پیدائشی مسلم لیگی ،فون نمبر 15199960845+۵ جنوری ۵۵فیصل آبادکے چک نمبر 164ر-ب مہیس میں پیدا ھوا، اور 1998 میں کینیڈا آ گیا ، 20سال پی او ایف واہ کینٹ میں جاب کی،
ڈی ایچ اے لاھور میں ہوئی اس ملاقات کا احوال کچھ یوں ہے کہ رانا سکندر حیات گفتگو سے زیادہ لنگر پانی پر متوجہ رہے جبکہ مورخ کو کیپوچینو کے دھیانے لگاکر لال “ بوٹی “ جانب ہو دیئے
اور یہاں مورخ لکھے گا کہ اتنا پڑھا لکھا “ رانا “ زندگی میں پہلی مرتبہ اتنے قریب سے دیکھا ہے اور جس کی اولین ترجیح پنجاب میں تعلیمی نظام کی بہتری ہے
رانا صاحب جیوندے ہسدے وسدے رہو
9 مئی کے جتھوں کو بلکل بھی اجازت نہیں الیکشن می. حصہ لینے کی
پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہی نہیں نا ہی الیکشن کمیشن نے انکو جی بی میں اجازت دی الیکشن کمپین کرنے کی یا الیکشن میں حصہ لینے کی
پھر انکا وجود ہی نہیں پھر شور شرابہ کیوں
رانا صاحب
نواں کٹا سُن لیں
بلیک میل ایکشن کمیٹی کو ضلع باغ کا ایک ٹھیکیدار عزیز مالی سپورٹ فراہم کرتا ھے جو پنجاب سے سبسڈی والا آٹا آزاد کشمیر جاتا ھے اس میں اربوں روپے کی کرپشن ھوتی ھے اور اس کرپشن میں ٹھیکیدار عزیز کا نام بار بار آ رہا ھے حکومت کو چاہیے اسکے خلاف تحقیقات کرے اسکے رشتے دار حکومتوں میں اور اعلیٰ عہدوں پر بھی بیٹھے ہیں آزاد کشمیر میں انتشار پھیلانے کے لئے بلیک میل ایکشن کمیٹی کو یہ ٹھیکیدار کھلا پیسہ فراہم کرتا ھے
یہ چاچا اپنے منہ سے بتا چکا ہے کے
اس نے اپنی 58 سالہ بیوی کا بے دردی سے قتل کیا ہے
اور یہ سارے وکیل کہہ رہے ہیں چاچا ہم تمہارا کیس لڑیں گے تمہیں آزاد کروائیں گے ۔۔
اب بتائیں لعنت کس پر بھیجنی ہے؟؟؟
پاکستان کا سب سے کرپٹ صوبہ خیبر پختونخواہ ہے۔۔لیکن اس کی کرپشن اس لیے سامنے نہیں آتی کہ وہاں میڈیا نہیں ہے۔۔
اگر میڈیا وہاں سے رپورٹ کرے تو کرپشن سامنے اےَ گی۔
12 ارب زکات فند کی کرپشن کا کیا بنا؟
30_40 ارب کوہستان کرپشن کا کیا بنا؟
30 ارب بلدیاتی فنڈ کا کیا بنا؟
4 ارب تیراہ فنڈ کا کیا بنا؟
2 ارب میڈیکل فنڈ کا کیا بنا؟
"ان میں ہمت نہیں کہ وہ اسے نسل کشی کہیں، وہ فلسطینیوں کو مرنے دے رہے ہیں... پولینڈ نسل کشی کرنے والوں کا ساتھ نہیں دے سکتا."
پولش وزیر خارجہ کی کتاب کی تقریب میں فلسطین حامی کارکن کا شدید احتجاج
نوجوان کہا کہ پولینڈ کا تیار کردہ بارود فلسطینیوں کے قتل عام میں استعمال ہو رہا ہے
کشمیر کے لیے پاکستان میں مقیم ہر قوم نے قربانی دی ہے پاک بھارت جنگ میں ہر بار درجنوں سینکڑوں جانیں گنوا چکے ہیں پاکستانی پختون بلوچ سندھی مہاجر پنجابی
اس کے باوجود کوئی پاکستانی خواہ وہ کسی بھی قوم سے ہو کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ یہ کنکترے پشاور سے کوئٹہ اور لاہور پنڈی سے کراچی تک جائیدادیں بنا کر مالک بن کر بیٹھے ہیں
پھر بھی حرام کے نطفے پاکستانیوں کو غیر ملکی کا درجہ دیتے ہیں پاکستانیوں کو باہر کے لوگ کہتے ہیں جس پاکستان کے پاسپورٹ پر اسائلم پر پوری دنیا گھومتے ہیں اس پر بھونکتے ہیں
پنجاب کے علاؤہ باقی صوبوں کے وزیر تعلیم کی کیا کارکردگی ہے؟
جا کر وہاں کے نوجوانوں سے پوچھیں،انکو نام تک پتہ نہیں ہوگا
پنجاب کی خاتون وزیر اعلیٰ کے بہترین وزیر تعلیم ہیں۔شاندار کارکردگی دیکھا رہے ہیں
اسی بغض میں روز نئے پراپگینڈے لے کر سوشل میڈیا پہ ویوز اور ڈالر کمانے آجاتے ہیں
آزاد کشمیر پولیس نے واضح پیغام دیا ہے کہ شاہراہیں بند کرنے، عوامی زندگی مفلوج کرنے، تشدد، دھمکی اور قانون شکنی کی ہرگز اجازت نہیں، ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور عوام سے افواہوں سے گریز کریں
ایک حقیقت
ہر سال دنیا یہ تو دیکھتی ہے اور حساب لگاتی ہے کہ سعودی عرب نے حج سے کتنے ارب ڈالر کمائے، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ دنیا کے اس سب سے بڑے مجمعے کو سنبھالنے کے لیے سعودی انتظامیہ کی کتنی عظیم محنت، راتوں کی نیندیں اور پسِ پردہ کتنے اربوں ڈالرز کا خرچہ ہوتا ہے؟
محض *5 دنوں* کے اس نظام کو چلانے کے لیے سال کے 365 دن دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس آپریشن کیسے کام کرتا ہے؟
آئیے، آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حج کے اس عظیم الشان انتظام کے پیچھے چھپے وہ حیران کن حقائق کیا ہیں جو آپ کو دنگ کر دیں گے:
👥 *حصہ اول: عازمینِ حج کا عالمی ہجوم اور پاکستان کا حصہ*
1۔ کل کتنے خوش نصیبوں نے حج کیا؟ 🕋
سعودی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس کے آفیشل ڈیٹا کے مطابق، اس سال (ہجری سال 1447 / عیسوی 2026) کل 1,707,301 (تقریباً 17 لاکھ) مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب ہوئی۔
بیرونِ ملک سے آنے والے حاجی: 1,546,655 (دنیا بھر کے مختلف خطوں سے پہنچے)۔
*سعودی عرب کے اندر سے:*
160,646 (جن میں مقامی سعودی شہری اور وہاں مقیم غیر ملکی شامل ہیں)۔
*صنفی تقسیم:*
اس سال اللہ کے گھر مہمان بننے والوں میں 893,396 مرد اور 813,905 خواتین شامل تھیں۔
2۔ *دنیا کے کتنے ممالک شریک ہوئے؟* 🌍
اس سال دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے لبیک الہم لبیک کی صدائیں گونجیں۔ رنگ، نسل اور زبان کا فرق مٹا کر پوری دنیا کے مسلمان ایک لباس (احرام) میں نظر آئے۔ سب سے زیادہ حاجیوں کا کوٹہ رکھنے والے ممالک میں انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور پاکستان سرِفہرست تھے۔
3۔ *پاکستان کا تاریخی کوٹہ اور عازمین کی تعداد* 🇵🇰
پاکستان کو اس سال کل 179,210 (ایک لاکھ نواسی ہزار دو سو دس) کا کوٹہ ملا تھا، اور پاکستان نے اپنا یہ پورا کوٹہ استعمال کیا۔
