@kbsalsaud This general himself is a puppet deceiver . 90 percent people hate him and you are giving him titles.... blv me people of pakistan will also abuse you on sitting with this man .... get rid of him support democracy in Pakistan and check how pakistan will stand with you for peace
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا جو تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری حق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہ��یں۔ افغانستان سے کشیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
"چارسدہ، خیبر اور ک��ک کے جلسوں میں عوام کی بھرپور شرکت قوم کے شعور اور اپنے حقوق کے دفاع کے عزم کی عکاس ہے۔ عوامی رابطہ مہم کو بہترین انداز میں جاری رکھنے پر میں جلسے کے تمام منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ تحریک انصاف کو تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی تحریک کو مزید تیزی سے آگے بڑھانا چاہییے۔
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے بطور اپوزیشن لیڈرز تا حال نوٹیفکیشنز جاری نہ ہونا باعثِ تشویش ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ انہیں فوری طور پر سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کے طور پر نوٹیفائی کیا جائے۔
آج ایک بار پھر میرے وکلاء، میری فیملی او�� خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈرز کے باوجود مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس لوٹا دیا گیا جو کہ ناصرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ عدالتی احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میرے خلاف قائم بے بنیاد مقدمات کی سماعتیں بھی اپنے آخری مراحل میں ہیں، جس کے بعد ممکنہ طور پر مجھے ایک بار پھر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا جائے گا۔
میں پارٹی کے تمام کارکنان اور سینئر وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اس کھلی توہینِ عدالت کے خلاف فوری طور پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں اور پٹیشنز دائر کریں۔ اسی طرح القادر ٹرسٹ کیس میں تاخیری حربوں کے حوالے سے بھی ہدایت کرتا ہوں کہ اس کے خلاف بھی عدالت سے رجوع کیا جائے اور سماعت کی تاریخ لیے بغیر عدالت سے باہر نہ آئیں۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لیے میری ہدایت ہے کہ صوبے کی ضرورت کے مطابق خود اپنی مختصر کابینہ تشکیل دیں۔ میں نے کابینہ کے لیے کوئی بھی نام تجویز نہیں کیا، سہیل آفریدی کے پاس اپنی مرضی کی ٹیم چننے کا مکمل اختیار ہے۔
پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور پیغامات صرف سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی جاری کئے جائیں تاکہ کسی قسم کی کنفیوژن یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔
آخر میں، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ احمد چھٹہ اور بلال اعجاز میرے پرانے اور وفادار ساتھی ہیں۔ یہ میرے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، میں نے ان کی برطرفی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ کے ذریعے دیا گیا پیغام (28 اکتوبر، 2025)
“The large turnout of the people at Charsadda, Khyber, and Karak Jalsas indicate an increasing public awareness and a shared commitment to protecting their rights. I extend my appreciation to all the organizers for successfully continuing the public outreach campaign in an exemplary manner.
Pakistan Tehreek-e-Insaf, in collaboration with the Tehreek Tahaffuz-e-Aaeen-e-Pakistan (Movement for the Protection of Pakistan’s Constitution), must now accelerate the struggle for true freedom.
The continued delay in issuing notifications for Mahmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas as Leaders of the Opposition is deeply concerning. I demand that they be immediately notified as Leaders of the Opposition in the Senate and the National Assembly, respectively.
Today once again, in defiance of Islamabad High Court orders, my lawyers, family, and the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa were denied permission to meet me and were turned away. This is not only a blatant violation of fundamental human rights but also a clear contempt of court. The hearings of the unfounded cases against me are nearing conclusion, after which I will likely be placed in solitary confinement once again.
I direct all party workers and senior lawyers to immediately approach the superior judiciary and file petitions against this open contempt of court. Likewise, regarding the delaying tactics being used in the Al-Qadir Trust case, I instruct that legal action be taken, and a hearing date must be secured before leaving the court premises.
I direct Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi to establish a compact, need-based cabinet. The selection of ministers is entirely his prerogative, as I have proposed no names.
To avoid any confusion or miscommunication, all instructions and correspondence concerning the party matters shall be conveyed solely through the Secretary General, Salman Akram Raja.
