میں سچا ہوں، میں سچ کیلئے کھڑا ہوں گا، میں سچ کیلئے جان دے دوں گا، مجھے کوئی نہیں سچ سے ہٹا سکتا، یہ ہے ہمارا ایمان❗اور یہ ایک چھوٹے سے انسان کو بڑا انسان بنا دیتا ہے، اس ایمان پے میں چلتا ہوں، اس لیے تو ان ساروں کیخلاف کھڑا ہوں۔ اپنا ایمان مضبوط کریں۔
#اصلی_نسلی_لاڈلا_چور
صحافی مطیع اللہ جان کی ایجنسیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کی مذمت کرتا ہوں،شہباز شریف/نامعلوم نے اسلام آباد کوصحافیوں کیلئے گوانٹاناموبے بنادیا ہے۔مطیع اللہ جان کا جرم صحافت ہے،حقائق عوام کے سامنے لانا ہے اورباالخصوص پاکستان تحریک انصاف @PTIofficial کے پرامن احتجاج پر بدترین حکومتی تشدد کی بے لاگ رپورٹنگ کرنا ہے،یہ شہباز حکومت کی اپنی نااہلی، جرائم کو چھپانے کی بھونڈی کوشش ہے۔
مطیع اللہ جان کو فوری بازیاب کیاجائے۔
سینیئر صحافی مطیع اللہ جان صاحب کو سانحہ D چوک کی تحقیقات کرنے پر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔ مطیع اللہ جان گزشتہ 2 دن سے لاشوں کی تلاش میں تحقیقات کر رہے تھے اور بہت سارے چبھتے سوالات اٹھا رہے تھے۔ 25 اور 26 نومبر کی درمیانی شب مطیع اللہ جان نے ہی ثابت کیا کہ رینجرز اور ایف سی اہلکاروں کی شہادتیں مظاہرین کے حملے سے نہیں بلکہ ایک حادثے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔
شاہد بھائی میری جان چلی گئی ہے لیکن اپ لوگوں نے خان کو رہا کرنا ہے میرے ہاتھوں میں شہید کارکن کا مجھے آخری پیغام
جن کارکنان نے مجھے بچانے کے لیے میرے حصے کی گولیاں کھائی اُن کا خون مجھ پر قرض ہے باقی اپ سب کی دعاؤں کا شکریہ میں بظاہر تو بچ گیا ہو زندہ ہوں لیکن بہت سے شہید کارکنان اپنا خون ہم پر قرض چھوڑ کر اس دنیا سے چلے گئے
تمام تفصیلی ٹوئیٹ بعد میں کرونگا
پاکستان زندہ آباد
عمران خان پائندہ آباد
طوفانی خبر....🔴🔴
خبریں ا رہی ہے کہ پختون قوم پورے پختون خواہ سے پختونوں کا جرگہ بلا رہے ہیں
ایک ایک لاش کا حساب لیا جائے گا پختون ہزار سال بعد بھی بدلہ نہیں چھوڑتا
ہمیشہ پارٹی ڈسپلن کا پابند رہا لیکن وہ تمام کرداراپ لوگوں کے سامنے لاونگا جنہوں نے کمزوری دیکھائی کون کیا بول رہا تھا ہوا کیا اور کیوں ہوا ہمیں کمزور قیادت نہیں چاہیے ہمیں دلیر قیادت جو بروقت اچھے فیصلے کرسکے پارٹی عمران خان اور ہماری ہے اس کو کمزور لوگوں کے ہاتھوں برباد نہیں کروا سکتے
میں کبھی کسی کو بد دعا نہیں دی لیکن آج کہتا ہوں خدا ان کو بھی ایسا وقت دکھائے جو آج نوجوانوں کی شہادت پر ہنس رہے ہیں
خدارا سیاسی اختلافات میں اتنا بھی نہ گر جائیں
وہ لمحہ جب ریاست نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کی نتیجے میں 100 سے زیادہ کارکن شہید ہوئے
لوگ قیادت سے کـلا شکوہ کر رہی ہے لیکن قیادت اس ظلم اور جبر کے سامنے کیا کریں؟
کیا روایتی میڈیا کا کچھ اعتبار بچاہے؟
اس طرح کی اخباری سرخیاں جنم لیتی ہیں جب
میڈیا اسٹیبلشمنٹ کا غلام بن جائے۔
طاقتورو کی چاکری شروع کرے
اور
جب اصول کے بجائے وصول اہم بن جائے۔
سیاسی جدوجہد اور سیاسی ورکرز کی یہ توہین میڈیا کو زنجیریں ڈالنے کا باعث بنے گی۔
پی ٹی آئی کے شہداء، شہداء جمہوریت ہیں، ان کے قربانیوں اور خون کو سلام۔
آج ماہ رنگ کا درد ہر پنجابی کو محسوس ہو گا
ماہ رنگ سیکورٹی اداروں سے التجاء کر رہی تھی کہ ہمارے لوگ جو تم نے شہید کئے ہیں اُن کی لاشیں تو واپس کر دو۰
لیکن وہ لاشیں غائب کر رہے تھے کیونکہ وہ شہدا کی تعداد کم دکھانا چاہتے تھے
اس “حکومت” نے پولنگ اسٹیشنز سے رزلٹ روکنے کا کام تو کیا ہی تھا، لیکن اب اسپتالوں سے زخمیوں اور مرنے والوں کی تعداد روک کر یہ لوگ نیا ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔۔۔
ایسا شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ہوا ہو۔
ایک معروف صحافی خاتون کا میسج سنا۔
روتے ہوئے بتا رہی تھی کہ انہوں نے گاڑیوں کے اندر سوئے ہوئے لوگوں کے سروں میں گولیاں ماریں جیسے ارشدشریف کے سر میں گولی ماری تھی۔
🚨اسلام آباد قتل عام کے عینی شاہد صدام خان ترین کا پیغام جاری
جس طرح کل بلڈنگز سے سڑکوں سے سیدھی فائرنگ کی گئ اس کے بعد جو شخص بچا ہے وہ اللہ کی مدد سے بچا ہے ورنہ یہ سب کو مارنے آئے تھے