ان میں سے تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار عازمینِ حج سرکاری اسکیم کے تحت حجازِ مقدس پہنچے۔
باقی عازمین پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کے ذریعے گئے۔
حکومتِ پاکستان اور سعودی حکام کے تعاون سے پاکستانی حاجیوں کے لیے "روڈ ٹو مکہ" پروجیکٹ کے تحت اسلام آباد, لاہور اور کراچی ایئرپورٹس پر ہی سعودی امیگریشن کا عمل مکمل کیا گیا، جس سے حاجیوں کا قیمتی وقت بچا۔
🐑 *حصہ دوم:*
*لاکھوں ڈالرز کی قربانی اور گوشت کی تقسیم کا حیران کن عالمی نظام!*
قربانی کے ان 3 دنوں میں مکہ مکرمہ میں دنیا کا سب سے بڑا لاجسٹکس آپریشن ہوتا ہے، جس کا گوشت ضائع ہونے کے بجائے دنیا کے مستحقین تک پہنچتا ہے:
💵 *قربانی کی کل مالیت:*
اس سال عید کے ایام میں حاجیوں کی طرف سے تقریباً 11 سے 12 لاکھ جانوروں (زیادہ تر بھیڑ اور دنبے) کی قربانی دی گئی۔ سعودی حکومت کے آفیشل قربانی سسٹم (Adahi Project) کے تحت فی جانور قیمت تقریباً 150 امریکی ڈالر (سعودی ریال میں 550 ریال) مقرر تھی۔ اس حساب سے دنیا بھر کے حاجیوں نے صرف 84 گھنٹوں کے اندر 150,000,000 سے 165,000,000 ڈالرز (یعنی 15 سے 16 کروڑ ڈالرز—پاکستانی اربوں روپے) کے جانور ذبح کیے۔
🕌 *مکہ کے غریبوں کا حصہ:*
قربانی کے فوراً بعد گوشت کا ایک بڑا حصہ مکہ مکرمہ کی حدود (حرم پاک) میں رہنے والے فقراء، مساکین اور ضرورت مندوں میں اسی وقت تقسیم کر دیا جاتا ہے۔
🚚 *فلاحی تنظیموں کا نیٹ ورک:*
دوسرا حصہ سعودی عرب کی 250 سے زائد رجسٹرڈ فلاحی تنظیموں کے حوالے کیا جاتا ہے، جن کے پاس بڑے بڑے فریزر والے ٹرک ہوتے ہیں۔ وہ اسے ملک کے یتیم خانوں اور غریب خاندانوں تک پہنچاتی ہیں۔
🚢 *27 مسلم ممالک کو منجمد گوشت کی ترسیل:*
باقی بچ جانے والے لاکھوں ٹن گوشت کو مکہ کے جدید ترین ذبح خانوں کے پلانٹس میں فوراً صاف کر کے، مائنس درجہ حرارت پر منجمد (Freeze) کیا جاتا ہے اور ویکیوم پیکنگ کی جاتی ہے۔ یکم محرم سے اس گوشت کو بحری اور ہوائی جہازوں کے ذریعے دنیا کے 27 سے زائد مستحق مسلم ممالک میں بھیجا جاتا ہے۔
🕊️ *خصوصی امداد:*
یہ گوشت خصوصی طور پر ان علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں لوگ جنگ، قحط یا شدید غربت کا شکار ہیں، جیسے فلسطین (غزہ)، صومالیہ، مالی، نائجر، افغانستان، اور بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا مہاجرین کے کیمپ۔
❄️ *حصہ سوم:*
*دنیا کا سب سے بڑا کولنگ سسٹم اور بجلی کا اربوں کا خرچہ*
اس بار مکہ اور میدانِ عرفات میں درجہ حرارت 45°C سے 48°C تک پہنچ رہا تھا، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی حکومت نے دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا کولنگ نیٹ ورک چلایا:
🏗️ *مستقل اور لائف ٹائم انفراسٹرکچر*:
میدانِ عرفات اور مزدلفہ میں جو لاکھوں بڑے بڑے ہائی ٹیک پنکھے اور واٹر مسٹ (دھند اڑانے والا) سسٹم نظر آتا ہے، وہ عارضی نہیں ہے۔ عرفات کے میدان میں لوہے کے بہت بڑے بڑے مستقل پولز (Poles) بنائے گئے ہیں جن پر یہ سسٹم سال بھر فٹ رہتا ہے۔ حج کے بعد انہیں خاص حفاظتی کور (Covers) سے ڈھانپ دیا جاتا ہے اور انجینئرز سال کے بارہ
1/2
شرپسندوں، دہشتگردوں اور جھوٹ بولنے والوں کے تمام حربے ناکام ہو گئے!
