اصل بات ہر توجہ کیوں نہیں ہے؟
کیا وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ یا سیکرٹری I&T ٹیلی کمیونیکیشن بل قومی اسمبلی سے پاس کروا سکتے تھے۔؟
یہ لکھا لکھایا بل قومی اسمبلی سے چپ چاپ کون پاس کروا سکتا تھا ؟
اصل بات دیکھیں۔ کہ بل پاس کروانے والوں کی اصل intention کیا ہے ؟
عوام کا اصل دشمن کون ہے ؟
موبائل بیلنس سے ناجائز اور خفیہ کٹوتیوں پر ٹیلی کام کمپنیوں پر 2 کروڑ فی صارف جرمانہ ہوگا۔۔۔
ٹیلی کام کمپنیوں کی بابت ایک بل یہ والا بھی پاس کر دیں، پوری قوم مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی احسان مند ہوگی۔
#MianDawoodLawAssociates#LegalAwareness#Law#Telecom#Mobile#Consumer #Pakistan
کل بروز منگل 2 بجے دوپہر سینیٹرز۔ایم این ایز۔ایم پی ایز۔ ٹکٹ ہولڈرز۔ پارٹی عہدیداران۔آئی ایل ایف۔آئی ایس ایف۔یوتھ ونگ۔وومن ونگ۔منیارٹی ونگ۔ٹریڈرز ونگ ہم سب اڈیالہ جیل کے سامنے اکھٹے ہوں گے، انشااللہ۔ @sh_basra
اپنا فیلڈ مارشل سائیڈ پر کرو اگر ایک ہفتے میں ہم نے تمہاری حکومت نا گرائی تو ہم گھروں میں واپس چلے جائیں گے، یہ عمران خان کے نام سے خوفزدہ ہیں۔ خالد نثار
آن لائن قرضہ ایپس پر ایف آئی اے کریک ڈاؤن کے بعد قرضہ ایپس نے واردات کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا !!
چھوٹے شہروں میں قرض کی بجائے لوگوں کو موبائل فون قسطوں پر دینے لگیں۔ ساتھ ہی قسطوں پر موبائل لینے والے کے اصل شناختی کارڈ کی تصویر اور ذاتی موبائل ڈیٹا تک بھی رسائی لے لی جاتی ہے۔ اب شہریوں کو ایک بار پھر بلیک میل کیا جائے گا۔ زیر نظر تصویر امیر خان پلازہ ہری پور (کے پی کے) کی ہے
@FIA_Agency@NCCIAOFFICIAL
”ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کو عمران خان سے وفا نبھانے کے جرم میں 280 سال۔کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ دنیا کی عدالتی تاریخ میں پہلی بار عدالت نے 4 ایسے کارکنان کو بھی سزا سنا دی جو اس وقت جیل میں تھے۔ شاہ محمود قریشی پر کوئی مقدمہ نہیں لیکن انہیں اغواء کرکے جیل میں رکھا گیا ہے۔ بشری بی بی کی بیٹی نے عدالت میں اپنی ماں کے علاج کیلئے پٹیشن دائر کی ہے۔“ سبی کاظمی
@SabeeKazmi786
#PakistanUnderAsimLaw
صادق آباد کے علاقے کوٹ سبزل جو سندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع ہے، وہاں جہانگیر ترین اور علی ترین کی جے ڈی ڈبلیو ایتھانول (Enthol) فیکٹری نے دو لاکھ سے زائد آبادی کی زندگی کو زہر آلود کر دیا ہے۔
اس فیکٹری سے نکلنے والا دھواں، کیمیکل، اور انتہائی تیز و ناقابلِ برداشت بدبو پورے علاقے میں پھیل چکی ہے۔ سانس لینا محال ہو چکا ہے، بچوں، بزرگوں اور خواتین کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
بغیر کسی حفاظتی پلان کے گندہ پانی تالابوں میں چھوڑ رہی ہے، جس سے زیرِ زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں رہا اور علاقہ مکین سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔
اور یہ سب کچھ پنجاب حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، مگر کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آ رہا۔
کیا مریم نواز کی حکومت صرف اشرافیہ کے مفادات کی محافظ ہے
پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں اب نیو نارمل ہیں ، جبری گمشدگیاں بھی صرف بلوچستان تک محدود نہیں رہیں ،
