مطالعہ وسیع ہے آپ کا اور شاید فراغت بھی
ہنر بڑھا پاتے ہیں تبھی اور شناخت بھی
ہمارے حصے ہے اک جہاں اور ہم خود بھی
وقت سے پہ��ے عمر گزار بیٹھے اور صحت بھی
رمزی
🌹
آپ بہت عمدہ لکھتے ہیں راشد بھائی۔
سلامت و شاد رہیں آمین
کچھ اپنے بھی جذبات لکھا کرتا ہوں
اوروں کی حکایات لکھا کرتا ہوں
بن جاتی ہے یوں ایک رباعی میری
دو چار میں دن رات لکھا کرتا ہوں
#حرفِ_راشد#رباعیءِ_راشد#رباعیات
یکم اگست 2022
یہ بہت اہم نکتہ ہے جس پہ بہت کم بات کی جاتی ہے اور اس سے اتفاق کرتا ہوں اس چھوٹے سے اعتراض کے ساتھ کہ لوگ وہاں ترقی کرتے ہیں جہاں مواقع اور تحفظ کی ضمانت ملے
ہم پیچھے ہیں کہ جو یہ فراہم کرنے کے پابند ہیں وہ خود مواقع،تحفظ سے اپنے عیال و اقارب کو ترقی کرتے ہیں باقیوں کو لوٹتے ہیں
ملک نہیں لوگ ترقی کرتے ہیں اور ملک کی اکانومی کو اوپر لے جاتے ہیں امریکہ میں صرف چند کمپنیوں کا ٹرن اوور بلینز ڈالرز میں جاتا ہے جیسے فیس بک،امیزون ٹوئیٹر وغیرہ،پٹرولیم،معدنیات اور اسلحہ کی کمپنیاں الگ ایک ریکارڈ رکھتی ہیں ملک کی ترقی میں نمایاں مقام پرائیویٹ سیکٹرز کا ہوتا ہے جس کا نام ونشان مٹا دیا گیا ہے
تمام سیاستدان بے وقعت ہو چکے تھے ایک بیان نے سب کو متحرک اور انقلابی بنا دیا اور گجنی عوام پھر آوے ای آوے جیتے گا وہی جیتے گا اب کی باری ہے ہماری اور سیاسی مخالفین کی پگڑیاں اچھالنے میں اپنی اتری شلوار چڑھانا بھول جائے گی اور وہ جاری رہے گا جو اب تک ان سے ہو رہا ہے
🙏
نظم
آؤ گڑیا مری اک کہانی سنو
جو کہانی تمہیں ہے سنائی گئی
اس کہانی کا کوئی خلاصہ نہیں
راجہ رانی کا کوئی اثاثہ نہیں
یہ فقط کھیل ہے اور فقط کھیل ہے
پیڑ پودے بنے اور یہ پانی بنے
کھیل ہی کھیل میں راجہ رانی بنے
کھیل کھیلا گیا
سب تماشے ہوئے
پھر تماشے سے دو نام پیدا ہوئے
ایک راجہ بنا ایک رانی بنی
کھیل ہی کھیل میں یہ کہانی بنی
پھر زمانے کو یہ سب سنایا گیا
اس تماشے کو سچ ہی بتایا گیا
جب زمانہ بھی مسرور ہونے لگا
تب سے یہ کھیل مشہور ہونے لگا
لڑکیوں نے سنی یہ کہانی تو پھر
ذہن ان کے بھی مفلوج ہونے لگے
تھام کر ہاتھ لڑکوں کا کہنے لگیں
میرا راجہ ہے یہ اس کی رانی ہوں میں
بس دوانی ہوں میں بس دوانی ہوں میں
بیٹیوں کا یہ چہرا جو دیکھا تو پھر
بیٹیوں تک سے بھی باپ ڈرنے لگے
اس تماشے سے کئی باپ مرنے لگے
اب سنو غور سے
یہ فقط کھیل ہے اور فقط کھیل ہے
کھیل تک ہی رہو
اس کو سچ مان کر
تم نہ کرنا کبھی
کہہ رہا ہوں نہ میں
تم نہ مرنا کبھی
باپ کا مان رکھ
اس کی پگڑی بچا
جھوٹ ہے یہ فقط
جھوٹ میں تُو نہ آ
اپنا دامن بچا
اپنا دامن بچا
جاؤ گڑیا کہانی مکمل ہوئی
کوئی راجہ نہیں کوئی رانی نہیں
اس محبت کی کوئی کہانی نہیں
راشد خان عاشر
احمد ندیم قاسمی صاحب کی ایک دعا جو اب حسرت بن گئی ہے
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشہء زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
#اردو_زبان
#موناسکندر
کاروباری وارداتئوں کا ایک گروہ ایسا ہے، جسے ہر دور میں ایوانوں میں رسائی رہتی ہے اور گیٹ نمبر چار ان پر ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ معیشت کو لوٹنے والے ان ڈاکووں کو ہر آرمی چیف ہمیشہ آگے کی کرسیوں پر بٹھاتا ہے، پی آئی اے بھی انہی کو بخشی گئی ہے،
تم یاد ائے
بہت یاد ائے
@NawazSharifMNS@CMShehbaz@MaryamNSharif
غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا
افعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا
اکبرؔ نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی
جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا