“ہمارے تین مطالبات ہیں:
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی وا��سی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
24 نومبر کا احتجاج نہ مؤخر ہو گا نہ معطل ہو گا-
آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے احتجاج کی تیاریوں پر بریفنگ دی- میں اپنے پارٹی عہدیداران، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
ہم ملک کی خاطر ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں- جس دن احتجاج کی کال دی تھی اسی دن لیڈرشپ کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی- مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری لیڈرشپ کمیٹی ان سے ہمارے تین مطالبات کے مطابق مذاکرات کرے گی- اگر مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں تو اسے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے!!
ملک میں کئی دہائیوں بعد نظریاتی سیاست واپس آگئی ہے- 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کراکے نظریاتی سیاست کا جنازہ نکالا گیا تھا اور تب سے سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، غیر جماعتی بنیادوں پر سیاست ہوئی اور ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ملنے شروع ہوئے- 8 فروری کے بعد تحریک انصاف بطورِ نظریاتی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے- لوگوں نے پارٹی ٹکٹ اور نظریے کو ووٹ دیا ہے- الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہونا خوش آئند بات ہے- تحریک انصاف کے تمام لوگ پارٹی ٹکٹ پر جیتے ہیں کیونکہ یہ نظریے کی لڑائی تھی- میں خود بھی نظریے کی وجہ سے جیل میں ہوں-
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیان دیتیں تو وہ بھی عندلیب عباس کی طرح باہر آ جاتیں، شاہ محمود قریشی ایک بیان دیتے تو وہ بھی باہر آ سکتے تھے، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت ہمارے لیڈرز اور کارکنان بھی آسان راس��ے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نظریے کا سودا کرنے سے انکار کیا- اب ہماری جماعت انقلابی جماعت بن چکی ہے، انقلاب ہی ملک کو مسائل اور دلدل سے نکال سکتا ہے-
24 نومبر کو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائے گا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو، باہر نہ نکلا تو اسکی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی- یہ احتجاج ٹیسٹ ہے پارٹی اور پارٹی لیڈرز کیلئے- مطالبات کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا!“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
سب سے بڑی خبر: جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم لوگ بھی یہاں بیٹھ کر ڈرامہ ہی کر رہے ہیں، سب کو پتہ ہے کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، جہاں سے جیل حکام کو آرڈرز آ رہے ہیں وہاں سے آنا رک جائیگے تو یہ سب ختم ہو جائے گا، جیل حکام اور آر پی او پولیس سب کٹھ پتلیاں ہیں، ملک میں دو سو سینئر سول افسر غیرقانونی حکم ماننے سے انکار کر دیں تو نظام ٹھیک ہو جائے گا، دو سو افسر ایک ساتھ یہ کر لیں تو یہ سلسلہ رک جائے گا، ایک جگہ ل��ھا ہوا کاغذ ہے اور دوسری جگہ اسکے سر پر بندوق ہے، گھر والوں اور اسکے کیریئر کو خطرہ ہے، ہم کیوں یہاں بیٹھ کر دکھاوا کر رہے ہیں؟ جب تک دو تین سو ایک نظریے کیلئے قربانی نہیں دینگے یہ ایسے ہی رہے گا
کیا وہ اس لیے سزا کا حقدار ہے کہ وہ
زمینی ناخداوؤں کے سامنے ماتھا ٹیکنے سے منکر ہے
لا الہ الا اللہ کا درس دیتا ہے۔۔
کہتا ہے کہ حکمرانی تو صرف اللہ کی ہے،
اور اس کے بعد جمہور کی۔۔!
آج پتا چلا کہ عمران خان کی حکومت کو گندہ کرنے اور اپنی حکومت کی واہ واہ کرنے کے پیچھے 10 ارب روپے کے اشتہارات تھے۔ جعلی بیانئے کا سارا پول کھل گیا۔
#عوام_کی_بس_ہوگئی_ہے#دس_ارب_ڈوب_گئے
While the Indian media is proud of reaching the moon, it ignores hateful acts that bring India's reputation to the bottom, such as this rude teacher who insults a student in front of his colleagues in a way that is rejected by any religion, custom, morality & law.
