جو فراڈیا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی علماء کانفرنس میں سب سے پہلی سیٹ پر بیٹھا ہو، اندازہ لگا لیں وہ کن کا آدمی ہے اور یہ بھی کہ وہ کیسے کیسے فراڈیوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ اس قاتل اور جعلساز کے خلاف کارروائی ہوتی، اُلٹا ہم مقدمے بھگت رہے ہیں۔
Kindly be courteous to Policemen. They regularly perform 12 hours shifts along with extra special duties. They get no compensation/food/transport allowance.
NO DEDICATED HOSPITAL/HEALTH SERVICE.
Please be Polite to them!
اس نے بارہ گھنٹے رات کی ڈیوٹی کی اس کے پاس اپنی گاڑی اپنی موٹر سائیکل نہئں ہے اس نے ایک ٹرک والے سے لفٹ لی انسانی جسم جب تھک جاتا ہے تو اسکو نیند آتی ہے جیسے ٹرک والے کے پیچھے اسکا ہیلپر سو رہا ہے ویسے ہی یہ پولیس والا سو رہا ہے ایک کانسٹیبل کی جتنی سخت ڈیوٹی ہے شائید ہی کسی اور سرکاری اہلکار کی ہو عوام کے تحفظات اور نفرت اپنی جگہ ٹھیک ہے اور وہ کسی بھی صورت پولیس اہلکار پر تنقید کرنا چاہتے ہیں لیکن ایک سپاہی کی تنخواہ اور سہولت اسکی ڈیوٹی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں
نیسلے پانی کی 5 لیٹر بوتل 330 روپے کی ہوگئ یعنی 66 فی لیٹر۔۔ایک غریب رکشہ والا، موٹر سائیکل والا پیٹرول پر بھاری ٹیکس دیتا ہے یہ بتایا جائے کہ نیسلے والے زمین سے مفت پانی جس پر 10 روپے سے کم خرچہ آتا ہے کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟کیا نیسلے پر کلائیمیٹ لیوی لاگو ہوتی ہے؟
@FBRSpokesperson
یہ سکرپٹ پرانا ہو چکا۔ کوئی اسے بتائے کہ اسی جگہ ایک اور ڈرامے باز نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ عمران خان آئے گی، 4 اب ڈالر لائے گی، 2 ارب اِس کے منہ پہ مارے گی 2 ارب اُس کے منہ پہ مارے گی۔
ایک تو انہیں شرم آتی نہیں، دوسرے یہ شرم کھانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔
پنجاب اسمبلی میں TLP کے ممبر صوبائی اسمبلی نے 252 دن سے غائب حافظ سعد رضوی اور انکے بھائی کی بازیابی سے متعلق بات کی تو اسپیکر اسمبلی ملک احمد خان نے ڈانٹ پلادی اور کہا کہ آپ کی جماعت تو کلعدم ہے اور آپ اس فلور پر بات نہیں کرسکتے اور فوری انکے الفاظ حذف کرنے کا حکم دے دیا
یہ ویڈیو دیکھ کر سمجھ آئی کہ یہ لوگ آئے دن کیوں احتجاجی قافلہ لے کر لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ ورنہ کوئی حقیقی مسئلہ ہو تو صوبے کو وفاق سے ہوتا ہے۔ یہ اسلام آباد کی بجائے لاہور آتے ہیں جس کا واحد مقصد یہی ہو سکتا ہے جو ہم ویڈیو میں دیکھ رہے ہیں۔
واقعی “قیدی نمبر 420” سرکاری اخراجات میں اتنی کفایت شعاری کا قائل تھا۔۔۔کہ۔۔۔اپنی زوجہ ماجدہ کی یہ خواہش پورا کرنے کے لیے کہ اُس کی بیٹی کا نکاح حرمین شریفین میں منعقد ہو۔۔۔وزیراعظم پاکستان کےعمرے کا بہانہ کر کے زوجہ ماجدہ سمیت اُسکےسابقہ شوہر،اُس کی آل اولاد،اُس کی بیٹی کے سسرال،پورے خاندان اور کئی درجن افراد کا مجمع لے کر سرکاری خرچے پر مکہ اور مدینہ شریف پہنچ گئے تھے۔۔۔!!!!
