اگر کوئی مجھ سے پوچھے دنیا میں تمہیں کیا پسند ہے تو میں دو لفظوں کا انتخاب کرونگا، اجوئی یہ لفظ نہیں ہے بلکہ أن ہزاروں لاکھوں لوگوں کی دھڑکن ہے جو آزادی کی صبح دیکھنا چاہتے ہیں
دوسرا تمہارا نام مجھے وہ حوصلہ دیتا ہے میرے دل کے دریچوں میں دفن اداسی کو ختم کردیتا ہے
ثانُل پُھل
القرآن الکریم
*أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ*
*ظالموں پر اللہ کی لعنت ہو۔*
غدارِ آعظم سنگت تُمہارے پاس آیا تھا ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سلام ھے، اُسکی غیرت کو، وہ تم تھے جو کمپاونڈ سے بھگے تھے
خن شیف 🖐️
بلوچ قومی تحریک کی پوری تاریخ میں آج ایک نیا سنہرا باب رقم ہوچکا ہے۔پارٹی نے بغیر کسی اندرونی ٹوٹ پھوٹ یا بکھراؤ کے، نہایت پرامن، باوقار اور مکمل آ��ینی طریقہ کار کے ذریعے قیادت کی منتقلی کو کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تنظیم اب پختہ دور میں شامل ہوچکا ہے
"بلوچ قومی تحریک کی پوری تاریخ میں آج ایک نیا سنہرا باب رقم ہوچکا ہے۔ بی ایل اے نے بغیر کس�� اندرونی ٹوٹ پھوٹ یا بکھراؤ کے، نہایت پرامن، باوقار اور مکمل آئینی طریقہ کار کے ذریعے قیادت کی منتقلی کو کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تنظیم اب تاریخ کے ایک بالغ اور پختہ دور میں داخل ہوچکی ہے۔"
سینئر کمانڈ کونس�� کا قیادت کی منتقلی کا فیصلہ – بلوچ لبریشن آرمی
بلوچ لبریشن آرمی کے سابق کمانڈر انچیف بشیرزیب بلوچ تنظیم کے آئین کے مطابق سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے بعد اب مزید تنظیم کے سربراہ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔ نئے کمانڈر انچیف کے انتخاب تک تمام انتظامی، عسکری اور پالیسی ساز اختیارات باضابطہ طور پر بی ایل اے کے اعلیٰ ترین ادارے سینئر کمانڈ کونسل کے سپرد کردیئے گئے ہیں، جبکہ تمام محاذوں پر عسکری کارروائیاں بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں گی۔
بی ایل اے کے فکری و ساختاری بانی استاد اسلم بلوچ نے سنہ 2018 میں تنظیم کی ازسرنو تشکیل کے دوران موروثی سیاست اور تاحیات سربراہی کا ہمیشہ کے لیئے خاتمہ کرکے بی ایل اے کو میرٹ، شفافیت اور ادارتی اصولوں کی بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ انہوں نے یہ رہنما اصول قائم کیا کہ اس تحریک میں چاہے کوئی کمانڈر کتنا ہی بااثر، قد آور یا اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہو، کوئی بھی فرد تاحیات کمانڈر انچیف نہ��ں رہ سکتا۔ اسی فکری وتنظیمی تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیئے بی ایل اے کے آئین میں ایک واضح اور متفقہ طریقہ کار شامل کیا گیا تاکہ اگر کبھی ضرورت پیش آئے تو قیادت کی ہموار منتقلی کے لیئے ایک قائم اور پ��امن آئینی راستہ موجود رہے۔
اسی اصول کے مطابق ۱۶ اکتوبر کو بی ایل اے کی اعلیٰ ترین اداروں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئینی وتنظیمی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران تمام کمانڈروں نے متفقہ طور پر قیادت کی منتقلی کے حق میں فیصلہ دیا تاکہ تنظیم کی سرگرمیوں کو نئی رفتار دی جاسکے۔
