The martyrdom of Mir Atta Mengal is a great loss for Pakistan. He was a brave man whom no one could buy and he did not bow down to anyone, Although he is a symbol of leadership and heroism.Never forget your bravery you always be missed💔
#shaeed
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہ��
آج ہم سر أٹھانے کے قابل ہوۓ
ظلم سہتے رہے ہے بڑی دیر تھک
آج بدلہ چکانے کے قابل ہوۓ
ظلم سہتے رہے ہے بڑی دیر تھک
تم نے بخشے ہے جب سے ہمیں حوصلے
ہم جگر آزمانے کے قابل ہوۓ
اے شہیدوں تمہارا یہ احسان ہے
آج ہم سر اٹھانے کے قابل ہوۓ😭💔
#shaeedmirattaurrehma
Six years ago, they martyred my father and his companions to prevent a democratic path to peace. Today, I stand in the National Assembly of Pakistan, paying homage to him and the victims of terrorism. They say democracy is the best revenge. Bavaji, I have proven it for you. #13JulyBlackDay
شفیق الرحمن بہادری کا نام،شفیق الرحمن عزت و غیرت کا نام،شفیق الرحمن دلیری کا نام،شفیق الرحمن حق اور سچ کا نام،شفیق الرحمن انسانیت کا نام ♥️ اللّٰہ پاک ہمیشہ آپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے ��ور سرخ و روح کریں آمین یا رب العالمین. @Manzoorsalam32 @shafiqurrehm @gg_warna @azmeermengal
اقوام متحدہ اگر فلسطین میں اسرائیلی جارحیت، سفاکیت اور قبلہ اول کی آزادی کی جنگ لڑنے والے اہل غزہ کی نسل کشی نہیں روک سکتی تو انسانی حقوق سے متعلق ان تمام شقوں کو تعویز بناکر امریکہ کے گلے میں لٹکادے
حلقہ NA-264 کی عوام کابہت شکریہ جنہوں نےاپنےقیمتی ووٹ کاحقدار مجھےٹھہرا کرمجھ پر کم عمری میں ایک زمہ داری سےنوازا-انشاللہ حلقےکی عوام کی خدمت اور حلقےکےانفراسٹرکچر کوبہتر بنانےکیلئےعملی کام کرتانظر آؤں گا۔یہ جیت میں بلوچستان کی غیور عوام اوراپنےوالد شہیدسراج رئیسانی کےنام کرتاہوں۔ یہ جیت مجھ پر آپ کا قرض ہے جسے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ یہ قرض میں فرض سمجھ کر پورا کروں گا انشاللہ
بہت ہو گئی نفرت کی سیاست، اب ہمیں حقیقی سیاست کی طرف آنا ہو گا تاکہ ہم آنے والی نسل کیلئے ایک اچھا ماحول چھوڑ کر جائیں۔ میرے نزدیک تمام سیاسی جماعتوں کے کارکن ایسے ہی ہیں جیسے کہ پیپلزپارٹی کے کارکنان۔ میں نظریے پر اختلاف رکھنے کا قائل ہوں، زات سے نہیں۔ ہمیں پاکستان کا مستقبل بہتر بنانا ہے تو سیاست اور سوچ کو بہتر کرنا ہو گا
آج ایک بار پھر دہشتگردوں نے تاریخ دہرانے کی کوش�� کی۔ اور مجھ پر گرنیڈ حملہ کیا۔ الحمداللہ میں محفوظ رہا پر ہمارے کچھ ساتھی زخمی ہوئے۔ میرے والد کو بھی الیکشن کمپین میں شہید کیا گیا اور آج مجھ پر حملہ بھی اُسی کی ایک کڑی ہے۔ ہماری الیکشن مہم کو ثبوتاژ کرنے اور ہمارے مشن سے ہمیں ہٹانے کیلئے ایک بار پھر دہشتگرد عناصر سر اٹھانا شروع ہو چکے ہیں۔ ان حملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پارلیمان میں میرے آنے سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ میں واضع کردینا چاہتا ہوں کہ ہم ان اوچھے ہتھکنڈوں سے گھبرانے یا ڈرنے والے نہیں۔ ہم کسی صورت اپنی الیکشن مہم معطل نہیں کریں گے اور نا ہی اپنے نظریے سے پیچھے ہیں گے۔
پاکستان زندہ باد
بلوچستان پائندہ باد