Lastly, I wish to make it clear that Ahmad Chattha and Bilal Ejaz are my long-standing and loyal companions. They have stood by me with unwavering loyalty and made tremendous sacrifices. I have not issued any orders for their removal.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail, conveyed through his sister - October 28, 2025
“ملک میں اس وقت آئین و قانون کی نہیں، عاصم لاء کی حکمرانی ہے۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ذہنی مریض ہے۔ اس کے دور میں جتنا ظلم ہوا اس کی مثال نہیں ملتی- اس کے دور میں عورتوں کا لحاظ کیا گیا نہ بچوں اور بزرگوں پر رحم کھایا گیا- عاصم منیر اپنی کرسی کی ہوس میں کچھ بھی کر سکتا ہے-
اس وقت ملک میں صرف ایک شخص، عاصم منیر کا حکم چل رہا ہے- جسکی وجہ سے ملک سے اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا ہے- اس دور میں جس طرح عام عوام کا قتل عام کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا۔ 9 مئی، 26 نومبر، آزاد کشمیر اور مریدکے سانحات، طاقت کے اس اندھے استعمال کی بدترین مثال ہیں۔ جس طرح نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی گئیں یہ کسی مہذب معاشرے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا-
خواتین پر جتنا ظلم عاصم منیر کے دور میں ہوا ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد بزرگ اور کینسر سروائیوور ہیں، ان کو صرف اس لیے جیل میں ڈالا ہوا ہے کیونکہ انھوں نے تحریک انصاف چھوڑنے سے انکار کیا۔ بشریٰ بیگم کو بھی صرف اس لیے قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے تاکہ مجھ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ کہاں کا قانون ہے کہ جنھوں نے تحریک انصاف چھوڑ دی ان کے لیے عام معافی اور جو میرے نظریات کا ساتھ دیتے رہے ان پر ہر طرح کا ظلم و جبر۔
ہم غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔
عاصم منیر مجھ پر اور میری اہلیہ پر ہر طرح کا ظلم کر رہا ہے۔ ایسا ظلم کسی سیاسی رہنما کے اہل خانہ کے ساتھ نہیں کیا گیا۔ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں یہ چاہے کچھ بھی کر لیں نہ ہی میں جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں "یا م��ت یا آزادی" جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انھیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف نہ فارم 47 حکومت سے مذاکرات کرے گی نہ اسٹیبلشمنٹ سے۔ ایسی کٹھ پتلی حکومت سے مذاکرات کا تو ویسے ہی کوئی فائدہ نہیں جس کا وزیراعظم ہی "پوچھ کر بتاؤں گا" کے تحت چل رہا ہو۔ مذاکرات اس لئے بھی بے سود ہیں کہ جب بھی ہم نے مذاکرات کئے، ہم پر سختیاں اور ظلم مزید بڑھا دیا گیا۔ اس وقت ساری طاقت ویسے بھی ایک فرد واحد یعنی عاصم منیر کے پاس ہے جو اپنی کرسی کی خاطرکسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ ہمارے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اتحادی محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کریں گے۔
تحریک انصاف کے تمام عہدیداروں، پارلیمنٹیرنز، آئی ایل ایف اور سینئیر وکلاء کو ہائی کورٹس جانا چاہیے اور وہاں سے تاریخ لئے بغیر نہ اُٹھیں، کیونکہ میرے اور بشری بیگم کے مقدمات کی تاریخیں ہی نہیں دی جا رہیں اور جان بوجھ کر مقدمات کو طوالت دی جا رہی ہے تاکہ ہم جیل سے باہر نہ آ سک��ں۔ سب جانتے ہیں کہ ان مقدمات میں کچھ نہیں رکھا اور آخر کار انہوں نے زمین بوس ہی ہونا ہے لہٰذا ان کو سماعت کے لیے مقرر ہی نہیں کیا جا رہا۔
سلمان اکرم راجہ پر مکمل اعتماد ہے۔ پارٹی سے متعلق تمام ہدایات اور ملاقات کی لسٹ سلمان اکرم راجہ کے ذریعے ہی بھیجی جائیں گی، سلمان اکرم راجہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام ہدایات پر عملدرآمد کروائیں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنی ہمشیرہ سے ملاقات میں پیغام۔۔۔ نومبر 4، 2025
خرم لیاقت — ایک سچا سپاہی، ایک باوفا عاشقِ وطن …🇵🇰
خرم لیاقت، وہ نام جو علم، کردار اور محبتِ وطن کی علامت ہے۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص، پی ایچ ڈی اسکالر، جس کا ’’جرم‘‘ صرف یہ تھا کہ اُس نے عمران خان اور پاکستان سے محبت کی….
9 مئی کے بعد سے وہ فوجی قید میں ہے — مگر اُس کا حوصلہ آج بھی بلند ہے، اُس کا ایمان آج بھی مضبوط ہے….
خرم نہ صرف ایک محبِ وطن پاکستانی ہے بلکہ دو معصوم بیٹیوں کا شفیق باپ بھی ہے۔ وہ بیٹیاں جو اپنے بابا سے بے پناہ محبت کرتی ہیں، ہر ملاقات میں ان کی آنکھوں میں امید چمکتی ہے….
