15 years at https://t.co/waHKDMMTNF today! 🚀
From starting as a Data Management Executive to progressing through 6 milestones to Assistant Manager, it’s been a decade-and-a-half of hard work, learning, and growth. Grateful to everyone who’s been part of this journey! 📈🏡
ٹویوٹا فورچونر سے اتر کر موٹر سائیکل پر سوار ایک عام شہری پر ہاتھ اٹھانا بہادری نہیں، بزدلی کی علامت ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ شہری مدد کے لیے پولیس اہلکار کی طرف دیکھتا رہا، مگر پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنا رہا۔ آج مجھے اپنے اور اپنے نظام پر افسوس ہے کہ ہم ایک عام شہری کو تحفظ دینے میں بھی ناکام ہو رہے ہیں۔ ان شاء اللہ، اس واقعے میں ملوث شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اسے ایک مثال بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کوئی طاقت کے زعم میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی جرات نہ کرے۔ @MaryamNSharif
حسام ابو صفیہ ان فلسطینی ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنہیں "اسرائیل کی طرف سے یرغمالیوں کے لیے سزائے موت" (دیگر 95 ڈاکٹروں کے ساتھ) کے تحت قتل کیا جائے گا۔انہیں قتل نہ ہونے دیں۔اسے دوبارہ پوسٹ کریں
ڈاکٹر اسرار صاحب اور غامدی صاحب کے مابین مشہور مباحثہ 🔥🔥
کیا ہی خوبصورت علمی نشست ہے!
ڈاکٹر اسرار احمدؒ اور جاوید احمد غامدی صاحب جیسے دو اہلِ علم کو سننا اپنی جگہ ایک موقع ہے، لیکن اس گفتگو کی خاص بات میزبان کی دانشمندی بھی ہے۔ انہوں نے جس سنجیدگی اور علمی انداز سے گفتگو کو آگے بڑھایا، وہ قابلِ تعریف ہے۔
ایسی گفتگو میں مقصد کسی کو ہرانا نہیں، بلکہ علم کو سمجھنا اور حق کو پہچاننا ہونا چاہیے۔ اختلاف اپنی جگہ، ادب اور دلیل ہمیشہ مقدم رہنی چاہیے۔
Umar Fahrettin Pasha the Defender of Madinah. 🕌⚔️
He stood firm for years against the Najdi Wahhabis and refused to surrender the Prophet’s ﷺ city. May Allah have mercy on him and grant him the highest rank of Jannah.
نعت رسول مقبول ﷺ
ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے، وہ لمحہ ملتا
کاش سرکارِ دو عالم ﷺ کا زمانہ ملتا
آپ ﷺ کو دیکھتا، مکے سے میں ہجرت کرتے
آپ ﷺ کا نقشِ قدم، آپ ﷺ کا رستہ ملتا
آپ ﷺ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے
یوں مرے صبر و تحمل کو سلیقہ ملتا
آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیتا میں سب کچھ لا کر
نصرتِ دین کے لیے جب بھی اشارہ ملتا
اپنا گھر بار لٹا دیتا تو اس کے بدلے
حبِ سرکارِ مدینہ ﷺ کا خزانہ ملتا
آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کے نمازیں پڑھتا
آپ ﷺ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ ملتا
بھول جاتا میں کسی طاق میں آنکھیں رکھ کر
آپ ﷺ کو دیکھتے رہنے کا بہانہ ملتا
آپ ﷺ کی طرح بٹھاتا میں اسے شانوں پر
راہ میں آپ ﷺ کا جب کوئی نواسا ملتا
حشر تک میری غلامی یوں ہی قائم رہتی
میری ہر نسل کو فخریؔ یہی ورثہ ملتا
زاہد فخری
حیرت کی بات نہیں کہ یہ سوالات انگریزوں کے ذہنوں میں آرہے ہیں کہ ہمارے بچوں کے کپڑوں کو فیشن کمپنیاں کس انداز سے ڈیزائن کررہی ہیں اور اس کے پیچھے کیا لاجک ہے ؟
اس سبجیکٹ پر پاکستان میں بات کرلو تو سیکولرز آپ کو کاٹ کھانے کو دوڑ پڑیں گے
Sent from WhatsApp
https://t.co/vIZhzJziLS
بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
عقل کے اندھو ملک کا سوچو ۔
اس ملک میں معافیہ کیسے کام کرتا ہے
عارف احمد انقلابی نامی شخص نے مہنگای کو دیکھتے ہوے بغیر کسی حکومت کی سپورٹ سستی سواری کے نامی اک گاڑی بنا ڈالی جو سولر پر چلتی تھی ۔۔۔
جہاں رکشہ والے باقی گاڑیاں سو روپے کرایہ لیتے تھے یہ سستی گاڑی مسافر سے بیس روپے لیتی تھی ۔۔