ابھی کسی نے میسج کیا کہ تھانہ سکرنڈ بے نظیر آباد کی پولیس نے مبینہ چوری کے الزام میں ایک شہری مجاہد علی ولد ضمیر علی کو 20 دن سے اٹھایا ہوا ہے لیکن نہ تو ایف آئی آر دے رہے ہیں اور نہ ہی کسی عدالت میں پیش کررہے ہیں کیونکہ پولیس کے ذریعے شہری کو اٹھوانے کے پیچھے پیپلزپارٹی کا ایک بڑا سیاستدان ہے
کچھ خدا کا خوف کریں ، ایف آئی آر دیں، عدالت پیش کریں اور اگر الزام درست ہے تو جو مرضی کارروائی کریں لیکن جبری گمشدگی ختم کریں
آئی ٹی منسٹری کی وضاحتیں صرف ایک دھوکہ اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہیں! منسٹر صاحب میڈیا پر آ کر فرما رہے ہیں کہ "رائٹ آف وے" (Right of Way) کا مطلب زبردستی قبضہ نہیں ہے۔ لیکن حضور، عوام پاگل نہیں ہے! بل کا اصل متن آپ کے اس جھوٹ کی کھلم کھلا چغلی کھا رہا ہے۔
اس قانون کی شق 27A (Section 27A) کو پڑھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کی نیت کیا ہے۔ اس میں واضح طور پر عوام کی ذاتی جائیدادوں، نجی زمینوں اور ہاؤسنگ سوسائٹیز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کسی شہری نے ان کی درخواست کا جواب نہیں دیا، تو یہ اسے "خاموشی کا مطلب ہاں" (Deemed Approval) سمجھ کر آپ کی پراپرٹی میں گھس جائیں گے۔
اس سے بھی زیادہ خوفناک اور ظالمانہ حد شق 27B (Section 27B) میں پار کی گئی ہے۔ اگر کوئی شہری اپنی ذاتی زمین کی حفاظت کے لیے ان کے سامنے کھڑا ہوا یا کام میں تاخیر کی، تو اس غریب پر 5 کروڑ روپے تک کا بھاری جرمانہ ٹھونک دیا جائے گا! کیا یہ کوئی اصلاحات ہیں یا عوام کو ان کی اپنی ہی زمینوں پر ہراساں کرنے کا لائسنس؟
لاہور میں نو مئی کے چودہ مقدمات تھے جن میں سے آج آٹھواں فیصلہ آیا ہے قانون میں واضح لکھا ہوا کہ ایک مقدمے میں سزا کے بعد کسی دوسرے مقدمے میں ملزم کا نہ ٹرائل ہوگا نہ سزا ہوگی لیکن آج آٹھویں بار ماورائے آئین سزا ہوئی ہے۔ یہ 15/23 مقدمہ جو نو مئی کا ہے ہی نہیں گیارہ مئی کو تیار کرکے تیرہ مئی کو درج کیا گیا جس میں مدعی خود کہتا نہ اس میں کوئی گواہ ہے نہ کوئی نقصان ہوا ۔
مقدمے میں بائیس لوگ نامزد تنے جن میں بیس کا ٹرائل ہوا پانچ ہمارے قائدین شاہ محمود قریشی ، ڈاکٹر یاسمین راشد، محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ اور ڈاکٹر اعجاز چوہدری اور پندرہ ورکرز شامل تھے۔
مقدمے کی اہم بات یہ ہے کہ مدعی کہتا ہے اس کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے اور تفتیشی افسر کہتا ہے کہ اس میں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری نہ فیزیکلی ملوث ہیں اور نہ کسی اور ذریعے سے ملوث پائے گئے ۔لیکن اس کے باوجود سزا کا پرانا فارمولہ لگاتے ہوئے دس دس سال سزا سنا دی گئی۔
ایڈووکیٹ رانا مدثر
@MudassarUmer4
یوسف رضا گیلانی نا اہل ہوئے تو پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مخدوم شہاب وزیراعظم ہونگے، رات کو انہیں گھر سے اٹھا لیا گیا۔ اٹھانے والوں نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف وزیراعظم ہونگے۔ راجہ صاحب بتائیں وہ کون تھے جنہوں نے انہیں وزیراعظم بنوایا؟
“عمران خان سے وفا کے جرم” میں آج لاہور کے آٹھویں جھوٹے مقدمے میں ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ اور میاں محمود الرشید صاحب کو مزید 17-17 سال کی سزائیں سنا دی گئیں
اب تک دی گئی جھوٹی سزائیں:
ڈاکٹر یاسمین راشد: 280 سال
سینیٹر اعجاز چوہدری: 280 سال
عمر سرفراز چیمہ: 280 سال
میاں محمود الرشید: 268 سال
