میرا ایمان ہے کہ جتنا ظلم عمران خان پر ہوا ہے اور جس صبر اور حوصلے سے ان برداشت کیا ہے ظالم نیست و نابود ہوجائیں گے۔ اللہ ظالموں کی رسی دراز ضرور کرتا ہے لیکن کھلی نہيں چھوڑتا۔
مجھے تو رسی کھینچتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔
انکےسرپرستوں کےاقتدارکی شکل میں پاکستان آج یزیدیت(فسطائیت)کےنرغےمیں ہے۔کیا ہمارے لوگ بھی خوف میں مبتلا ہوکر اس سازش کےسامنے سرجھکائیں گےیابحثیت ایک قوم اس کڑےامتحان کا سامنا کریں گے؟ 13اگست کو میں اپنےحقیقی آزادی جلسےمیں اس فسطائیت سے نمٹنے کےمنصوبےکااعلان کروں گا۔
“جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!!
دو سال سے میں صرف پاکستانی قوم کی خاطر جیل میں قید ہوں تا کہ آپ کو کوئی غلام نہ بنا سکے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ آپ خود اپنی آزادی کے لیے کھڑے ہوں اور اس جابر نظام کو شکست دیں۔
ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے ۔ چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب پاکستانی قوم کو ملک گیر احتجاجی تحریک کے علاوہ کوئی اور طریقہ لا قانونیت کی اس دلدل سے باہر نہیں نکال سکتا۔
ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا- پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔
اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔
دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔ جن لوگوں نے اُن کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں وہ یاد رکھیں! کچھ عرصے بعد یہی لوگ انہیں کرش کر دیں گے اور عوام بھی انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی-
نیلسن منڈیلا اور گاندھی تک کو دیگر قیدیوں سے ملنے، کتابیں پڑھنے اور کتابیں لکھنے کی اجازت تھی- میں ایک ایسی قید کاٹ رہا ہوں جہاں روزانہ 22 گھنٹے مجھے 6x8 کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے، پولیس اہلکار تک مجھ سے بات نہیں کر سکتے، 6 ماہ سے کتابیں بند ہیں، میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میرے وکلأ اور ساتھی مجھ سے نہیں مل سکتے، میرے اہل خانہ کو ایک ہفتے بعد چند منٹ کے لیے ملنے دیا جاتا ہے اور اکثر انہیں بھی روک لیا جاتا ہے، دس ماہ سے میرے ذاتی ڈاکٹر سے میرا معائنہ نہیں کروایا گیا، پچھلے ایک ہفتے سے تو میرا اخبار اور ٹی وی بھی بند ہے۔ جو کتابیں مجھے خاندان کی طرف سے بھجوائی جاتی ہیں وہ تک مجھے مہیا نہیں کی جاتیں اور سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں پڑی رہتی ہیں۔ میری اہلیہ کو بھی بدترین حالات میں قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے-
اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بغل بچوں کا ہاتھ ہے۔ یہ سب کچھ مجھے توڑنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ لیکن میں آخری سانس تک ظلم کے خلاف کھڑا رہوں گا-
ہم نے قبائلی علاقوں کو کئی دہائیوں بعد ان کے آئینی و قانونی حقوق دلوائے اور علاقے کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے بھرپور وسائل مہیا کیے- موجودہ رجیم نے پہلے تو تین سال تک ان علاقوں کے جائز فنڈز روکے رکھے اور اب ان کے آئینی حقوق واپس لینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے- ہمارے پارلیمینٹیرینز اور نمائندوں نے ان اقدامات کا بائیکاٹ کر کے اچھا فیصلہ کیا-
ہمارے پنجاب کے ایم پی ایز کو جعلی حکومت کے بجٹ کے دوران احتجاج کرنے پر معطل کرنے کے پیچھے یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کے خلاف احتجاج ان کو بہت ناگوار گزرا ہے- حالانکہ ہمیشہ بجٹ کے دوران احتجاج ہوتا آیا ہے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (۸ جولائی، ۲۰۲۵)
