اس بچے کی ویڈیو آج سب نے دیکھی اور خوب پسند کی۔
لیکن اس ویڈیو میں سب سے زیادہ غور طلب نقطہ یہ ہے کہ اس بچے نے کیسا زور دے کر، چبا چبا کر کہا،
"سہیل آفریدی ہمارا چیف منسٹر ہے"
گورنر راج لگانے کا خواب دیکھنے والے ذرا یہ ویڈیو غور سے دیکھیں۔ شکریہ۔ 🫡😘
@saqibbashir156 وزیرستان سے آئے ہوئے ایک نوجوان کو آڈیالا کے سامنے سے دوران انٹرویو پولیس نے اس لئے حراست میں لیا کیونکہ وہ عمران خان کی سالگرہ کے دن موٹر سائیکل پہ 11 گھنٹے سفر کرنے بعد ادھر پہنچ کر عمران خان کا نام کیوں لے رہا تھا۔ ویڈیو سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہے۔
میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں
میں عہد کرتا ہوں کہ میں ہر اس شخص یا ادارہ خواہ اندرونی یا بیرونی جو اس ملک کے خلاف کام کرے گا یا اس کے قانون کو توڑے گا،اس کے خلاف۔۔۔اپنی پوری قوت استعمال کرونگا- ---کیونکہ میں پاکستان کا شہری اس کا مالک اس کی بقا کا حتمی ضامن ہوں
@ANPMarkaz سر باچا خان ولی خان بہت بڑے لیڈر تھے اور رہنگے کیونکہ ان کو عوام کی فکر تھی نا کہ کرسی کی لیکن آپ کی پارٹی نے کیا کیا سوائے زرداری اور نواز شریف کے ساتھ گھومنے پھرنے اور حکومت انجائے کرنے۔
پاکستانی میڈیا پر پابندیوں کا نیا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے پاکستانی عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا پارلیمنٹ بے اختیار ہے ڈیموکریسی انڈیکس میں پاکستان کا شمار آمرانہ ریاستوں میں ہونے لگا ہے لیکن پاکستان کو ان پالیسیوں سے کیا ملا؟ گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں پاکستان ٹاپ پر کیوں پہنچا؟ مزید سوالات اس vlog میں https://t.co/qgMTDI5qtE
اسلام آباد ہائی کورٹ نے راستے کھولنے کا حکم دیا ہے حکومت نے سارے راستے بند کیے ہیں تو اب ہم 27 ستمبر کو اسلام ہائی کورٹ کے آرڈر کے مطابق اسلام آباد کے سارے راستے کھولنے ارہے ہیں
لیکن ہمارے اسحاق ڈار صاحب کے لیے مزدورں کی بجائے ان پچاس ہزار آفیشل /ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہولڈرز سرونگ/ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ارکان اسمبلی، ان کے بچے اور اب تو والدین کے لیے سعودی عرب میں ویزہ فری انٹری بہت اہم تھی۔
ایلیٹ کلاس ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنا جانتی ہے اور ڈار صاحب وہی کر رہے ہیں۔
باقی اگر سعودی عرب نے پاکستانی مزدورں کے لیے اقامہ فیس بڑھائی تو بدلے میں ان پچاس ہزار آفیشل” غریبوں” کو ویزہ فری انٹری بھی دے کر حساب برابر کر دیا۔آپ بھی انصاف سے کام لیں برادر۔
سفارتی محاذ پر اسحاق ڈار کی بلیو/ریڈ پاسپورٹ رکھنے والے 50 ہزار سرکاری افسران، ارکان پارلیمنٹ،ان کے بیوی بچوں اور والدین تک کے لیے بہت بڑا کارنامہ۔
اب آپ کو پتہ چلا ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران پچیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے سبز پاسپورٹ لیکن اپنے لیے، بیوی، بچوں اور اب تو والدین کے لیے کیوں تاحیات بلیو/ریڈ پاسپورٹ لیتے ہیں تاکہ کہیں سے نہ لگیں وہ عام پاکستانی ہیں جنہیں سبز پاسپورٹ پر مفت انٹری دور کی بات ہے اب ویزے لینا تک مشکل ہوچکا ہے۔
یہ حکمران سیاسی اور بیوروکریٹک اشرافیہ سب بینفیٹس اور مراعات اپنے خاندان کے لیے لینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ان پچاس ہزار بلیو/ریڈ پاسپورٹ ہولڈرز خوش قسمت پاکستانی سرونگ اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ان کی اولادوں، والدین کو بہت بہت مبارک ہو۔ ارکان اسمبلی کو بھی بہت مبارک ہو جو آج کل اپنے اور والدین کے لیے تاحیات (ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ) بلیو پاسپورٹ کے لیے کمیٹی اجلاسوں میں لڑائی لڑ رہے ہیں۔ امید ہے ان کی بھی جلد سنی جائے گی جیسے سرکاری بابوز نے خود ہی اپنے لیے تاحیات یہ سہولت لے لی تھی۔ اندازہ کریں ان پچاس ہزار لوگوں کو سبز پاسپورٹ برا لگتا ہے۔ انہیں بیوی بچوں ماں باپ سمیت ہر ملک میں فری ویزہ انٹری چاہئے۔
@CMShehbaz@MIshaqDar50
@ShahidkhattakSk صرف ISF نہیں تمام سٹوڈنٹس کو دعوت دے جو دوسرے فیڈریشن کا حصہ ہیں یا عام سٹوڈنٹس ہیں اور یہ پرائیویٹ اور سرکاری سب کالجز اور یونیورسٹیوں میں ہونا چاہئے۔ تمام MNA اور MPA اور وزراء حصہ لے
ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے؟پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے،پاکستان کے دارالخلافہ کا تصور دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے؟ اور ہم ہیں کہ کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا۔
اور پھر جب لوگوں کی آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں تو پھر زبان کے بجائے ہاتھ استعمال کرتے ہیں، تو پھر ان کو باغی کہا جاتا ہے،ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔
کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو بھی لاشیں دی جا رہی ہیں،تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبات جو تسلیم کیے جا چکے ہیں، حکومت وہ واپس لے چکی ہے۔اور ہر ایک پر الزام ہے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔
کیا صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں؟ جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اسی طریقے سے ہمارے طاقتور لوگ بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ رویے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