میں انور براھمزئ کا ماں ہوآج وڈھ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی جلسے میں ایک ماں رورہا کہ اختر خود کو بلوچ ماں بہنوں کا وارث کہتا لیکن میں رات کے 11بھجے کے اس کے گھر کے گیٹ پر کہڑا رورہا تھا لیکن مجسے اختر نے ملاقات بھی نہی کیا
https://t.co/vh6Y2igUGs
شہداء کے ورثا کے احتجاج اور دھرنے کے لیے چارٹر آف ڈیمانڈز
مرحلہ 1: انصاف اور تحفظ
۱۔حملوں کے لیے ذمہ دار شناخت شدہ دہشت گرد تنظیموں/ افراد کے خلاف فوری کارروائی اور ایف آئی آر کا اندراج۔
۲۔ دہشت گردی کے متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے جامع سیکیورٹی انشورنس کا نفاذ۔
۳۔ فوجی عدالتوں میں تیز رفتار عدالتی کارروائیوں اور منصفانہ قانونی تحقیقات کے ذریعے فوری انصاف کی یقین دہانی۔
فیز 2: فلاح و بہبود اور مواقع
۴۔ شہداء کے خاندانوں کے لیے مختص فلاحی پروگراموں کا قیام�� بشمول قانونی اور مالی معاونت، اور مشاورتی خدمات۔
۵۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں میں ملازمتوں کے کوٹے کی ریزرویشن، پائیدار معاش کو یقینی بنانا۔
۶۔ متاثرین کے بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی کوٹہ، انہیں معیاری تعلیم اور وظائف تک رسائی فراہم کرنا۔
فیز 3: پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا اور تحفظ کو یقینی بنانا
۷۔ متاثرین، ان کے خاندانوں اور ریاست پاکستان کے خلاف قومی اور بین الاقوامی سطح پر پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات۔
۸۔ متاثرین کے خاندانوں کو سہولت کار یا ڈیتھ اسکواڈ کے طور پر لیبل لگانے اور نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے اقدامات پر عمل درآم��۔
۹۔ آن لائن پروپیگنڈے، نفرت انگیز تقریر، اور دہشت گردی کے متاثرین اور ریاست پاکستان سے متعلق غلط معلومات کے انسداد کے لیے قانون سازی کا نفاذ کرتے ہوئے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانا۔
Charter of Demands for the Protest and Sit-In of Families of Terrorism Victims
Phase 1: Justice and Security
1. Immediate action and registration of FIRs against identified terrorist organizations/individuals responsible for the attacks.
2. Implementation of comprehensive security insurance for the families of terrorism victims.
3. Assurance of swift justice through expedited judicial proceedings and fair legal investigations in military courts.
Phase 2: Welfare and Opportunities
4. Establishment of dedicated welfare programs for the families of martyrs, including legal and financial support, and counseling services.
5. Reservation of job quotas for the affected families in public and private sectors, ensuring sustainable livelihoods.
6. Special educational quotas for the children of victims, providing them with access to quality education and scholarships.
Phase 3: Countering Propaganda and Ensuring Protection
7. Vigorous efforts to counter propaganda against victims, their families, and the State of Pakistan, both nationally and internationally.
8. Implementation of measures to prevent the labeling and targeting of victims' families as facilitators or death squads.
9. Enactment of legislation to counter online propaganda, hate speech, and misinformation related to terrorism victims and the State of Pakistan, ensuring a safe digital environment.