#LeaderImranKhanPTI
My words defines only My Thoughts...
Social Media Activist..
My Passion is to see Pakistan ON top of the world...
Pakistan Zindabad. ❤️
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رَّبِّ ارۡحَمۡہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیۡ صَغِیۡرًا
(ﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو:
"اے میرے رب! (میرے) ان دونوں (والدین ) پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔"
Kp Bar Council Rejected illegal Emergency and Government Rule .
We shall Appreciate role of KP Bar Council Unanimously they Condemned Emergency and Governor Rule .
Unanimously Announce strike on 19.10.2026 . Throughput Province
Unanimously Condemned illegal raid on houses of Lawyers.
Unanimously Resolved to Recovered Ameer Ijaz khan through All Means .
And They Condemned arrest Of CM Sahib and Speaker Sahib and also demand for their recovery.
Thanks TO All Worthy Bar Council Members For Standing With Constitution and Rule of Law
انسداد دہشتگردی عدالت پشاور سے 29 کارکنان کی ضمانت منظور کرلی گئی
انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے 50 کارکنان کی ضمانت منظور کی ہے
ترجمان انصاف لائرز فورم
معصومہ میر ایڈوکیٹ
ایسی کہانیوں پے حیرانگی ہوتی ہے یہ سب کیسے کر لیتے ہیں ۔۔
11 اکتوبر سے ایک ہفتے پہلے اور 11 اکتوبر سے اب تک حکومت وقت کے وزرا گورنر لیڈر شپ سب نے یک زبان ہو کر پوری دنیا کو بتایا ہے ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسز چلیں ہیں کہ خیبرپختونخواہ میں اتنی دہشتگردی ہے اتنی دہشتگردی ہے کہ منتخب حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے اس لئے ہمیں مجبوری میں ایمرجنسی و گورنر راج کا اختیار استعمال کرنا پڑا
اتنے تمغے خیبرپختونخواہ کے چہرے پر سجانے کے بعد آج گورنر کے پی دعوت دے رہے ہیں کہ غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار ، خیبرپختونخواہ میں سرمایہ کاری کریں
اب بندہ پوچھے پہلے تو سرمایہ کاری کی بات تب آئی جب یہ نظام آچکا پیلے تو بتایا گیا تھا دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہم آرہے ہیں
دوسری بات یہ کہ جب آپ نے خود یہ بیانیہ پھیلایا کہ کے پی دہشتگردی زدہ ہے تو اس صورت میں کیسے سرمایہ کار آئے گا ؟؟
تیسرا یا پھر چھ دنوں میں کیا دہشتگردی ختم ہو گئی ہے جو سرمایہ کار کو بلا رہے ہیں ؟؟؟
خواجہ آصف آپ نے بات چھیڑ دی، تو پھر لو جی کچھ ریکارڈ درست کردیں۔
یہ سوال بھی جناب احمد کنڈی صاحب نے جمع کیا تھا، جس کا جواب محمکہ معدنیات نے کمیٹی میں پیش کیا۔۔۔۔ FWO شمالی وزیرستان کاپر مائننگ!!!!
محترمہ آپکو ترقیاتی کاموں کا کیا علم- عوامی مینڈیٹ پہ شب خون مارنے والے غیر جمہوری چار دن کے جھوٹے اقتدار والوں کو ایسی باتیں زیب نہی دیتی- میرے حلقے میں تمام 28 نیبرہوڈ کونسلز میں ترقیاتی کام جاری تھے۔ جسے بند کر دیا گیا ہے۔ نا صرف میرے حلقے بلکہ پشاور اور پھر پورے خیبرپختونخواہ میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ میں نے کہا تھا جو کہ ریکارڈ پر ہے کہ 2026-27 میں پشاور کو عالمی شہروں کے برابر کھڑا کرینگے انشاءاللہ۔آپ غیر جمہوری عمل کا حصہ بن کر وہی ترقیاتی کام جن کی تختیاں آپ لوگ پچھلے پانچ دن سے اکھاڑ رہیں ہیں ۔۔تختیاں بدلنے سے عوام کے دلوں سے آپ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے ترقیاتی منصوبوں کو نہی نکال سکتے
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
#FreeKhalidKhurshid
All patriots are abducted/jailed, while the Daaku Duffer Alliance ruling Pakistan.
The power and fascism cannot last forever. One day, there will be rule of law in our country and these resilient heroes will be celebrated forever.
بغض پی ٹی آئی اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سہیل آفریدی نے پشاور شہر کے لئے ایک سال کے مختصر عرصے میں بطور وزیراعلی جتنے ترقیاتی منصوبے دیئے شائد ماضی میں پانچ سال پورے کرنے والے کسی وزیر اعلی نے دیئے ہوں!!
گورنر راج وہ ایمرجنسی کہ نفاذ کہ بعد
وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا اغوا
اسپیکر خیبرپختونخوا اغوا
صوبائی صدر جنید اکبر خان اغوا
وزراء خیبرپختونخوا اغواء
ایم این ایز وہ ایم پی ایز لاپتہ
عہدیدار اغواء وہ لاپتہ۔
خیبر باڑہ میں نہتے اور پر امن لوگوں پر فائرنگ درجنوں زخمی ایک شہید۔
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
میں ان چند صحافیوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے بی آر ٹی اور صحت کارڈ منصوبوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا مگر یہ حقیقت یہ ہے کہ دو واحد منصوبے ہیں جس غریب اور متوسط طبقے کو براہ راست فایدہ پہنچ رہا ہے، شفافیت ضروری ہے لیکن شفافیت کے نام پر غیر ضروری شور مچانے سے گریز کیا جائے
میں زندگی میں آج تک خالد خورشید صاحب سے کبھی نہیں ملا، نہ ہی کبھی ان سے میرا کوئی رابطہ رہا ہے۔ اس کے باوجود، میں آپ سب سے ایک بار پھر درخواست کرتا ہوں کہ ان کے لیے دعا کریں اور ان کے حق میں آواز اٹھائیں۔وہ بہت مشکل میں ہو سکتے ہیں ۔
شکریہ
اس نے جیل سے بیٹھ کر بھی بازی پلٹ دی۔۔😊
جیل میں تین سال سے قید لیکن اس کا فیض اپنے لوگوں کے لئے جاری ہے۔ جعلی نمونے اقتدار میں بیٹھ کر اپنے لئے اربوں کے جہاز، گاڑیاں ، اپنے ہرکاروں کی عیاشیوں کا سامان کرنے میں لگے ہیں۔!
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى