طرز اظہار سے مر جاتی ہے آدھی الفت
آپ یہ بات نگاہوں سے نہیں کہہ سکتے
گھر پلٹتے ہوئے مردوں کی قسم دنیا میں
ایسے دکھ بھی ہیں جو ماؤں سے نہیں کہہ سکتے
نامعلوم
مجھے زمانے کی گردش سے ڈر نہیں لگتــــــا
میں ارض عشق کے شہر کربلا میں رہتا ھوں
بھٹک رھے ھیں یزیدی فنــــــا کے جنگل میں
حسین والا ھوں شہر بقــــــاء میں رہتا ھوں
قیصر عباس
یہ روزگار کــی بدصورتـــــــــــی نہ ہوتی تو
تمہارے حسن کی ترتیــــــــب دیکھــــنے آتے
تمہارا نام بھی اور تم بھی مجھکو یاد نہیں
مجھے اے کاش یہ دو جھوٹ بولنے آتـــــــے
عائشہ شـفق
مجھے زمانے کی گردش سے ڈر نہیں لگتــــــا
میں ارض عشق کے شہر کربلا میں رہتا ھوں
بھٹک رھے ھیں یزیدی فنــــــا کے جنگل میں
حسین والا ھوں شہر بقــــــاء میں رہتا ھوں
قیصر عباس
آخری بار ملاقات میں اس نے یوں کہا۔۔!!!
کیا ضروری ہے کہ وعدوں کو نبایا جائے۔
اپنی رنجشیں اسے خودہی مٹا لے دونوں۔۔!!
درمیاں شہر کے لوگوں کو نہ لایا جائے۔۔
نامعلوم
زندگی تیرے ایک دھکے سے
روڈ پر آگئے ہیں کچے سے
ہم کو نیچےاُتار لیں گے لوگ
عشق لٹکا رہے گا پنکھے سے
میں وہی ہوں یقیں کرو میرا
میں جو لگتا نہیں ہوں چہرے
ضیاء مذکُور
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں
جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا
بشیر بدر