ٹرانسپورٹ معافیہ کو یہ بات پسند نہی ای انہوں نے اس کو پکڑا اس پر بد ترین تششدد کیا اور گاڑی بھی توڑ دی ۔۔۔
یہ ہے اس ملک کا طاقتور نظام اب یہ تو رہی عوام کی بات اب حکومت کی سن لیں ہم نے پہلے اپنے ملک کی چینی برامد کر دی یہ کہ کر ملک میں چینی زیادہ ہے اسے ایکسپورٹ کر کے رزمبادلہ کمائیں گے ۔۔
اب وہی چینی مہنگے داموں میں لے رہے ہیں یہ کہ کر ملک میں چینی کی قلت ہے عوامی ضرورت پوری کرنی ہے ۔۔
اس ملک میں شوگر ملیں کس کی ہیں حکمرانو کی شوگر کی پالیسیز کون بناتا ہے حکمران ۔۔ تو بتائیے ملک کا کباڑہ کیسے نہی نکلے گا ۔۔
اب اس گجنی عوام کو یاد دلاتا جاوں یہی کیس عمران خان کے دور میں ایا تھا جہانگیر ترین کا ہاتھ عمران خان نے بغیر کسی دباو کے انکوائری کرای جہانگیر ترین کو کابینہ سے علحیدہ کر دیا ۔۔۔
ملکی مفاد میں دوستی تعلق کو سائیڈ پر رکھا اور جو لوگ ملوث تھے سب سے ریکوریاں کرای گئی ۔۔
ملک پاکستان کو کرپٹ اشرافیہ دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے بدقسمتی سے وہی اشرافیہ اس ملک میں سالوں سے مسلط ہے اس ملک میں جتنے نئے نظام لے ائیں بیشک امام کعبہ کو لے ائیں جب تک اس کرپٹ اشرافیہ سے جان نہی چھوٹے ہر دو سال بعد ملک دیوالیہ ہو چکا ہے کا بیان اپ سنتے رہیں گے ۔
اس کرپٹ اشرافیہ کو صرف یہ پتہ ہے اس ملک کو لوٹنا کیسے ہے ۔ انڈیا کے امبانی کی پوری دولت اربوں ڈالر میں ہے اور ہمارے خزانے میں مانگے تانگے کے دو چار ارب ڈالر پڑے ہیں ۔۔
رمضان میں ناچ گانے کرتا ہوں تو کیا ہوا نہ دیکھیں اپ ۔۔
یہ کہنا تھا پاکستانی شوبز کے معروف اداکار فہد مصطفی کا جب ان سے احمد بٹ نے پوڈ کاسٹ میں سوال پوچھا
اپ پر لوگ برہم ہیں اپ رمضان جیسے مقدس ماہ میں عبادتوں دعاوں کی بجاے گیم شو چلاتے ہیں موج مستی کراتے ہیں اس پر انعام دیتے ہیں ۔۔ مطلب عبادت پیچھے رہ گی اور انعام سامنے ا گیا ۔۔
فہد مصطفی کہتے ہیں پچھلے رمضان میں میں نے چینل کو 55 کڑور کما کر دیے ہیں صرف اک ماہ میں ۔ پوری دنیا میں گیم شوز ہوتے ہیں انعام ملتے ہیں ۔۔ اپ لوگ نہ دیکھیں عبادت کریں اپنی ۔۔
رمضان کا مہینہ امت مسلمہ کے نزدیک عبادت ریاضت اور نفس کی اصلاح کا مہینہ سمجھا جاتا ہے مگر پاکستانی میڈیا کا ایک بڑا حصہ اسی مقدس مہینے کو کمائی اور ریٹنگ کا سب سے سنہری موقع سمجھتا ہے ۔
اور فہد مصطفیٰ کا یہ بیان اسی ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ رمضان میں ناچ گانا کرتا ہوں تو کیا ہوا نہ دیکھیں تو دراصل وہ اپنے فعل کی ذمہ داری ناظرین پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک عوامی شخصیت کی حیثیت سے ان کا اثر لاکھوں گھرانوں تک پہنچتا ہے ۔
غیر اسلامی ممالک میں بھی رمضان کا احترام کیا جاتا ہے یہ تو پھر بھی اسلامی ملک ہے مقدس ماہ ہے ۔ اتنا تکبر گھمنڈ کس چیز کا ہے اس سے بہتر جواب دے سکتے تھے ۔ اگنور کر سکتے تھے ۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام کی اکثریت رمضان کو عبادت کے ماہ کے طور پر مناتی ہے وہاں پرائم ٹائم پر گیم شوز کے ذریعے موج مستی اور مہنگے انعامات کی دوڑ لگانا دراصل روزے داروں کی توجہ عبادت سے ہٹا کر دنیاوی لالچ کی طرف مبذول کرنے کے مترادف ہے۔
افطار اور تراویح کے اوقات میں جب لوگ اپنے گھروں میں سکون اور عبادت کی طلب میں ہوتے ہیں عین اسی وقت پر رقص و موسیقی اور چیخ و پکار پر مبنی گیم شوز نشر کرنا رمضان کی روح کے سراسر منافی ہے۔
فہد مصطفیٰ اپکا یہ کہنا کہ آپ لوگ نہ دیکھیں عبادت کریں کیا مسیج دے رہے ہیں قوم کتنا خطرناک پیغام ہے کیونکہ اسی بنیاد پر ہر غلط کام کرنے والا اپنے ناقدین سے یہی کہہ سکتا ہے کہ تم اپنا کام کرو مجھے میرا کام کرنے دو۔
ایک ذمہ دار عوامی شخصیت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کا استعمال معاشرتی بھلائی کے لیے کرے نہ کہ اسے محض ریٹنگ اور کمائی کا ذریعہ بنا کر رمضان جیسے مقدس مہینے کی حرمت کو پس پشت ڈال دے