ان کے علاوہ بھی چار ورکرز کو سزائیں سنائی گئیں جو وقوعہ کے دن تھے ہی جیل میں
اس کیس میں مدعی نے خود بتایا کہ نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی ہی یہ چاروں لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی سزائیں سنا دی گئیں
بشری بی بی ایک گھریلو خاتون ہیں جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ان پر بھی سیاسی مقدمات درج کر دیے ہیں ، مقصد صرف بشری بی بی کے ذریعے عمران خان کو کمزور کرو تاکہ عمران خان جو حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے اس سے پیچھے ہٹ جائے لیکن سلام ہے اس بہادر خاتون کو جو پچھلے ڈھائی سالوں سے قید ناحق میں پڑی ہے! @ShahidkhattakSk
مبین عارف جٹ کا انکشاف
4 پانچ دن سے پنجاب میں نیا کام شروع ہو گیا ہے جس کے اوپر 2 یا 3 ایف آئی آر ہیں اس کو پکڑ کر ٹینڈیں کری جا رہے ہیں گنجا کرنا کون سا قانون اجازت دیتا ہے آپ کو اگر عدالتوں پر یقین نہیں تو تحریک انصاف کے ساتھ بیٹھ جائیں ہم بھی تو یہ ہی کہتے ہیں کہ عدالتوں پر اعتماد نہیں آپ خود ہی نیفوں میں پستول چلا رہے ہیں ٹنڈیں کر رہے ہیں ۔ @MubeenArifJutt
حلقہ پی پی-159 ویسے تو یہ حلقہ مجھ سے ہاری ہوئی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کا بھی ہے یہاں سے ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں رینجرز اور پولیس کے اہلکار امیر نواب خاں نامی ایک شہری کو سرعام، بیچ بازار، درجنوں لوگوں کے سامنے گریبان اور شلوار کے نیفے سے پکڑ کر گھسیٹتے، تھپڑ اور ٹھڈے مارتے دکھائی دے رہے ہیں۔”مُبینہ طور پر الزام؟ یا بجلی چوری کے مقدمات کا ہے۔”میں واضح کر دوں: میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ یہ شخص قصوروار ہے یا بے قصور یہ فیصلہ ثبوت کے بعد عدالت کا کام ہے۔لیکن ایک بات سینہ ٹھونک کر کہوں گا کسی بھی سرکاری یونیفارم، کسی ادارے، کسی اہلکار کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی شہری کو سڑک پر رسوا کرے، بیلٹوں اور ٹھوکروں سے زدوکوب کرے، اور پوری بستی کے سامنے اس کی عزت تار تار کرے اور دوسری طرف جو ملک کے سرٹیفائیڈ لٹیرے،تصدیق شدہ چور و ڈاکو ہیں، انہیں یہی ادارے سیلوٹ ٹھوکتے ہیں، انہیں پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ اور اسی حلقے میں رات کے اندھیرے میں دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بھی پہنچ جاتے ہیں۔مسئلہ یہی دہرا معیار ہے ایک عام شہری پر صرف الزام یا مقدمات کی بنیاد پر تشدد کی انتہا، اور دوسری طرف الیکشن پر ڈاکہ مارنے والوں کو ملک لوٹنے کا کھلا لائسنس دے رکھا ہے جب آپ خود کسی بھی نظام کی بنیاد ہی غلط رکھیں گے تو پھر سارا نظام غلط ہی چلے گا کیونکہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں۔” اور یہاں ظلم اپنی انتہا کو پُہنچا ہوا ہے جو محافظ ہونا چاہیے تھا وہ بے لگام ہو چکا، لٹیرے اقتدار میں مسلط ہیں، اور عوام صرف اپنی عزت بچانے کے لیے رسوا ہو رہی ہے میں کسی بھی چوری کی حمایت بلکل نہیں کرتا پکڑو مگر سب کو پکڑو، اور قانون کے دائرے میں رہ کر پکڑو، نہ کہ سرعام تذلیل کر کے !! اس شخص کےآخری الفاظ لمحہ فکریہ ہے۔
47 نمبری ٹیلی کام ترمیمی بل، بنیادی حقوق اور نجی جائیداد کے آئینی تحفظ پر شب خون۔ ٹیلی کام کمپنیز کو کہیں بھی ٹاور لگانے کا اختیار، انکار پر 5 کروڑ روپے جرمانہ۔ پہلے آئی پی پیز کے ساتھ ملک لوٹا اب ٹیلی کام کمپنیز کے ساتھ۔