پاکستان خطے میں لڑائی کو روکنے کے لیے ہونے والی ثالثی میں کردار ادا کرے یہ اچھی بات ہے اور اس سے پاکستان کی عزت بڑھے گی۔ مگر یہ کردار کسی فوجی افسر کی جگہ سویلینز اور عوامی لیڈرز کو ادا کرنا چاہیے۔ ان مزاکرات میں شامل جنگ لڑنے والے یا مزاکرات کروانے والے کسی بھی ملک کا کوئی آرمی چیف اس بات چیت کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ کیونکہ وہ سب اپنا اپنا کام کرتے اور اپنی حدود میں رہتے ہیں اور اسی لیے کامیاب بھی ہیں۔
میر صاحب پاکستانیوں کو ہر بار خوشخبری سنائی گئی کہ تقدیر بدلنے والی ہے مگر ہر بار تقدیر عوام کی نہیں چند جرنیلوں اور سسٹم پر قابض مافیاز کی بدل گئی۔ ہماری تقدیر صرف فوج کو سیاست سے دور رکھ کر بدل سکتی ہے۔ یہی فوج، ملک اور قوم کے مفاد میں ہے۔