@UNICEFIndia
محض مجھے نااہل کروانے اور جیل میں ڈالنے کی غرض سے کسی بھی معاملے میں ملوث کرنے (مجھے مورودِ الزام ٹھہرانے) کے خبط میں مبتلا مجرموں کے نالائق ٹولے نے ایک مرتبہ پھر اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی مار لی ہے۔
انہوں نے مجھے سائفر ��الے تماشے کو پورے اہتمام سے بےنقاب کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا ہے۔
کل میں کسی لگی لپٹی کے بغیر تمام تفصیلات قوم کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے 17 برس میں (پہلی مرتبہ) بہترین معاشی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ایک حکومت کا تختہ الٹنے اور ان مجرموں، جو ملک کو تباہی کے گھاٹ اتار چکے ہیں، کو اقتدار میں لانے کیلئے ایک سازش رچائی گئی۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ تفصیلات ٹیلی ویژن پر چلنے والے کسی بھی ڈرامے سے بڑھ کر دلچسپ اور سحر انگیز ہوں گی۔
ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر قائم کی جانے والی 4 مفاہمتی کمیٹیوں کیجانب سے بھجوائی جانے والی درخواستوں پر نظرِثانی کے عمل کا آغاز میں کل سےکروں گاجو 26 اپریل تک جاری رہے گا۔
عمران خان کے سیکیورٹی ہیڈ اور معروف بزنس مین افتخار رسول گھمن کو آج اغوا کر لیا گیا
چن چن کر عمران خان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے
کسی کو اغوا کیا جاتا کسی پر تشدد کیا جاتا کسی پر درجنوں کیسز کیے جاتے
لیکن اب تک ایک بندہ بھی نہیں ٹوٹا
نہ ٹوٹے گا انشاء اللہ
نیشنل جیوگرافک پر 100 ہرن کھڑے ہوتے ہیں، شیر آ کر ایک ہرن کھا کر چلا جاتا ہے، ��اقی 99 گھاس کھانا شروع کر دیتے ہیں جیسے کچھ نہیں ہوا۔ 10 دن قبل شبلی فراز ک�� ساتھ غیر انسانی سلوک کیا، گھر پر چھاپا مارا گیا۔ کیا اس ایوان میں اتنی ہمت ہے کہ IG اسلام آباد کو بلا کر کے جواب مانگ سکے؟-@AonAbbasPTI
اگر آپ کو پتا نہیں میمو گیٹ کیا تھا تو یہ تحریر ضرور پڑھیں۔
مئی 2011 میں آصف زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا۔ جس میں اوباما انتظامیہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد مانگی گئی۔ اور بدلے میں مندرجہ ذیل پیشکش کی گئی۔
۔۔
1۔ امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی اور اس کاروائی کے نتیجے میں پاک فوج کی تمام سینیر قیادت بشمول جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی فوری معطلی ۔۔۔
2�� امریکہ کی پسندیدہ ترین شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے گی۔
3۔ امریکہ فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت جس میں سول حکومت پوری طرح انکی مدد کرے گی۔
4۔ مذکورہ سول دفاعی ادارہ ایمن اظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کر دے گا۔
5۔ یہ نیا سول دفاعی ادارہ آئی ایس آئی کے " سیکشن ایس" کو بند کر دے گا جو افغان طالبان کی مدد اور سپورٹ کرتا ہے اس طرح افغان طالبان اور آئی ایس آئی میں موجود خفیہ اتحاد کو توڑ دیا جائیگا۔
6۔ ممبئی حملوں میں انڈیا کو مطلوب تمام پاکستانیوں کے خلاف فوری کاروائی اور انکی انڈیا حوالگی بشمول آئی ایس آئی کے حاضر سروس انٹیلی جنس افسران کے۔
7۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک مشترکہ فرم ورک کے قیام پر آمادگی دوسرے لفظون میٰں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکی نگرانی میں دینے اور ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کی پیشکش۔
۔
اس مراسلے کا انکشاف پاکستانی نژاد بزنسمین منصور اعجاز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا۔