اب جبکہ سازشی عناصر دن رات بھر جھوٹی افواہوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے امن کی فضا کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، حقیقت نے ان کے سارے منصوبوں کو خاکستر کر دیا ہے۔
📌چناری کے بازاروں اور شاہراہوں سے تازہ مناظر:
آج چناری کے ہر بازار میں رونق ہے۔ دکانیں کھلی ہوئی ہیں، لوگ خریداری کر رہے ہیں۔ شاہراہیں ٹریفک سے بھری ہوئی ہیں
یہ وہی چناری ہے جہاں کچھ عناصر نے خوف و دہشت کا ماحول بنانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔ مگر عوام کا عزم، حکام کی بیداری اور اللہ کی مدد سے امن کی یہ لہر پھر سے بحال ہو گئی ہے۔
@PMofAJK
فسادی ایکشن کمیٹی والے آزاد کشمیر کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں؟
اس ویڈیو میں محبوبہ مفتی خود آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کا موازنہ کرتے ہوئے زمینی حقائق بیان کر رہی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کہہ رہی ہیں کہ اس پار والے کشمیر یعنی آزاد کشمیر کے لوگ خوش ہیں، وہ آرام سے سوتے ہیں، ان کے پیچھے ایجنسیاں نہیں ہیں۔ وہ آزاد زندگی جی رہے ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ڈر اور خوف ہے۔
آزاد کشمیر میں بجلی 3 روپے فی یونٹ اور آٹا من 2 ہزار روپے کا ملتا ہے۔ سب سے بڑی چیز امن و سکون ہے۔ اب اس کو تباہ کرنے کے مشن پر نکلے ہیں
کالعدم JAAC کے مسلح عناصر کی جانب سے پولیس اہلکار یرغمال
پَلندری کے قریب ڈھل چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند اہلکاروں کو کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAAC) سے وابستہ مسلح عناصر نے یرغمال بنا لیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت قریبی آبادی کی موجودگی اور ممکنہ جانی نقصان کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی اہلکاروں نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی سے گریز کیا، تاکہ بے گناہ شہری کسی نقصان سے محفوظ رہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر پَلندری اور سول انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کی بحفاظت رہائی کے لیے متعلقہ عناصر کی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
باخبر حکام کا کہنا ہے کہ اگر کالعدم تنظیم یا اس کی قیادت نے یرغمال اہلکاروں کو نقصان پہنچانے، انہیں دباؤ کے لیے استعمال کرنے یا ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوئی کوشش کی تو وسیع پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنانا، مسلح غنڈہ گردی اور ریاستی اداروں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ صرف سنگین جرائم ہیں بلکہ یہ اس امر کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذکورہ تنظیم کی سرگرمیاں قانون اور ریاستی نظم و نسق کے خلاف جا رہی ہیں۔ اس واقعے نے خطے میں امن و امان کی صورتحال اور ریاستی رٹ کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔یہ ورژن خبر، پریس ریلیز یا سوشل میڈیا پوسٹ کے طور پر زیادہ مؤثر اور پیشہ ورانہ انداز رکھتا ہے۔