹھ کر اپنے اصل گھروں کو پہنچ جائیں گے
پی ٹی آئی کی قبر کھود دی گئی ہے تدفین 27 ستمبر کو ہو گی
ڈگری کے معاملے پر کیپٹن صفدر کی بڑی پیشکش: اپنی ڈگری لا کر دکھا دیں، ہم اپنا امیدوار دستبردار کروا کر آپ کو بلامقابلہ منتخب ہونے دیں گے!
میرے خیال میں یہ پیشکش قبول کر لینی چاہیے۔ ڈگری دکھائیں، بحث ختم کریں اور بلامقابلہ منتخب ہو جائیں!
کل میں سارا راولپنڈی گھوم کر آیا ھوں،اسلام آباد میرے گھر سے روزانہ آفس جانے والے لوگ ھیں،ابھی تک کوئی ایک راستہ بھی بند نہیں ھوا۔البتہ فسادیوں کے لئے انتظام پورا ھوگا
رانا ثناﷲ نے یوتھیے اینکر محمد مالک کو یہہ کے تہہ لگا دی 🦾
رانا صاحب: آپ PTI کی گارنٹی لیتے ہیں 🤷♂️
محمد مالک: میں نہیں لے سکتا ❌
رانا صاحب: تو پھر آپ یوتھیا بن کر پین کیوں پیش کر رہے ہیں 😂
انٹرویو تو ایسے کر رہے ہیں جیسے میں اینکر ہوں اور آپ سوالوں کے جواب دے رہے ہیں 😂🔥🦾🔥
مس یونیورس کا مقابلہ بھی پشاور بی آر ٹی نے جیتا ہے
چاکری کرنی ہے تو کھل کے کرو
پشاور بی آر ٹی کے حالات پشاور جا کر پتہ چلتے ہیں
اظہر مشوانی کے وٹس ایپ سے نہیں
پتہ نہیں جب بھی لانگ مارچ کا موسم اتا ہے مورخ کو یہ ٹوئٹ یاد اجاتی ہے جس میں انہوں نے چُت اور پٹ کا ذکر کیا تھا اور آج ہی چھوٹے حاجی صاحب نے یہ چتاونی بھی دی ہے کہ فواد چودری اگر انبلاک کر بھی دے ثمینہ پیرزادہ سے انبلاک کیسے ہوں گے حالانکہ مورخ نے صرف پیش پائی تھی
خیبرپختونخواہ حکومت نے پولیس ایکٹ میں جو تبدیلی کی وہ عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے اس کے علاوہ وفاق پارلیمنٹ میں اسکے بارے میں قانون سازی سے بھی گریز نہیں کرے گا،طلال چوہدری
پی ٹی آئی کیا غلط مطالبہ کر رہی ہے؟؟؟
عطا تارڑ: وفاقی وزیر اطلاعات
چھ بار وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی، 24 بار اسپیکر قومی اسمبلی نے دعوت دی۔۔ ان کی عمران خان سے ملاقات کی ڈیمانڈ نہیں،، یہ صرف سیاسی مفاد کے لیے احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لانگ مارچ کے زریعے چڑھائی کر کے نقصان کرنا چاہتے ہیں تاکہ رٹ آف اسٹیٹ چیلنج ہو جو ہم نہیں کرنے دیں گے۔ ہم نے جو حفاظتی اقدامات کیے ہیں ان کے پرتشدد جتھوں کو روکنے کے لیے ہیں۔ صرف ایم ون بند ہے۔ اسلام آباد کھلا ہوا ہے۔
@TararAttaullah
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
یہ پنجاب، خیبر پختونخواہ یا سندھ نہیں!
یہ بلوچستان کا ضلع بارکھان ہے
وہی جگہ جس کے متعلق اختر مینگل بتاتا ہے کہ ان علاقوں میں کوئی پاکستان کا نام لینا پسند نہیں کرتا
ایک دفعہ یہ نعرے سنیں
چند گھٹیا قوم پرست اور نسل پرست، نظریہ اسلام پر بنی اس ریاست کو نقصان نہیں پہنچا سکتے
اہم اطلاع
دہشتگرد پی ٹی آئی کے فسادی و انتشاری پلان کو بھانپتے ہوئے وفاقی حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اس مرتبہ پی ٹی آئی سے دہشتگردوں کی طرح ہی نپٹا جائے گا ہر چھ ماہ بعد فتنہ و فساد کا ڈرامہ اب اور برداشت نہیں کیا جائے گا
سیاست سے پاکستان نہیں بلکہ پاکستان ہے تو سیاست ہے پاکستان کی سالمیت معیشت اور امن سب سے مقدم عمل ہیں یہ عمل پاکستان کی عوام کے لئے ہیں نہ کہ چند سیاسی شرپسندوں اور اشرافیہ کے شعبدہ بازوں کی سیاسی بلیک میلنگ کے لئے
ایسا ہو نہیں سکتا کہ آپ ایک صوبے کو سیاسی_کرمنل_دہشت گرد مافیا کو گروی رکھوا دیں دہشتگردوں کی نہ صرف سہولت کاری کریں بلکہ ان کے شراکت دار بنیں صوبے کی گورننس تو نہ کریں لیکن اس کی افرادی قوت اور مشینری اپنے شرپسند عزائم کے لئے استعمال کریں ریاست کی خارجہ پالیسی سے منحرف ہو کر لسانیت پھیلائیں اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہے
تو ریاست کا بھی نعرہ ہے
اب کی بار آخری بار
یوتھیو کتے دیو پترو...!
