جب محمود اچکزئی جب جناب شہباز شریف کی حکومت کو جوتے مار مار کے ہف گئے، تو جناب چاچو نے کھڑے ہو کر کہا، جناب باقی جوتیاں اندر بیٹھ کے مار لیں۔ آئیں الگ بیٹھ کے بات کرتے ہیں
بڑا پریشر ہے ہم پہ
بڑا پریشر ہے ہم پہ
ان جیسوں کو دیکھ کو افغان کہتے ہیں "پنجابی بے غیرت اے"۔
کھاتا بھی ہے اور گھورتا بھی ہے
سارا بجٹ بھی اٹھا کے لے گیا
آزاد کشمیر کی حکومت پر قبضھہ بھی کیا ہوا ہے
اور حافظ صاحب اور شہباز کو چھتر بھی مار رہا ہے
اور کھا بھی رہا ہے
کمال است
اگر آپ خوش نہیں ہیں تو پریشان مت ہوں
دنیا میں کوئی انسان خوش نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن میں کئی بار کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے یعنی ناشکری اسکی فطرت میں ہے، جو جس حال میں ہے وہ اس سے بہتر مستقبل کیلئے کوشاں ہے چاہے وہ امریکہ میں ہے، پاکستان میں یا کسی اور ملک میں، بہتر مستقبل کیلئے اپنے سے آگے لوگوں پر نظر رکھنی چاہیئے لیکن شکر کرنے کیلئے اپنے سے پیچھے رہ جانے والوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے، سب سے بہتر یہ ہے کہ اپنا موازنہ دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے کریں کہ آپ کل کہاں تھے آج کہاں ہیں اور اسی بنیاد پر مستقبل کے اہداف کا تعین کرتے جائیں
واصف علی واصف نے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے کہتے ہیں دنیا کا خوش نصیب شخص وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے
مریم نواز صاحبہ پنجاب کا حق سرنڈر کر آئی ہیں۔
آپ سے عرض ہے کہ نون لیگ پنجاب دشمن جماعت ہے۔ اب یہ تازہ مثال دیکھ لیجیے۔ خبر ہے کہ این ای سی نے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 920 ارب روپے کی کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اگر یہ درست ہے تو پنجاب کا ترقیاتی بجٹ آدھا کاٹ لیا گیا ہے۔
920 ارب میں سے پنجاب کا 702 ارب روپے جبکہ باقی سب صوبوں کا ملا کر 219 ارب کاٹا ہے۔ تیرہ کروڑ آبادی والے پنجاب اور پانچ کروڑ والے سندھ کا ترقیاتی بجٹ ایک برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پنجاب میں سرکاری ملازمین، ترقیاتی کام اور تعلیم صحت دیگر ترقیاتی منصوبے سب شدید متاثر ہوں گے۔نون لیگ نے کبھی پنجاب کے حق کے لیے سٹینڈ نہی لیا ہے
*لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ… اور ڈاکٹر کی “حرام کمائی”؟*
ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والا PGR ڈاکٹر تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے۔
اب ذرا حساب دیکھ لیجیے:
روزانہ اوسط 6 گھنٹے ڈیوٹی
(اتوار چھوڑ کر)
= 144 گھنٹے
7 لانگ کالز
جہاں دن رات ہسپتال میں گزارے جاتے ہیں
= 126 گھنٹے
ایک اسپیشل اتوار ڈیوٹی
یعنی کل ملا کر تقریباً
276 گھنٹے ماہانہ ڈیوٹی
اس حساب سے ایک ڈاکٹر کو
ایک گھنٹے کے صرف 435 روپے ملتے ہیں۔
اب OPD کا حساب بھی دیکھ لیجیے:
اگر ایک ڈاکٹر ایک گھنٹے میں کم از کم 10 مریض بھی دیکھ لے
تو آپ کے ٹیکس سے
ایک مریض کے چیک اپ پر تقریباً 40 روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ذرا نشتر روڈ پر بیٹھے کسی مالشی سے ریٹ پوچھ لیجیے؛
وہ 40–45 منٹ کی مالش کے 500–600 روپے لیتا ہے۔
تو پھر ایک ایسا انسان
جس نے اپنی جوانی کتابوں، امتحانوں، ڈیوٹیوں اور جاگی ہوئی راتوں میں گزار دی ہو…
اگر ایک گھنٹے کے 435 روپے لے رہا ہے،
تو کیا واقعی اسے “حرام کمائی” کہنا انصاف ہے؟
آپ یقیناً ٹیکس دیتے ہوں گے،
لیکن ٹیکس کہاں حرام ہوتا ہے…
شاید سوال وہاں اٹھانے کی ضرورت ہے۔ 😊
“یہ کسی پیشے کی توہین نہیں، صرف ترجیحات کا موازنہ ہے”
ڈاکٹر مصدق
نقوی صاحب کی اپنی بھی جائیداد ہے بلکہ کچھ تو ایمنسٹی اسکیم میں ڈکلئیر کی تھیں اور جن کے منہ بولے بیٹے ہیں انکے بچوں، چپڑاسیوں اور کئی شریک ملزموں کی بھی ادھر جائیداد ہیں
13 اپریل 1919 کو ہزاروں پنجابی امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں انگریز حکومت کے کالے قانون رولٹ ایکٹ کے خلاف احتجاج کیلئے اکٹھے ہوئے، شام 5:37 منٹ پر بریگیڈئیر جنرل ڈائیر کے حکم پر تنگ راستے روک کر نہتے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کی گئ ، اس واقعے میں ہزار سے زیادہ پنجابی شھید ہوئے، ان میں سکھ، ہندو اور مسلمان شامل تھے، پنجاب کے لیفٹنٹ گورنر مائیکل اوڈائیر نے بریگیڈئیر جنرل ڈائیر کے اس ظالمانہ احکامات کی مکمل پشت ہناھی کی، جلیانوالہ باغ کے سانحے کا بدلہ اکیس سال بعد پنجاب کے عظیم سپوت ادھم سنگھ نے کیا جب اس نے مائیکل اوڈائیر کو لندن میں قتل کیا اور رام محمد سنگھ آزاد کا نام اختیار کر کے پھانسی پر جھول گیا۔ جلیانوالہ باغ ہندوستان کی آزادی کیلئے پنجابیوں کی عظیم جدوجہد کا ایک واقعہ ہے بعد میں لاکھوں لوگ اس آزادی کیلئے جان سے گئے!! آج کا دن جلیانوالہ کے عظیم پنجابی شھیدوں کے نام!!
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif held a meeting with His Excellency JD Vance, Vice President of the United States of America on the sidelines of Islamabad Talks. 11 April, 2026.
بے روزگاری مہنگائی بے امنی نفسا نفسی کے درمیان خوشگوار بات شاہ زیب جیسے بہادر یتیم بچے ہیں جو اس چھوٹی عمر میں یہ تمام ملکی حالات کا سامنا بھی کر رہے ہیں ہوٹل پر رات بارہ بجے تک محنت مزدوری بھی کر رہے اور سکول بھی جا رہے ہیں یہ بچے ہمت حوصلے کااستعارہ ہیں
بہادر بچوں کئلئے دعائیں💕
جب آپ ٹرمپ کو دیکھیں تو ذہن میں رکھیں کہ یہ بھی عوام کا دیا ہوا تخفہ ہے جو کہ بہت ذہین ہوتے ہیں جن کو بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ جس عوام نے اسے منتخب کیا ہے وہاں کی شرح خواندگی ہماری نسبت کہیں زیادہ ہے اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی نوسر باز کی عوام کو بیوقوف بنانے کی صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اب اسکے اور عوام کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا اور یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دھاندلی صرف الیکشن والے دن نہیں ہوتی عوام کو فیک نیوز کے ذریعے گمراہ کرکے انکی سوچ پر اثر انداز ہونا بھی دھاندلی ہے یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر آپ کسی کو مالی معاملات بارے مشورہ دیں جو بعد میں غلط ثابت ہو تو لوگ آپکو زندگی بھر معاف نہیں کرتے بلکہ عدالت میں کیس کر دیتے ہیں لیکن سیاسی معاملات پر اگر آپکا مشورہ غلط ہو تو پھر بھی امکان ہیں کہ اگلی دفعہ بھی بیوقوف بنانے والے شخص کو ووٹ دینے کو بیتاب ہوتے ہیں، یہ نہیں کہ سیاستدان پہلے بیوقوف نہیں بناتے تھے یا جھوٹ نہیں بولتے تھے لیکن انکی اس صلاحیت کو محدود کرنے کے کچھ طریقے تھے تب پیغام دینے والا اور پیغام پہنچانے والے مختلف ہوتے تھے اور پیغام پہنچانے سے پہلے اسکی چھان پھٹک کر لیا کرتے تھے اب پیغام دینے والا ہی اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے پیغام پہنچانے والا ہوتا ہے، اگر جمہوریت کو بدلتے ہوئے چیلنجز سے مقابلہ کیلیئے تیار نہ کیا گیا تو جمہوریت نہیں بچے گی جنہوں نے جمہوریت بارے رٹا رٹایا سبق پڑھا ہوا ہے اور وہی روزانہ سنا رہے ہوتے ہیں انکو ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ انکے ماتم سے جمہوریت نہیں بچے گی اور اس سے پہلے کہ یہ ختم ہوجائے اسکو بچانے کیلئے اسکی ساخت کو بہتر بنانے کی کوشش کریں وگرنہ پانی گزرنے کے بعد پچھتاوے کا موقع پھر بھی آپکے پاس موجود ہو گا