واقعی “قیدی نمبر 420” سرکاری کفایت شعاری کا اتنا قائل علمبردار اور روادار تھا۔۔کہ۔۔بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس تک کے سات منٹ کے سفر کو ادا کرنے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کو نیازی اڈے کی عوامی کوچ بنا دیا۔۔اور تو اور۔۔صاحب بہادر وزیراعظم کے کُتےشیرو۔۔کہ جو۔۔سوشل میڈیا پر پچھلے چار سالوں سے “کُتا گیری” کرنے والے نک دا کوکا کی تحریک کےکتوروں کا منہ بولا ماموں لگتا ہے۔۔۔اُس کی بھی موج لگی ہوئی تھی۔وہ بھی ہر روز صبح دوپہر شام سرکاری ہیلی کاپٹر کے “چوٹے” لیا کرتا تھا۔۔کئی دفعہ وزیراعظم قیدی نمبر 420 بنی گالہ سے شیرو کو ساتھ لے جانا بھول جاتا تو ریاست پاکستان کا سرکاری ہیلی کاپٹر صرف یوتھیوں کے منہ بولے ماموں “شیرو” کو لینے بنی گالہ آتا تھا۔۔۔اور شیرو ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی ساتھ والی سیٹ پر آنکھوں پر کالی عینک لگا کر اورٹانگوں پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ کےوزیراعظم ہاؤس کی طرف رواں دواں ہوتا تھا۔۔۔۔۔!!!
اتنی کفایت شعاری کی مثالیں کافی ہیں کہ کچھ اور بتاؤُ۔۔۔۔اُلو کے پٹھے جبران الیاس نیٹ ورک کے کتورے۔۔۔۔۔۔!!!!
فیصل آباد کے ایس ایچ او کی شہریوں کے ہاتھوں جم کر دھلائی، ایس ایچ او چک جھمرہ آصف ندیم بٹ نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے گھروں پر چھاپہ مارا تو ضلع کونسل چوک میں احتجاج کرتے مظاہرین بھپھر گئے، باوردی ایس ایچ او پر تھپڑ برسا دیئے، سوٹوں سے تشدد کیا
اسلام آباد میں سی ڈی اے نے آپریشن کے دوران سینکڑوں گھر گرادیئے مگر جب اشرافیہ کے ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی باری آئی تو وزیراعظم شہباز شریف نے کمیٹی بنادی۔ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گذر جانے کے باوجود کچھ معلوم نہیں کہ اس کمیٹی نے کیا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ آچکا،مگر وزیراعظم کی سہولت کاری سے طاقتور ترین لوگ حکم امتناع حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے
خواجہ محمد آصف چھاگئے 👏
جناب اسپیکر 2 دن پہلے فوجی و سویلین قیادت نے 21 جنازے پڑھے ہیں، چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہورہے ہیں، جن کی شادیوں کو 4، 4 دن ہوتے ہیں، انہیں بھی بلالیا جاتا ہے کہ افغان سرحد پر جانا ہے. یہاں ہر MNA کو افسران آکر کہتے ہیں کہ ہمارا بلوچستان ٹرانسفر رکوائیں، سیالکوٹ کے افسر چاہتے ہیں اپنے شہر سے باہر ٹرانسفر نہ ہو، کوئی بلوچستان یا ملتان جانا نہیں چاہتا، لیکن فوج کے جوان سیاچن اور بلوچستان میں ٹرانسفر ہوتے ہیں، فوج کے جوانوں کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی،ل. ان شاء اللہ
@KhawajaMAsif
جیری فیڈکس اسلام آباد آفس میں بد انتظامی اور ایجنٹوں کی بھرمار۔ فوٹو کاپی کے لئے اوور چارجنگ۔ اے ٹی ایم مشین بھی بند کر رکھی ہے۔ پارکنگ فیس ایک سو روپے عائد کر رکھی ہے۔ پاسپورٹ ڈیلیوری کے لئے ٹی سی ایس کے نام پر فیس کیش کی صورت میں وصول کرتے ہیں۔ واپس مانگنے پر کہتے ہیں کہ ای میل ایڈریس ہم آپ کو دیتے ہیں ای میل کریں پھر پراسس ہوگا۔ پھر آپ کو آنا ہوگا پیسے لینے کے لئے۔
پیسے اسی وقت واپسی کی ڈیمانڈ کرو تو کہتے ہیں جاؤ جو کرنا ہے کر لو نہیں دیتے