اس نے دعوی کیا کہ زرداری حکومت نے پاک فوج کو لگام ڈالنے اور آئی ایس آئی کو ختم کرنے کے لیے امریکی مدد مانگی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاک فوج کو یقین ہوگیا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن آصف زرداری کی ایما پر امریکنز نے کیا۔ اس لیے فوج بغاوت پر آمادہ ہے۔
اس مراسلے کا خالق آصف زرداری کا مقرر کردہ سفیر حسین حقانی تھا جس نے یہ مراسلہ آصف زرداری کے حکم پر تیار کیا۔
19 اپریل 2012 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک پیٹیشن دائر کی گئی جس میں حیسن حقانی کو بذریعہ انٹر پول واپس پاکستان لانے کی درخواست کی گئی کیونکہ اس نے واپس آنے انکار کر دیا تھا ۔۔۔ حسین حقانی واپس آیا اور اس سے استعفی لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ مائکل مولن نے تصدیق کی کہ انہیں یہ مراسلہ ملا تھا۔
افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے خود معاملے کی تحقیقات کیں اور 12 جون کو اپنا فیصلہ سنایا ��ہ ۔۔ " مراسلہ حقیقت تھا اور اس کا خالق حسین حقانی تھا جو ملک کے مفادات سے غداری کا مرتکب ہوا۔ حقانی کو سفیر مقرر کرنا زرداری کی غلطی تھی۔"
اس وقت کی سپریم کورٹ نے دو کمالات دکھائے۔
پہلا یہ کہ مذکورہ فیصلہ سنانے سے 15 دن پہلے حسین حقانی کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی جس نے امریکہ پہنچتے ہی پاکستان کے خلاف دوبارہ زہر اگلنا شروع کر دیا۔
(اس وقت بھی وہ پاکستان کو ایف 16 طیارے دینے کا سب سے بڑا مخالف بنا ہوا ہے)
دوسرا یہ کہ جن شواہد کی بنیاد پر حیسن حقانی کو غداری کا مجرم قرار دیا گیا عین انہی شواہد پر آصف زرداری کا معاملہ گول کر کے اس کو صاف بچا لیا گیا۔
حسین حقانی کی وکالت عاصمہ جہانگیر نے کی۔ وہ مسلسل عدالت کے ججوں پر جانبداری کے الزامات لگاتی رہیں لیکن اس کے خلاف توہین عدالت کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی ۔ آصف زرداری نے عدالت میں جواب تک داخل نہیں کروایا، سپریم کورٹ پر سخت تنقید کی اور مراسلے کو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دیا۔
آج حسین حقانی کو بھی عمران خان کے خلاف نیشنل میڈیا پر اتار دیا گیا۔
خان صاحب آپ یہ جنگ جیت چکے ہیں۔
ال��ٌہ آپ کو مزید سرخرو کریں
مراد سعید ایک عام پاکستانی ہے جس نے محنت اور حب الوطنی سے پاکستانی سیاست میں مقام بنایا اور بدقسمتی سے یہی دو خوبیاں آج قاتلوں کو اسکی جان کے در پہ لے آئیں
ظلم تو یہ ہے حسین حقانی محب وطن اور مراد سعید قاتلوں کے نشانے پہ مگر یاد رہے قوم کی تین نسلیں آپ کے ارادوں کو بھانپ چکیں انشااللہ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بھائی مراد سعید کی حفاظت فرمائے گا
تمہیں حسین حقانی مبارک ہو کہ ایسے ہی غدار دراصل PDM کے محب ہیں کیونکہ کن�� جنس باہم جنس پرواز
تحت نواز شریف کو یقین دہانی کروائی گئی کہ PTIکو کچل دیاجائےگا۔چنانچہ اب قانون کی حکمرانی اور آئین کومکمل طور پر پیروں تلےروندتےہوئےہمارےقائدین سمیت میرےقریب ترین افراد کو دھمکانے،اغواء کرنے،اذیت وعقوبت کانشانہ بنانےاور ملک بھرمیں ان کیخلاف جھوٹےمقدمے قائم کرنےکا سلسلہ جاری ہے۔
جب علی امین کو تحویل میں لیاگیا تو ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈی پی او نےسیشنز جج سےکہا کہ وہ توہین عدالت کا مقدمہ تو گوارا کرلے گا مگر علی امین کو گرفتار کرکے ہی رہے گاکیونکہ احکامات”اوپرسے“آئےہیں۔آج میرے سیکورٹی انچارج افتخارگھمن کو اٹھالیاگیاہے۔یہ سب اس لندن پلان کاحصہ ہے جس کے