#ISPR
Rawalpindi, 29 January, 2026
Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, #COAS & CDF of Pakistan visited Bahawalpur Garrison where he was briefed on various operational, training and administrative aspects of the Corps, with special focus on preparations for multi-domain warfare.
The COAS & CDF witnessed a high-intensity Field Exercise “Steadfast Resolve,” at Khairpur Tamewali (KPT) encompassing integration of niche technologies like unmanned aerial systems (drones), advanced surveillance assets, Electronic Warfare assets and modern command-and-control mechanisms, reflecting the Armed Forces’ focus on technology-enabled multi-domain operations.
While addressing the troops, COAS & CDF lauded their high morale, professional competence and operational preparedness. He reaffirmed that the Pakistan Armed Forces remain fully prepared to defend Pakistan’s sovereignty and territorial integrity against all threats, emphasizing the need to maintain optimum readiness to meet the requirements of future Battle field and security challenges.
COAS & CDF highlighted that Pakistan Armed Forces are undergoing major transformation in multiple domains. Character of war has evolved massively, with technological advancements driving the evolution, dictating huge mental transformation at all tiers. In future, technological manoeuvres will replace physical manoeuvres and will fundamentally alter the way offensive and defensive operations are undertaken. Therefore, Pakistan Armed Forces are embracing and absorbing technology at a rapid pace. In this process innovation, indigenisation and adaptation shall remain fundamental.
Earlier, the COAS & CDF also inaugurated the ROHI eSkills Learning Hub (STP) aimed at promoting digital skills and learning opportunities for students, particularly from Southern Punjab and across the country. He also inaugurated the APS Abbasia Campus, reaffirming Pakistan Army’s commitment to quality education and character building.
The COAS & CDF later visited the EME Regional Workshop, where he was briefed on maintenance regime to sustain modern platforms through advanced technologies, indeginization and other combat support measures.
Earlier, upon his arrival at Bahawalpur Garrison, the COAS & CDF was received by Commander Bahawalpur Corps. He also laid a floral wreath at Yadgar-e-Shuhada and offered Fateha, paying tribute to the supreme sacrifices of the martyrs.
افغانستان کے موجودہ وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کا ایک بھائی کوئٹہ میں ایک مدرسہ چلاتا ہے اور دوسرا گجرانوالہ میں کاروبار کرتا ہے اور دونوں اللہ ماشااللہ اربوں پتی ہیں۔ شنید ہے کہ انہوں نے امیر متقی کا سرمایہ سفید کیا جو متقی نے امریکیوں سے وصول کیا۔ متقی صاحب نے کراچی کی بنارس کالونی میں اچھی خاصی جائیداد اپنے نام پر خریدی تا پھر ان کے دونوں بھائیوں نے نادرا سے پاکستانی شہریت خرید لی اور بنارس پراجیکٹ ادھوراچھوڑ دیا گیا۔
ریاست اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرے
😌😌😌