اس پر فوری ایکشن ہونا چائیے۔ لوگ وہاں پر بہت ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔
اسلام آباد کے پوش علاقے ایف 10 میں خواتین پر طاقتور ملزمان نے ہتھیاروں کے ساتھ تشدد کیا۔ متاثرہ خواتین کے مطابق، تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او شفقت فیض ان کی میڈیکل رپورٹ ہونے کے باوجود مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
آئیں آپ کو سافٹویئر اپڈیٹ کا عملی مظاھرہ دکھائیں۔
دو روز قبل:
شیخ عمران جب بولتا ھے تو سانڈے کا انجیکشن ھوتا ھے۔
دو روز بعد:
میں جذبات میں بہہ گیا تھا۔
میں عام طور پر مانگنے والوں سے معذرت کرتا ہوں لیکن ، ریسٹورنٹ میں یا فوڈ پانڈا رائیڈرز کو یا کسی فری پارکنگ کے گارڈ کو ٹپ دیتے ہوئے کبھی کنجوسی نہیں کی۔ رب اتنے جوگا رکھے۔
وجہ یہ سمجھتا ہوں کہ کام کرتے ہوئے کو چار پیسے دینے میں ہرج نہیں۔ محنت تو کر رہا ہے ۔ بھکاری ہونا درست نہیں
ایک اسسٹنٹ کمشنر کو ویگو کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟
کون سے جنگلات یا صحراؤں میں ڈیوٹی دینے جا رہا ہوتا ہے جہاں سوزوکی آلٹو ، ہونڈا سٹی یا ٹویوٹا کورولا نہیں جا سکتی ؟
اسلام آباد میں اسٹامپ فروشوں کی لوٹ مار
آج مجھے بچے کے اسکول کی جانب سے ایک تیار شدہ انڈرٹیکنگ (بیانِ حلفی) کا متن ملا، جسے 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر پرنٹ کروا کر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ میں آبپارہ مارکیٹ کے ایک اسٹامپ فروش کے پاس گیا، جس نے 5 منٹ میں آن لائن اسٹامپ پیپر نکال کر پرنٹ دے دیا۔
میرا خیال تھا کہ 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر وہ زیادہ سے زیادہ 100 روپے سروس چارجز لے گا، لیکن جب میں نے بل پوچھا تو اس نے کہا کہ 1000 روپے بنتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا اور پوچھا، "1000 روپے؟" جواب ملا، "جی ہاں!" میں نے کہا کہ یہ تو کھلی ناانصافی ہے، مواد میں نے خود فراہم کیا ہے، آپ نے تو صرف پرنٹ نکالا ہے۔ خیر، بحث و تکرار کے بعد اس نے 100 روپے کم کر کے 900 روپے طلب کیے۔ جب میں نے پکی رسید مانگی تو اس نے کارڈ پر اضافی سروسز درج کر کے 1000 روپے کی رسید میرے حوالے کر دی۔ میں نے یہ رسید اس نیت سے اپنے پاس رکھ لی کہ اس معاملے کو کم از کم حکومت کے نوٹس میں لایا جائے۔
دو روز قبل، میرے سالے سے بھی صرف ایک صفحے کے بیانِ حلفی کی تیاری کے لیے 2500 روپے وصول کیے گئے تھے۔
ہم خوش تھے کہ حکومت نے اسٹامپ پیپر آن لائن کر دیے ہیں، جس سے سائلین کا فائدہ ہوگا اور فیس براہِ راست سرکاری خزانے میں منتقل ہوگی۔ مگر حکومت نے اسٹامپ فروشوں کو اس لوٹ مار سے روکنے کے لیے کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا اور نہ ہی اسٹامپ کی قیمت کے ساتھ سروس چارجز مقرر کیے ہیں۔
سرکار سے اپیل ہے کہ اسٹامپ پیپر کی فیس کے ساتھ اس کے مناسب سروس چارجز بھی مقرر کیے جائیں تاکہ اس کرپشن اور ناجائز منافع خوری کا قلع قمع ہو سکے۔
@ICT_Police@dcislamabad
پیٹرول مہنگا ہوا تو پچھلے دس ماہ میں 50 ہزار الیکٹرک گاڑیاں امپورٹ ہوئیں اب ان کو پریشانی شروع ہو گئی ہے کہ ہمیں ٹیکس کم ملے گا اب یہ الیکٹرک گاڑیوں پہ ٹیکس لگائیں گے یہ ٹیکس پنش سسٹم ہے ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے سہولتیں پیدا کرتی ہے یہ مشکلات پیدا کرتے ہیں ! ثناءاللہ خان