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہمارے پیغمبرِپاک صلی اللہ علیہ وسلم کےنواسےراہِ حق پر تھے،کوفہ کےلوگ یزید کےخوف سےانکی مدد کو نہ نکلےاور اسلام کےعظیم ترین المیےکووقوع پذیرہونےدیاگیا۔ہر دور کااپنایزیدہوتا ہے۔مجرموں کےبرسرِاقتدارگروہ،جسےتبدیلئ حکومت کی امریکی سازش کےذریعےحکومت میں لایاگیااور
کمشنر راولپنڈی کا اعترافی بیان جس میں انہوں نے یہ تسلیم کرتےہوئے مستعفٰی ہونے کا اعلان کیا کہ انہوں نے انتخابی نتائج سےچھیڑ چھاڑ کی،جس کے نتیجےمیں محض راولپنڈی ڈویژن میں تحریک انصاف کو قومی اسمبلی کی کم ازکم 13 نشستوں سے محروم کیا گیا۔
ان کا یہ بیان ملک بھر میں انتخابی نظام کے ساتھ کئے جانے والی نہایت منظّم چھیڑ چھاڑ کی ایک ہوشربا روداد ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلی کی ایسی نشستیں جہاں تحریک انصاف کے امیدواروں کو واضح برتری حاصل تھی، کو جعلی سازی اور دھوکے دہی سے ہروایا گیا اور عوام کو ان کے جائز مینڈیٹ سے محروم کیا گیا۔
وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ساکھ، اس کی بہتری اور سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے اور اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے فارم 45 کی روشنی میں نتائج جاری کرتے ہوئے عوام کی منشا کا احترام کیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف شفاف تحقیقات اور عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے میں ملوث افراد کیخلاف مؤثر اور بامعنی عدالتی کارروائی کابھی مطالبہ کرتی ہے۔
دل جیت دوسانجھ نے تو فلم ستلج میں صرف ترن تارن کے لاپتہ ہونے والے پچیس ہزار نوجوانوں کی بات کی ہے اگر وہ پورے پنجاب کی بات کرتے تو آگ بھی زیادہ لگتی اور پورا سچ بھی بیان ہوجاتا، پورا سچ تو یہ ہے کہ 1984 سے لے کر 1995 تک گیارہ سالوں میں دس لاکھ سکھ نوجوانوں کو مار دیا گیا، سکھ مائیں اپنے پیارے بیٹوں کو روتے روتے دنیا سے چلی گئیں،کوئی فلم بنائے یا داستان لکھے، گولڈن ٹیمپل سے شروع ہونے والا ظلم سکھوں کی پوری نسل کھا گیا،اُس وقت پنجاب میں نوجوان ہونا ہی جرم تھا،سکھ ماؤں نے اپنے بچوں کو جوانی سے پہلے ہی باہر بھجوانا شروع کردیا کیونکہ جوانی کے دروازے پر موت کھڑی ہوتی تھی،اس جبر کے پورے دور میں کئی سکھ پولیس اہل کاروں نے محض ترقی کے لئے،محض دنیاوی فائدے کے لئے اپنے ہی دھرم کے نوجوانوں کا خاتمہ کیا،ایسے تمام پولیس اہل کار دھرتی کے غدار ہی تو تھے کہ انہوں نے دھرتی کی آواز کو قتل کیا،ایسے غدار افسر قابل لعنت ہی تو ہوتے ہیں
The assault on my house today was first of all a contempt of court. We had agreed that an SP with one of our people would implement a search warrant bec we knew otherwise they would plant stuff on their own, which they did. Under what law did they break the gate, pull down trees
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
یہ ویڈیو نہیں دیکھی ہوگی جب خان صاحب نے اپنی بہنوں سے کہا ملک سے باہر چلی جائیں تو تینوں نے جواب دیا، نہیں ہم مقابلہ کریں گے۔
اور پھر تینوں نے بہادری کی تاریخ رقم کر دی 🔥
🚨عوام کی ڈیمانڈ پر ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل ستلج فلم ۔🚨
ایچ ڈی کوالٹی میں مکمل دوبارہ دیکھیے ۔
وہ فلم جس کو مودی نے انڈیا میں بین کیا ۔جس کو نیٹ فلیکس سے اتار دیا ۔
کیونکہ رجیم چینج والے سارے لوگ چاہتے ہیں عوام کے ساتھ جو ناجائز سلوک ریاست اور حکومت کرتی ہے وہ کوئی نہ دیکھے ۔
دیکھا جائے تو اس وقت برصغیر کے تمام ممالک میں یہی حالات ہیں جو ستلج میں دیکھائے گے ہیں ۔
کیا ہمارے پنجاب یا باقی صوبوں میںُ بھی ایسے حالات ہیں جو انڈیا کی پنجاب میں دیکھائے گے ہیں ؟
اس کا حل کیا ہے ۔۔۔
🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقاصد:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: مفاہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانیے کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!