پیچھے سے ورکر مار رہے، آگے سے (حکومت) لوگ مار رہے، ہمارے پاس تو کوئی آپشن باقی نہیں رہا،
جنید اکبر اعتراف کررہا ہے کہ ہم مجبوری میں لانگ مارچ کررہے ہیں کیونکہ بیرون ملک بیٹھے ڈالر خور چاہتے ہیں پی ٹی آئی کی شہرت جلسوں دھرنوں کے زریعے یونہی برقرار رہے ہیں،،
پہلے پی ٹی آئی اپنی احتجاجی مگر خالی کردیاں بھرنے کے لئے طاہرالقادری اور شیعہ علما کو استعمال کرتی تھی، اب جماعت اسلامی نے انکار کر دیا تو یوتھڑوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کے ساتھ ہو کیا گیا ہے؟
عادت پڑی ہوئی ہے ناں
جناب سہیل آفریدی نے صوبائی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ خیبرپختونخواہ کا ہر نوجوان بدمعاش ہے۔
ہم یہ بات واضح کرتے ہیں کہ آفریدی صاحب بکواس کر رہے ہیں، خیبر پختونخواہ میں تین فیصد ایجنسیوں کی پالی جانائز اولاد پی ٹی آئی کے علاوہ باقی سب لوگ شرفا اور اسلام پر عمل کرنے والے ہیں اور یہ معصوم دہشت گردوں کے خلاف لگاتار اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں۔ یہ سہیلا پریدی جیسے لوگ بدمعاش ہیں جو ان معصوموں کا بے گناہ خون بیچ کھاتے ہیں۔
دوسرے ممالک میں ریاستیں کسی کو اسمبلیوں میں بٹھاتی ہیں تو ریاستی وفاداری کا حلف لیکر۔۔
پاکستان میں کسی کو اسمبلی میں بٹھایا جاتا ہے تو پسند نہ پسند دیکھ کر یہاں حب الوطنی کا کوئی پیمانہ ہی نہیں یہی وجہ ہے پاکستان کی اسمبلی میں پاکستانی کم افغانی ایرانی اماراتی ٹھگ زیادہ ہے
ایران پر پابندیاں ختم ہو رہی تھی تیل بیچنے کی اجازت مل گئی تھی پھنسے پیسے بھی ملنے جا رہے تھےMOU سائن ہو گیا تھا
لیکن موسادی پاسدران نے چلتی سائیکل میں اُنگل دے کر ایران کو اس مقام تک لے آیا کہ دنیا بھر سے ایرانی ائیرلائنز کے لیے فضائیں بند کروا بیٹھے
بس ساڈے چاں ای نہیں مُک رے