خضدار میں ممتاز قبائلی رہنماء اور پاکستان پیپلزپارٹی کے ٹکٹ ہولڈر میر شفیق الرح��ان مینگل کی رہائش گاہ پر دہشت گردانہ حملہ انتہائی بزدلانہ اور قابلِ مذمت ہے۔ میر شفیق الرحمان مینگل نے جس بہادری اور ثابت قدمی سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ حکومت بلوچستان عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گی۔ امن دشمن عناصر اپنے مذموم عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔
باطل خاک ہو گیا ،حق ہمیشہ زندہ رہے گا۔🇵🇰✌️
رات کی تاریکی میں جو غلیظ جھنڈا تم ہماری سرزمین 🇵🇰 پر لہراتے تھے، لو اتار دیا۔
تمہارے بزدل دہشتگرد اب نظر کیوں نہیں آ رہے؟
#Balochistan
شفیق الرحمن بہادری کا نام،شفیق الرحمن عزت و غیرت کا نام،شفیق الرحمن دلیری کا نام،شفیق الرحمن حق اور سچ کا نام،شفیق الرحمن انسانیت کا نام ♥️ اللّٰہ پاک ہمیشہ آپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور سرخ و روح کریں آمین یا رب العالمین
شفیق الرحمن بہادری کا نام،شفیق الرحمن عزت و غیرت کا نام،شفیق الرحمن دلیری کا نام،شفیق الرحمن حق اور سچ کا نام،شفیق الرحمن انسانیت کا نام ♥️ اللّٰہ پاک ہمیشہ آپکو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور سرخ و روح کریں آمین یا رب العالمین. @Manzoorsalam32@shafiqurrehm@gg_warna @azmeermengal
میں شہزادہ احمد عمر احمد زئی صاحب کا مشکور ہوں جنہوں نے بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت کے فیصلے کو مانا اور میرے حق میں دستبردار ہو گئے۔ انشاللہ حلقے کی بہتری کیلئے میں سب ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا قائل ہوں۔ باہمی مشاورت سے حلقے کے بہتر مستقبل کیلئے پالیسی بنا کر اُس پر عمل کیا جائے گا۔میرا کسی سیاسی جماعت سے زاتی اختلاف نہیں۔ بلوچستان کی بہتری کیلئے تمام جماعتوں کو یکجا ہونا ہو گا۔
اسلام آباد میں دیے جانے والے ہمارے دھرنے کو کئی دن گزر چُکے ہیں، شہداء کے لواحقین اپنا درد لیے شہداء فورم کے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کا شدید سردی میں بیتابی سے انتظار کررہے ہیں۔ حکمرانوں کو شہداء کے لواحقین کی آواز کو سُننا ہو گا اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔
#BalochistanShuhadaProtest
ہمارے احتجاج میں موجود اس ماں کی کون داد رسی کرے گا، کون اس ماں کے زخموں پر مرہم رکھے گا۔ کون ان کے شہید بچے کے قاتلوں کو کٹہرے میں لائے گا۔ ہمارے احتجاج میں سینکڑوں ایسی داستانیں موجود ہیں جن کے پورے کے پورے گھر اُجڑ گئے۔ ان سب کیلئے انصاف کی جنگ جاری رہے گی۔
شہداء کے لواحقین میرے اپنے ہیں جنہیں میں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ دھرنے میں موجود اُس ماں کو انصاف کون دے گا جس کی سات لختِ جگر میرے والد کیساتھ ایک ہی دھماکے میں شہید ہوئے۔ اُس بچی کو کون انصاف دے گا جس کے والد کی لاش ُاس کے گھر بھیجی گئی، کئی بچوں کو یتیم کیا گیا۔ہمارا مطالبہ صرف شہدائے بلوچستان کیلئے انصاف ہے۔