یاد آیا کس طرح وہ لنگڑا فرعون بنا ہوا تھا
فیصل آباد میں ن لیگ کے جلسے سے پہلے گراؤنڈ کو پانی سے بھر دیا گیا تھا، اس وقت احتجاج کا آئینی حق یاد نہیں تھا؟
تحریک انتشار کے سرغنہ اسد قیصر کی گھٹیا اور غلیظ زبان، منیب فاروق 24 ستمبر 2026 ،اسد قیصر سابق اسپیکر بھی تھے۔ فتنہ خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے دنوں میں، جب وہ اسمبلی آ رہے تھے، سینئر صحافی اعزاز سید نے ان سے کچھ سوالات پوچھے۔ اسی دوران لفٹ میں اندر سے اسد قیصر نے ایک گالی دی جو ریکارڈ ہوئی، اور یہی کہا کہ یہ اسد قیصر صاحب نے دی ہے۔ 📌کل کی گفتگو سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاست اور ان چیزوں میں اب ذاتی مخالفتیں اور ذاتی دشمنیاں بن گئی ہیں۔
تحریک انصاف اور تحریک لبیک نے اپنی پہچان بطور پرتشدد تنظیم بنالی،ایک نے مذہب کے نام پر بار بار جلاؤ گھیراؤ و مار دھاڑ کی دوسری نے سیاست کے نام پر جلاؤ گھیراؤ کیا۔پرتشدد روپے کی وجہ سے TLP کالعدم ہوگئی اب PTI کالعدم ہوگی۔
آج تحریک انتشار کے جن بے غیرتوں کو احتجاج آئینی اور قانونی حق دکھائی دے رہا ہے، وہ ذرا اپنا ماضی بھی یاد رکھیں کہ کس طرح کی فرعونیت ہوتی تھی۔ یہ وہی چکر واپس آ رہے ہیں جو تم لوگوں نے اپنے مخالفین کو دیئے تھے۔
بریکنگ مجوزہ خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ 2026 پولیس اصلاحات کے نام پر سیاسی کنٹرول؟؟؟
ارباب اختیار جاگ جائیں اس سے پہلے خیبرپختونخوا پی ٹی آئی آپ کے دشمن کے حوالے کر دے
خیبرپختونخوا حکومت پولیس ایکٹ 2017 میں ایسی بڑی ترامیم تجویز کر رہی ہے جن سے پولیس کے انتظامی اور کمانڈ نظام میں صوبائی حکومت خصوصاً وزیراعلیٰ کا کردار نمایاں طور پر بڑھ سکتا ہے پولیس حکام نے بھی مجوزہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے
آئی جی کی تعیناتی
مجوزہ نظام میں آئی جی کے انتخاب کا اختیار صوبائی حکومت کو دینے کی تجویز ہے یعنی پولیس کے سربراہ کے انتخاب میں سیاسی حکومت کا کردار مزید بڑھ جائے گا
ڈی پی او اور آر پی او کی پوسٹنگ
مجوزہ ترامیم میں وزیراعلیٰ کو آر پی اوز اور ڈی پی اوز کی تعیناتی اور تبادلوں کا اختیار دینے کی تجویز ہے اس سے ضلعی اور علاقائی پولیس کمان براہِ راست سیاسی انتظامیہ کے زیراثر آنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے
آئی جی کے اختیارات میں کمی
مجوزہ قانون میں پولیس کے بعض انتظامی اختیارات آئی جی سے لے کر صوبائی حکومت یا محکمہ داخلہ کو منتقل کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں پولیس حکام نے ان تبدیلیوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں
ڈی آر سیز کا خاتمہ
مسودے میں موجودہ ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلز (DRCs) کو ختم کرنے کی تجویز بھی رپورٹ ہوئی ہے، حالانکہ 2025 میں صوبے کی DRCs نے ہزاروں مقامی تنازعات حل کئے
پبلک سیفٹی کمیشن
پولیس کی نگرانی کے لئے نیا پبلک سیفٹی کمیشن بنانے کی تجویز ہے سوال یہ ہے کہ پولیس کی نگرانی واقعی آزاد ہوگی یا اس میں بھی حکومتی اثرورسوخ غالب رہے گا؟؟؟
اصل خطرہ کیا ہے؟؟؟
اگر آئی جی کی تعیناتی، ڈی پی اوز اور آر پی اوز کی پوسٹنگ پولیس پالیسی اور اہم انتظامی اختیارات سیاسی حکومت کے زیادہ تابع ہوگئے تو پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری میرٹ کمانڈ اور ادارہ جاتی تسلسل متاثر ہونے کا خدشہ ہے
خیبرپختونخوا پہلے ہی دہشتگردی کے شدید چیلنج سے دوچار ہے ایسے صوبے میں پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد، مضبوط اور پیشہ ورانہ کمانڈ کے تحت ہونا چاہیے نہ کہ پوسٹنگ اور تبادلوں کے ذریعے سیاسی دباؤ کا شکار
عوام کو سوال کرنا چاہیے
کیا پولیس کو واقعی بااختیار بنایا جا رہا ہے یا اس کے اہم اختیارات سیاسی حکومت کے ہاتھ میں منتقل کئے جا رہے ہیں؟؟؟
پولیس کی اصلاحات ایسی ہونی چاہئیں جو پولیس کو مضبوط اور غیر سیاسی بنائیں نہ کہ سیاسی حکومت کو پولیس پر مزید اختیار دیں