@MohUmair87 بھائی رحیم یار خان میں پہلے ہی 4 انٹر چینج ہے ایک ترنڈہ محمد مناہ میں ایک ظاہر پیر ایک اقبال آباد ایک بھونگ میں اب جمالدین والی کا بھی بن رہا ہے اس کے ساتھ اب 5 ہو جائے گے
میرا آج بھی یہی یقین ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف، اگر اتحاد، میرٹ، باہمی احترام اور اجتماعی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھے، تو ملک کے لیے بہت کچھ کر سکتی ہے۔
البتہ حقیقی اتحاد کی پہلی شرط نیتوں کے فتور کا خاتمہ ہے۔ جب دل صاف ہوں، فیصلے انصاف اور میرٹ پر ہوں، تبھی پائیدار یکجہتی ممکن ہوتی ہے۔
اگرچہ آج میں آپ کی صفوں سے بہت دور کھڑا ہوں، مگر میری دلی خواہش ہے کہ تحریکِ انصاف اپنی اصل پہچان، اپنی قوت اور اپنا وقار دوبارہ حاصل کرے. میری دعائیں آپ سب کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اتفاق، اخلاص اور کامیابی عطا فرمائے۔
تحریک انصاف کی کہانی! ہندوستان میں کرکٹ لے کر تو گورے آئے لیکن ہندوستان والوں کو اس کھیل سے ایسا عشق ہوا کہ اس خطے کے لوگ کرکٹ اور کرکٹ کھیلنے والوں سے عشق ہو گیا، یہ عشق آزادی کے بعد اور بھی بڑہ گیا کیونکہ بھارت اور پاکستان کی ٹیموں نے اس کھیل کے مہا گروؤں کو ہی شکست دینا شروع کر دی، جب بھارت اور پاکستان کے آپسی مقابلے ہوئے تو کرکٹ دونوں ملکوں کا جنون بن گیا! کرکٹ کے کھلاڑی اس ریجن کے Greek Gods بن گئے، اس پس منظر میں پاکستان کرکٹ کے افق پر عمران خان جیسا نابغہ روزگا آل راؤنڈر پیدا ہوا، وجیہہ عمران خان نے پاکستان کرکٹ کو وہ Chrisma عطا کیا جو کوئ اور نہ کر سکا، لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن عمران خان جب باؤلنگ کیلئے پچ کی طرف بڑھتے تو کرکٹ فینز کے دلوں کی دھڑکن گویا ٹھہر سی جاتی، عمران خان پاکستان کے گلیمر کا نشان بن گئے۔ زندگی خوبصورت تھی کہ اچانک عمران خان پر یہ قیامت نازل ہوئ کہ ان کی زندگی کی سب سے عزیر ھستی ان کی والدہ شوکت خانم کو کینسر ہو گیا ہے، کینسر کیا بلا ہے کیسے ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے علاج کیا ہے عمران خان کو کچھ پتہ نہیں تھا، وہ جب اپنی والدہ کے علاج کیلئے ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے چکر لگا رہےبتھے تو انھیں معلوم ہوا کہ پاکستان میں کینسرکا کوئ ہسپتال ہی نہیں، والدہ کو وہ لندن لے گئے لیکن کینسر نے ان کے جسم کے رفو پے میں سرائیت کر چکا تھا، والدہ کو دفنا تو دیا لیکن عمران خان کی زندگی کو گلیمر سے باہر ایک نیا مقصد مل گیا وہ تھا پاکستان میں کینسر ہسپتال بنانا، اس سفر میں عمران خان نے اپنی ساری جمع پونجی ہسپتال کو دی فنڈ ریزنگ کیں لیکن پیسے تھے کہ پورے ہی نہیں ہو رہے تھے! پھر کسی نے مشورہ دیا کہ عام پاکستانیوں سے فنڈ ریزنگ کی جائے، اس مشورے نے پہلی بار عمران خان کو عام لوگوں، غریب ترین لوگوں کے درد سے آشنا کیا، وہ مسجدوں میں گیے، اسکولوں میں گئے ، گاؤں محلے پھرے اور انھیں احساس ہوا کہ لوگوں کے دکھ کتنے بڑے ہیں اور بیماری کتنا بڑا عذاب ہے، قبائلی علاقوں سے اندرون سندہ کے ہاریوں اور بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک سفر کیا اور انھیں احساس ہوا اور دنیا میں اگر کوئ سب سے بڑا دکھ ہے تو وہ غریب خاندان میں بیماری ہے! تحریک انصاف کا قیام عمران خان کو اس دکھ سے آشنا ہونے کے بعد آیا، مغرب میں بیماری کا علاج ریاست کی ذمہ داری ہے تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ یہ وہ بنیادی خیال تھا جو تحریک انصاف کے قیام کی وجہ بنا۔ تیس سال میں تحریک انصاف پر کئ مدوجزر آئے لیکن صحت عمران خان اور تحریک انصاف کا بنیادی موضوع رہا ، حکومت میں آئے تو صحت کارڈ شروع کیا، کووڈ کا کامیاب دفاع کیایہ اس لئے ممکن ہوا کہ انھیں عام آدمی کی غربت اور بیماری کا احساس ہمیشہ رہا۔ آج لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والا عمران خان ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہا ہےاور بدترین حالا ت کاسامنا کر رہا ہے! اللہ انھیں اپنی پناہ میں رکھے۔ مشکلات ختم ہوں اور وہ غریب لوگوں کی دعؤں سے واپس سیاست کے سلطان بنیں ۔۔ (یہ آرٹیکل عمران خان سے ہونیوالی مختلف مواقع پر ہونے والی گفتگو سے اخذ کیا گیا)
#PTI30thAnniversary
تین سو سال سے امت ذلت دیکھ رہی تھی پھر اللہ نے ہمیں خوشی کی خبر سنائی بھی دکھائی بھی۔ ایک چھوٹے سے ملک کو دنیا کی سپر پاور سے ٹکرا کے ان کے ناک کو زمین کے ساتھ لگا دیا، ایران نے پوری امت کا قرضہ چکا دیا، ہماری پہچان نہ دیوبندی ہے نہ بریلوی ہے نہ شیعہ ہے نہ سنی، ہماری پہچان مسلم ہے۔ مولانا طارق جمیل
@Gulkhanultra@khokhr_pedia اور رہی بات بلاوہ کی تو اللہ حج یا عمرہ کیلئے ہر کس کو منتخب نہیں کرتا ہا مگر قبول کرنا یا نا کرنا وہ اللہ پر ہے حج پر تو ڈونلڈ ٹرمپ بھی جا سکتا ہے
@Gulkhanultra@khokhr_pedia خدا نے غریب پر بیت اللہ آنا فرض بھی نہیں کیا غریب پر ذکات بھی نہیں ہوتی صرف ایک فرض بچتا ہے وہ ہے نماز تو بتاؤ میرے غریب بھائیوں کتنی نماز پڑھتے ہو دن میں کتنا اچھا حسن اخلاق رکھتے ہو انسانوں کے ساتھ آپ لوگوں کے تو خدق سے ہی شکوے ختم نہیں ہوتے