🚨🚨 پولیس افیسر کا مریم صفدر کے خلاف بیان
ہم سے زبردستی مخالفین پر مقدمات درج کروائے جاتے
ہمیں زبردستی آرڈر دیے جاتے کہ لوگوں کی چادر چاردیواری کا جاکر تقدس پامال کرو
کل اس بحث کو کروڑوں لوگوں نے دیکھا
جاوید اختر: اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنی تکلیفیں کیوں
ہیں؟
مفتی شمائل ندوی: اگر مصائب خدا کی عدم موجودگی کا ثبوت ہیں تو انصاف کا مطالبہ کرنا فضول ہے۔ مصائب اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کے اندر صحیح اور غلط کا احساس موجود ہے، اور یہ خدا کی سب سے بڑی نشانی ہے۔
جاوید اختر: اگر زیادہ تر لوگ کسی چیز کو سچ مان لیتے ہیں تو کیا وہ سچ ہو جاتی ہے؟
مفتی شمائل ندوی: سچائی کا تعین اکثریت سے ہو تو تاریخ میں کبھی غلط نہیں ہوا۔
پھر غلامی، نسل پرستی اور جبر کو بھی درست سمجھا جائے گا کیونکہ انہیں ایک زمانے میں اکثریت کی حمایت حاصل تھی۔
جاوید اختر: اگر خدا کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے تو ہم اس پر کیوں یقین کریں؟
مفتی شمائل ندوی: ہر چیز جو موجود ہے اسے لیبارٹری میں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ عقل، محبت، ضمیر، انصاف، ان کا بھی کوئی ٹیسٹ ٹیوب ثبوت نہیں،
لیکن کوئی بھی ان سے انکار نہیں کرتا۔
جاوید اختر: مذہب انسانی تخلیق ہے، اس لیے اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے!
مفتی شمائل ندوی: سوال کرنا ضروری ہے،
لیکن پہلے، آئیے فیصلہ کریں:
انسان قانون بناتا ہے یا کائنات؟
اگر انسان ہی سب کچھ ہوتا
پھر موت، فطرت اور تقدیر پر اس کا اختیار کیوں نہیں؟
جاوید اختر: میں وہی مانتا ہوں جو عقل مانتی ہے۔
مفتی شمائل ندوی: عقل بہت قیمتی ہے،
لیکن عقل خود کہتی ہے کہ وہ سب کچھ نہیں سمجھ سکتی۔ عقل سب کچھ سمجھ جائے تو غرور علم کہلائے گا۔
جاوید اختر: مذہب لوگوں کو تقسیم کرتا ہے۔
مفتی شمیل ندوی: مذہب لوگوں کو تقسیم نہیں کرتا۔ لوگ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے مذہب کو تقسیم کرتے ہیں۔
چا-ق و کھانے اور انسان دونوں کو ک ا-ٹ ت ا ہے، اس لیے قصور چھ ر--ی کا نہیں بلکہ استعمال کرنے والے کا ہے۔
ان تمام سوالوں کے بعد مفتی شمیل ندوی کے جوابات جذباتی نعرے نہیں تھے بلکہ عقل، فطرت اور منطق کی تین جھلکیاں تھیں۔
کوئی اونچی آواز نہیں، کوئی طنز نہیں، بس پرسکون سوالات جنہوں نے ان کی تردید کرنے والوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔
یہ کوئی بحث نہیں تھی، یہ منطق کا پوسٹ مارٹم تھا۔
جہاں شور نہیں تھا لیکن الفاظ بھاری تھے۔
جہاں تالیاں نہیں بلکہ خاموشی گواہی دے رہی تھی۔
مفتی صاحب نے ثابت کر دیا۔
ایمان توہم پرستی نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے۔
جو دلیل کے ہر امتحان پر پورا اترتا ہے۔
اسے "جواب" کہنا ایک معمولی بات ہوگی۔
یہ سوچ کی ریڑھ کی ہڈی کو ہلا دینے والی وضاحت تھی۔
اس طرح کی وضاحت کا مقصد دلیل جیتنا نہیں ہے، بلکہ حقیقت کو پیش کرنا ہے۔
شور مچانے والے اور وضاحت کرنے والے میں یہی فرق ہے۔
اور آج وضاحت کرنے والے نے بغیر کسی ہنگامے کے سب کچھ کہہ دیا۔
منقول
ہندوستان کا پردھان منتری دیکھیں کیسے اپنے کزن نواز شریف کے بلانے کا آج مزاق اڑا رہا ہے کہ کیسے میں بنا ویزے کے گیا اور چیک کرکے آیا پاکستان کی سیکورٹی کو۔۔۔۔۔۔
@NawazSharifMNS
جنہیں کرکٹ کا کیڑا تنگ کرتا ہے وہ یہ ویڈیو دیکھ لیں ٹوٹلی پری پلانڈ ہوتا ہے سب،، سوائے وقت کے ضیاع کے اور کچھ بھی نہیں اس کھیل میں 👎https://t.co/aGHgzto4pN
ٹیکنالوجی کی جدت نے Jobs کو آسان بنادیا ہے
لوگ اب Remote Working کے زریعے Online Earning کررہے ہیں
میں 12 ایسی Websites بتارہا ہوں جن پر گھر سے کام کرکے 100 سے 3 ہزار ڈالر تک کماسکتے ہیں ۔👇