مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن قیادت کی اسمبلی فلور سے تقریر بلیک آؤٹ کرنا ،عوام، پارلیمنٹ ، جمہوریت، اور آزادی اظہار رائے کی توہین ہے ۔
بجٹ پر کی گئی تقریر پر پابندی ہوگی تو اپوزیشن کس پلیٹ فارم پر اپنی بات کرے گی
اسمبلی میں تقریر پر پابندی ، انتخابات میں دھاندلی ،الیکشن کمپین کے وقت تھریٹ لیٹر ، آخر اس ملک کو کس طرف دھکیلا جا رہا ہے ؟
موجودہ حکومت جمہوریت کی آڑ میں مارشل لاء نافذ کئے ہوئے ہے۔
ہمیں دیوار سےلگانےکی کوشش کرنےوالے نوشتہ دیوار بھی پڑھ لیں؟
آئین ،پارلیمنٹ ،آزادی اور جمہوریت کو کیوں بے توقیر کیا جارہا ہے ؟
حکمران کیونکر اس لولی لنگڑی اندھی اور بہری جمہوریت کو دفن کرنے پر تلے ہوئے ہیں ؟
اگر انگریز کے ناجائز تسلط کو تسلیم نہیں کیا تو ان کے مہروں کا تسلط بھی کسی صورت تسلیم نہیں ۔
پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ لگانے والوں نے پارلیمنٹ کو مذاق بنا دیا ہے
معاملات اس حد تک نہ لے کر جائیں کہ کل کو حکمران منہ چھپاتے پھریں
کم ظرف حکمران مجبوری میں پاؤں پڑتے ہیں اور طاقت میں گریبان پکڑتے ہیں
ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والوں نے جمہوری روایات اور اقدار کو بھی دفن کردیا ہے
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
بجٹ پاکستانی عوام کیلئے نہیں آئی ایم ایف کی ہدایات پر بنایا گیا ہے
بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے
حکومتی بجٹ حکومت کی طرح ہائیبرڈ اور زمینی حقائق کے منافی ہے
بجٹ میں ایگریکلچر اور کسانوں کو خاطرخواہ ریلیف نہیں دیا گیا
بجٹ سے غریب غریب تر اور متوسط طبقہ غریب ہو جائے گا ۔
بجٹ میں ملکی معیشت پر کم جبکہ قرضوں پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے
مہنگائی کی شرح اور عوام کو دئے گئے ریلیف میں زمین آسمان کا فرق ہے
تعلیم ،صحت اور بنیادی اشیائے ضرورت کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے
تنخواہ دار طبقے کیلئے بھی مہنگائی کے مطابق ریلیف نہیں دیا گیا ہے
ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو گا
سیاسی استحکام اور امن وامان کے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
مولانا فضل الرحمان صاحب کو اللہ لبمی عمر عطاء فرمائے انہوں نے کل جو بات کہی وہ ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہے
ایک سینئر سیاستدان کی اس قدر مایوسی اداروں کی مکمل ناکامی ہے
آپ جتنا مرضی چاھیں مولانا صاحب کی تقریروں کو سنسر کرلیں ھم جمعیت کے ڈیجیٹل میڈیا کے کارکن انکی آواز ھیں اور انکی آواز دنیا تک پہنچتی رھے گی ان شاءاللہ
#ریاست_یا_سوتیلی_ماں
حکمران آئی ایم ایف کے ریکوری ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں
جعلی حکمرانوں نے مہنگائی کا 78 سالہ ریکارڈ توڑ دیا
آئی ایم ایف سے لے گئے قرضے حکمرانوں کی عیاشیوں اور عوام کے گلے کا پھندا بن گئے ہیں
امریکہ ایران جنگ کی آڑ میں اپنے ہی عوام کا خون نچوڑ لیا
حکمران سودا گر ہیں ،عوام کے خون پسینے کا سودا کرکے قرض لے رہے ہیں ۔
جے یو آئی اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے ۔پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں
قوم کو سڑکوں پر آنا ہو گا حکمران اپنی خرمستیوں میں مشغول ہیں
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
مفتی نظام الدین شیخ حسن جان سے لیکر اسلم شیخوپوری و شیخ ادریس تک میرے مظلومین کی فہرست طویل ہوتی جارہی
مگر پکڑا کوئی بھی نہیں جاتا اے اہل علم! اب تو اپنی خاموشی توڑ دو خود بولیں نہیں بول سکتے تو جو بول رہے ان کا ساتھ دیں
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا شیخ الحدیث ،سابق ایم پی اے ،رکن مرکزی مجلس شوری جے یو آئی مولانا ادریس کی شہادت کی مذمت و اظہار افسوس
شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سے دل رنجیدہ ہے ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا ادریس نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی قیمت چکائی ہے ۔مولانا فضل الرحمان
سفید ریش عالم دین کی شہادت قرآن وسنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے ۔مولانا فضل الرحمان
علماء پاکستان کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں،لیکن ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا شہید نے ہمیشہ امن کی بات کی ،افسوس کہ آج وہ خود بدامنی کا شکار ہوگئے ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا ادریس بلند پایہ عالم ،نکتہ داں واعظ اور مدبر سیاستدان تھے ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا شہید کی پوری زندگی دین کی اشاعت وخدمت میں گذری ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا شہید سے برسوں پر محیط اعتماد ، شفقت اور دوستی کا دیرینہ تعلق تھا ۔مولانا فضل الرحمان
سفاک ظالموں نے ہمیں مخلص دوست اور باوفاء رہنماء سے محروم کردیا ۔مولانا فضل الرحمان
مولانا دینی امور سمیت سیاسی معاملات میں صاحب الرائے اور دلیل کی بنیاد پر موقف رکھتے تھے ۔مولانا فضل الرحمان
دارالعلوم حقانیہ کے درودیوار اور ہزاروں طلباء سمیت جے یو آئی کا ہر کارکن غمزدہ ہے ۔مولانا فضل الرحمان
اللہ کریم مولانا کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کی خدمات کو ان کے لئے صدقہ جاریہ بنائے ۔مولانا فضل الرحمان
قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے ۔مولانا فضل الرحمان
لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے ۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
ایران سے پیٹرول 40 روپیہ میں پہنچ سکتا ہے، جس سے پورے پاکستان کو ریلیف ملےگا، لیکن ہم امریکہ کے خوف سے نہ ایران کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ان کا پیٹرول لے سکتے ہیں۔ عثمان بادینی
اس خبر کو جنگل میں اگ کی طرح پھیلائیں کہ امریکہ پاکستان کی میزائل بنانے والی فیکٹریوں پہ پابندی لگا چکا ہے اور پاکستان کی تین فیکٹریاں بند کرنے پہ مکمل پابندی لگا دی ہے یہ موجودہ رجیم پاکستان کے اندر پاکستان کے دفاع کی دشمن ہے
ڈی سی وہاڑی وقاص گوریایہ تو غصہ کر گئے ہیں ، اس لیے پاکستان کے عوام کو انکی اوقات دکھانے کیلیے آج دس سے زائد گاڑیوں کے اسکواڈ میں اپنی سلطنت کا چکر لگانے نکلے ہیں۔ یقینا انکا ڈیزل بھی گورایہ صاحب کے والد محترم کی جائیداد سے نہیں بلکہ میرے اور آپکے ٹیکس کے پیسوں سے ڈالا گیا ہو گا، حکومت سے گزارش ہے کہ پیٹرول سو روپے مزید مہنگا کردے تاکہ گورایہ جیسے بابو دس کے بجائے بیس ڈالوں کے پروٹوکول میں نکل سکیں۔
یہ بیوروکریسی اصل ناسور ہے جو قوم کی جڑوں میں بیٹھ گئی ہے۔
سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو تھریٹ لیٹر اور ترجمان جے یو آئی کا ردعمل
پارلیمانی اراکین کو تھریٹ الرٹ جاری کرکے بلوچستان حکومت نے امن وامان کے قیام میں ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
پورے بلوچستان میں صرف جےیوآئی اراکین کی جان کو خطرہ ہے۔
بلوچستان کے نااہل اور جعلی وزیر اعلی سے صوبے کو خطرہ ہے ۔
اس لیٹر نے 2024 کے جعلی انتخابات کے زخم کو تازہ کر دیا ہے۔
ایسے لیٹر حکومت کے منہ پر طمانچہ ہیں ۔
یہ لیٹر خضدار اور قلات کے ضمنی الیکشن سے جے یوآئی کو دور رکھنے کا بہانہ ہے
جعلی حکومت اور اسکا وزیر اعلی قوم کے سامنے عیاں ہو گیا ہے ۔
اس لیٹر کو قبل از انتخابات دھاندلی تصور کرتے ہیں
اراکین اسمبلی اور قومی قیادت محفوظ نہیں تو عوام کا کیا حال ہوگا