بلوچ مزاحمتی تحریک کی تاریخ میں یہ پہلا اور تاریخی موقع ہے کہ کسی مسلح مزاحمتی تنظیم نے بغیر کسی اندرونی بکھراؤ، ٹوٹ پھوٹ یا تصادم کے، مکمل پرامن، باوقار اور مکمل آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنے اعلیٰ ترین سربراہ کو جمہوری طریقے سے تبدیل کیا ہے۔ ماضی میں مزاحمتی تنظیموں ک�� پاس قیادت تبدیل کرنے کا کوئی جمہوری وآئینی میکانزم موجود نہیں تھا، جس کے نتیجے میں تنظیمیں اندرونی خلفشار اور بکھراؤ کا شکار ہوجاتی تھیں۔ بی ایل اے اور پوری بلوچ قوم کے لیئے یہ فخر اور اطمینان کا مقام ہے کہ بلوچ قومی تحریک میں قیادت کی تبدیلی کیلئے پرامن اور جمہوری روایت کی بنیاد ڈال دی گئی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کی اعلیٰ مرکزی کمانڈ اور آپریشنل محاذ اس تاریخی فیصلے کے پیچھے متفقہ اور اجتماعی طور پر کھڑے ہیں۔
تاریخ گوا�� ہے کہ صرف وہی تحریکیں پائیدار اور مستقل کامیابی حاصل کرتی ہیں جو انفرادی شخصیات پر انحصار کرنے کے بجائے خود کار آئینی اداروں کے ذریعے کام کرتی ہیں۔ اس اقدام کے ذریعے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تنظیم کے اندر ایک مضبوط داخلی نظام قائم ہوچکا ہے جو ہمیشہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ بی ایل اے کی پوری رکنیت منظم، ذمہ دار اور متحد رہے۔ یہ عمل نہ صرف پوری بلوچ قوم کا اپنی قومی فوج پر اعتماد مزید مضبوط کرے گا بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ بی ایل اے ذمہ داری، سخت ڈسپلن اور انقلابی اخلاقیات کے اعلیٰ معیارات پر عمل کرتے ہوئے ایک نئے دور میں داخل ہو۔
یہ آئینی قدم تنظیم کی مجموعی عسکری کارکردگی، جنگی حکمت عملی، دفاعی پالیسیوں، فیلڈ آپریشنز یا چین آف کمانڈ پر کوئی اثر ڈالے بغیر قیادت کی پرامن منتقلی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ تمام محاذوں پر ہماری آپریشنل سرگرمیاں بغیر کسی تعطل کے جاری ہیں۔ قابض پاکستانی افواج پر ہمارا عسکری ونفسیاتی دباؤ برقرار ہے اور تمام منصوبے ہمارے طے کردہ اہداف کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
اس اصولی قدم کو بی ایل اے کے تمام آپریشنل محاذوں، ریجنل وکیمپ کمانڈران اور تمام تخصیصی یونٹس کی کامل اور غیر مشروط توثیق وحمایت حاصل ہے۔ ان اصولوں کے مطابق، اگلے مراحل کے اختتام پر نئے کمانڈر انچیف کے نام کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔
بلوچ لبریشن آرمی شہداء کے مقدس ارمانوں، فکری اصولوں اور بلوچ قومی آزادی کی ضامن تنظیم ہے۔ ہماری یہ قومی جنگ پوری قوت، تنظیم اور محکم عزم کے ساتھ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک قابض پاکستانی افواج کا مکمل اور حتمی انخلا نہ ہو جائے اور آزاد وخودمختار بلوچستان قائم نہ ہو جائے۔
جیئند بلوچ
ترجمان، بلوچ لبریشن آرمی
بتاریخ: 3 نومبر 2026
مستونگ ۔ گزشتہ روز مدینہ ہوٹل کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر نور جہاں 😂 کے اولادوں کے قافلے میں شامل ٹرک و دیگر چار گاڑیاں کو یاروں 😘 نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد خلکار پارسل و زخمی ہوگئے
بریکنگ نیوز
خضدار کے علاقے جیوا میں پاکستانی فوج کی پیش قدمی جاری ہے، جبکہ دوسری جانب علاقے میں شدید جھڑپوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہے۔
مزید تفصیلات آنا باقی ہے ۔۔
#بلوچستان
سن لے شاید ہماری بات سمجھ میں نا آئیں سیکنڈ سیکولر ریاست ہم بنائیں گے جتنا دشمن کی صف میں کھڑے ہوکر بکواس کرنی ہے کرلو، تمہیں خیرات کروں شہیدوں کے خون کے ہر بوند
کیلئے خیراتی ،میں وراث ہوں اس دھرتی کا نہیں کرونگا مزاکرات کم از کم 4 دن سنگر میں رہا ہوں
Brazil land Zehni Marez
آج کل اسپیسز میں بلوچستان کے بعض مذہبی ٹھیکیداروں کو سن رہی ہوں۔ دلیل کے نام پر بدتمیزی اور اخلاقیات کے نام پر منافقت ہی ملتی ہے۔ احمد جاوید صاحب کی یہ ویڈیو ان پر بالکل صادق آتی ہے۔