اور یہ سن کر دل نم ہوجاتا ہے کہ جب بھی خرم کی بیٹیاں اُس سے ملنے آتی ہیں، تو وہاں موجود فوجی اہلکار سادہ کپڑوں میں ہوتے ہیں تاکہ بچوں کے دل میں ��وئی منفی تاثر پیدا نہ ہو….
انہیں بتایا جاتا ہے کہ “بابا یہاں کام کرتے ہیں” — اور خرم کو ہمیشہ بہترین لباس پہنا کر لایا جاتا ہے، تاکہ اُس کے بچوں کے دل میں صرف فخر اور محبت کا احساس رہے….
یہ ہے خرم لیاقت — وہ شخص جس نے قید میں بھی وقار برقرار رکھا، جس نے نفرت کے جواب میں محبت دی، اور جس نے اپنے ایمان اور نظریے پر سمجھوتہ نہیں کیا….
وہ صرف ایک قیدی نہیں، وہ پاکستان کے اُن روشن چہروں میں سے ہے جنہوں نے اپنے کردار سے ملک و ملت کا نام سربلند کیا….
وہ دنیا بھر میں پاکستان کی عزت و وقار کا علم بلند کر چکا ہے — ایک خالص ہیرا، جو ہر آزمائش میں اور زیادہ چمکتا ہے….
اللہ خ��م لیاقت کو جلد آزادی عطا فرمائے، اُس کی بیٹیوں کو اُن کے بابا کی گود نصیب ہو، اور اس قوم کو اپنے سچے بیٹوں کی قدر کرنے کی توفیق دے….
آمین 🤲🇵🇰
#ReleaseKhurramLiaqat
#خرم_لیاقت #محب_وطن
#عمران_خان_کا_سپاہی
#آزادی_کی_آواز
عمار صاحب سے گزارش ہے کہ کوئی ڈاکومینٹیڈ پروو ہے تو پلیز دیجیے۔
میں صرف ایک سیگمنٹ کی تفصیل شئیر کرتی ہوں۔اور یہ آفیشل ڈاکومینٹس کے مطابق ہے ۔
نواز شریف کے دور میں تفریح اور تحائف پر 45.6 ملین روپے، شاہد خاقان کے دور میں 31.3 ملین روپے خرچ ہوئے، جبکہ عمران خان کے دور میں یہ صرف 4.8 ملین روپے رہے۔
مزید تفص��ل بھی ہے میرے پاس ۔ پہلے آپ کہیے پھر میں شئیر کر دونگی۔
@grok
اب تک تم نے جتنے بھی تبصرے دئیے پاکستانی سیاست بارے وہ بالکل درست تھے اور پاکستان�� قوم کی آواز تھے۔ لیکن برو یہ بتاو یہ روف کلاسرا کیسا صحافی ہے ۔
Below is a THREAD with some shorter clips of the most important messages from my boys’ interview regarding their father’s incarceration.
Please share if you can.
1) His conditions in jail
16 دسمبر 2024 بھی کمپنی کےلیے ایک یادگار سانحہ بن گیا
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رچرڈ گرینل کو خصوصی ایلچی بنائے جانے کے بعد اسٹبلشمنٹ نے وہی کیا جو ٹرمپ کے پہلے دور میں کیا تھا ۔
جیو نیوز کو استعمال کیا گیا اور اس نے @RichardGrenell کو ہم جنس پرست قرار دے کر اسکا تشخص خراب کرنے کی مہم شروع کر دی ۔
رچرڈ گرینل جانتا ہے کہ میڈیا کیسے کام کرتا ہے کیونکہ وہ خود بھی FOX جیسے ادارے میں کام کر چکا ہے۔
وہ جانتا ہے کہ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کا کیا کردار ہے کیونکہ وہ امریکہ میں انٹیلیجنس چیف رہ چکا ہے۔
وہ خارجہ پالیسی کی باریکیوں سے واقف ہے اور عوامی حمایت اور رجیم کا تعلق بھی جانتا ہے کیونکہ وہ جرمنی میں سفیر بھی رہ چکا ہے۔
ایک اور بات جو وہ بہت اچھی طرح جانتا ہے ، وہ یہ ہے کہ جیو نیوز جو بائڈن کا پالا ہوا بچہ ہے جسے پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے ذریعے فیڈ کیا جاتا رہا ہے۔
جو بائڈن بطورِ سینیٹر ، کیری لوگر برمن ایکٹ لایا تھا ۔ اس بل کے تحت امریکی فوجی آپریشنز کےلیے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے میڈیا پروپیگنڈا کی خاطر امریکی فنڈ مختص کیا گیا۔ 2008 ��ے لیکر 2014 تک اسی ایکٹ کے تحت جیو نیوز کے تمام اخراجات امریکہ نے اٹھائے تھے اور اوپر کی رقم بھی انھیں ملتی رہی ۔
جو بائڈن امریکی اسٹبلشمنٹ کا شہباز شریف تھا جسے اس بل کے پاس کرنے پہ بطور انعام قائمقام صدرات کا عہدہ ملا تھا اور پھر تمام فوجی آپریشنز کی کھل کر حمایت کرنے کی وجہ سے امریکہ کا یہ شہباز شریف صدارت کے عہدے تک پہنچا جس کی امیج بلڈنگ اور فنڈنگ سب کچھ ہوتا رہا اور سی این این جیسا ادارہ امریکہ کا جیو نیوز بنا رہا۔
اب پاکستان سے جیو نیوز نے رچرڈ گرینل کے خلاف مہم شروع کی تو رچرڈ کو ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں ہی پتہ چل گیا کہ اس کے خصوصی ایلچی بننے پہ پاکستان میں کس کی پتلون گیلی ہو رہی ہے اور اس نے جیو نیوز کو مینشن کرتے ہوئے ٹویٹ کی
I'll say it again @geonews_urdu
Free Imran Khan
یعنی اب کی بار اس نے عہدہ ملنے کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے اور جوبائڈن کی کٹھ پتلیوں کی کانپیں ٹانگ گئی ہیں۔ تادمِ تحریر اس کی اس ٹویٹ کو ساڑھے تین ملین ویوز ملے ہیں۔
امریکی حکوم�� کے طاقتور ترین عہدوں میں سے ایک پہ موجود شخص سے براہ راست پنگا کمپنی کو اب کافی مہنگا پڑنے والا ہے۔ کمپنی کی حالت اتنی خراب ہے کہ اس نے بوکھلاہٹ میں اپنے ہی پاؤں پہ کلہاڑا دے ما را ہے۔
اس حوالے سے دلچسپ ترین تبصرہ @DropSiteNews کے ر��ورٹر @ryangrim کا لگا جو انھوں نے امریکی کانگریس مین کی ایک ٹویٹ پہ کیا ۔
کانگریس مین @RepJames نے لکھا :
کوئی بھی حکومت جو اپنے ہی معصوم شہریوں کو قتل کرتی ہے وہ ناجائز ہے اور نومبر میں پاکستانی افواج کے ہاتھوں ہونے والے قتل اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ کسی بھی حکومت کو تشدد کے ذریعے اپنے لوگوں کو خاموش نہیں کرنا چاہیے۔ میں انصاف اور آزادی کے مطالبے میں اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔
اس پہ @ryangrim کا دلچسپ تبصرہ ملاحظہ کیجیے
"Pakistan military’s position in Washington is collapsing faster than the Assad regime."
بالفاظ دیگر
ملٹری ، PPP اور ن
انا للہ و انا الیہ رجعون
تحریر محمد ناصر صدیق��
رجیم چینج آپریشن سے پاکستان کی معیشت کو 42 ارب ڈالر کا نقصان ہوا. عمران خان کی حکومت کو ہٹ�� کر کرپٹ ٹولے کو اس قوم پر مسلط کیا گیا جنہوں نے ترقی کرتے ملک کو ریورس گئیر لگا دیا اور عوام کی زندگی��ں میں مشکلات پیدا کی. قوم ملک کو .ناقابل تلافی نقصان پہنچانے اور عوام کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی.
@RichardGrenell@geonews_urdu Geo is beneficiary of karry logar Bill , and gange up against imran khan with curent govt in pakistan and military establishment who stole true mandate and election of 8th Feb 2024 in Pakistan . I appreciate your understanding of this region @RichardGrenell
#فوج_نے_گولی_کیوں_چلائی
ذرا اپنے ٹٹوں میں پانی پیدا کریں اور اسے ہیش ٹیگ بنائیں ۔ قیادت کو پیٹنے کی بجائے خود بھی تھوڑی ہمت پیدا کریں۔ اور قیادت کو بھی سینکڑوں لاشوں کے بعد یہ ہومیو پیتھیک سوال نہیں پوچھنا چاہئے کہ #گولی_کیوں_چلائی بلکہ ذمہ داران کو مخاطب کر کے یہ سوال پوچھیں۔۔
@tariqmateen@OfficialDGISPR یہ اپنے شوہر کی شہادت سے کیا یہ اپنے بیٹے کے گناہوں پر پردہ ڈالے گی ۔ یہ میرے حلقہ کا اے سی یے ۔ باردانہ کی مد میں کرپشن میں لتھڑے اے سی نے پانچ کروڑ بنائے ہیں۔ ۔ انصافی ہونے کے باوجود کہوں گا کہ لیگی ایم پی اے رانا منان حق بجانب ہے