خضدار اور قلات ضمنی انتخاب میں بھی پرانے طریقے سے دھاندلی کا منصوبہ نظر آ رہا ہے ۔
ایسے حربوں کا مقابلہ کیا ہے اور کریں گے ۔
قیادت کا تحفظ کرنا جانتے ہیں ۔
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
اختیار ولی ٹی وی پروگرام میں کہہ چکے پیٹرولیم مصنوعات مارچ کے اختتام تک پہلے سے خریدی جا چکی مہنگی نہیں ہوں گی،
قوم سے دھوکہ اور ظلم ان کے بنیادی حقوق نا دینا پر زور مذمت کرتے ہیں،
روپے فی لیٹر مہنگا استغفراللہ ظلم ہے،
کل تک کہا جاتا تھا
“کپڑے بیچ دوں گا مگر عوام کو ریلیف دوں گا”
اور آج یہی حکمران اس انداز میں بات کر رہے ہیں کہ
“ہم نے تو صرف 55 روپے بڑھائے ہیں، 110 بھی بڑھا دیتے تو عوام کیا کر لیتی؟”
یہی فرق ہے دعوؤں اور حقیقت میں۔
مسئلہ صرف پیٹرول کی قیمت نہیں، مسئلہ وہ رویہ ہے جس میں عوام کی تکلیف کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اسے مذاق بنا دیا جائے۔
حکمرانی طاقت کا نہیں، ذمہ داری کا نام ہوتی ہے ۔
اور جب حکمران عوام کی تکلیف پر بے حس ہو جائیں تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے
چیف سیکرٹری بلوچستان صاحب اور سیکرٹری داخلہ بلوچستان صاحب۔۔۔۔
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل ، صوبائ امیر بلوچستان اور تین MPAs کو قلات اور بعد میں خضدار میں ضمنی الیکشن کمپین سے روکنے کے لیےتھریٹ الرٹ جاری کرنے کا تکلف کرنے کی بجائے صرف اسٹیبلشمنٹ سے کہہ دیں کہ اسلام آباد سے ڈائریکٹ اپنے بندوں کی جیت کا نوٹیفیکیشن جاری کردیں تاکہ مسئلہ ختم ھو۔
پورے بلوچستان میں صرف جمعیت کے ھی پانچ لوگوں کو خطرہ ھے بسسس🤔
آج دوپہر ڈی سی وہاڑی رمضان بازار میں آلو پیاز ٹماٹر کی قیمت چیک چیک کرنے 8 گاڑیوں کے اسکواڈ میں آیا۔ دو سیڈان ، دو فارچونر، دو ڈالے اور پیرا فورس کا اسکواڈ الگ دو ڈالوں پہ۔
اب اس پروٹول اور ڈالوں کا ڈیزل ڈی سی گورایہ کے والد صاحب کی جائیداد سے تو ادا نہیں کیا گیا ، میں نے اور آپ نے ہی ادا کرنا ہے۔ مزدور آدمی کے ٹیکس پہ پلنے والے گدھ ہیں یہ جنہیں ذرا برابر شرم حیاء نہیں، غریب آدمی مر گیا مہنگائی سے لییکن انکی عیاشی و پروٹول میں ذرا برابر فرق نہیں آیا۔ تاریخ کے بدترین کردار
اٹھائیس دن کا پیٹرولیم ذخیرہ موجود تھا جو پرانی قیمتوں پر خریدا گیا تھا اسی کو مہنگا کرنا افسوسناک ہے
ڈمی حکومت اپنی ہی عوام کو چونا لگا کر جیب بھر رہی ہے
پاکستانی عوام پر حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مہنگائی کا ڈرون حملہ کر دیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری
پاکستان کے غریب عوام پیٹرول کی اس شدید مہنگائی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ جن ممالک میں جنگ جاری ہے وہاں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اتنا زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ مولانا عبدالغفور حیدری
حکومت نے قبل از وقت پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر کے عوام کی کمر توڑ دی ہے اور پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری
اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا کوئی احساس نہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں یہ بے تحاشا اضافہ ناقابلِ قبول ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر نظرِ ثانی کرے، کیونکہ قیمتوں میں اس قدر اچانک اضافہ تو حالتِ جنگ میں بھی نہیں کیا جاتا۔ مولانا عبدالغفور حیدری
حکومتوں کو چاہیے کہ کوئی بھی معاشی فیصلہ کرتے وقت اپنی قوم کی غربت، معاشی حالات اور پسماندگی کو مدنظر رکھیں اور عوام پر اتنا ہی بوجھ ڈالیں جو وہ برداشت کر سکیں۔ مولانا عبدالغفور حیدری