نون لیگ پر جو بھی بات کریں لیکن ان کا یہ ہے کہ جو کر رہے وہ کلئیر ہیں کھل کے کرتے ہیں اون بھی کرتے ہیں ان پر کھل کے تنقید بھی ہوتی ہے
پیپلز پارٹی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ حکومت کو کہتے ہیں ہر معاملے پر ان سے مشاورت کرکے چلیں اگر حکومت مشاورت نا کرے تو ناراض بھی ہو جاتے ہیں
لیکن جیسے ہی حکومت کے کسی فیصلے پر تنقید شروع ہوتی ہے پیپلز پارٹی یا سائیڈ پر بیٹھی ہوتی ہے یا کچھ کچھ اپوزیشن بن جاتی ہے
آج پاکستان کی بدقسمت سیاسی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا
اضافہ ھوا۔
پاکستان کی واحد منتخب حکومت کو ایک غیر منتخب وفاقی حکومت نے گورنر راج لگا کر تحلیل کر دیا۔
خیبر پختونخواہ کی حکومت جیسی بھی تھی مگر عوام کی ۲/۳ اکثریتی ووٹ سے وجود میں آئ تھی، اُس کو ھٹانے کا اختیار صرف اور صرف خیبر پختونخواہ کے عوام کے پاس تھا۔
یہ عمل جمہوری اقدار اور آئین کی روح کی مکمل نفی ہے اور پاکستان کی موجودہ معاشی، سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں ملک کے لیے مزید خطرات پیدا کرے گا۔
یہ قدم اس لیے بھی افسوسناک اور شرمناک ھے کہ جمہوریت کا یہ قتل ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ھاتھوں ھوا جو جمہوری روایات کی دعویدار رھی ھیں۔
سیاسی اور انتظامی مسائل کا حل آئینی، پارلیمانی اور جمہوری طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں ٹھوس وجوہات اور شواہد موجود تھے تو اُسے چاہیے تھا کہ وہ اپنا مؤقف پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرتی، پارلیمان میں تفصیلی بحث کرواتی اور عوامی تائید حاصل کرتی۔
اقتدار کے زعم میں عوام کی راے اور اُن کے بنیادی حق کی نفی کرنا پاکستان کے جمہوری نظام اور آئینی بالادستی کی تلخ تاریخ میں ایک اور بدنما داغ ثابت ھو گا۔
آج جمہوری اقدار اور حب الوطنی کا تقاضا ھے کہ اقتدار کی ھوس سے ھٹ کرملک کے مسائل حل کرنے اور ملک کو محاذ آرائی سے بچانے کے لیے سیاسی تدبر، آئینی بالادستی، پارلیمانی مشاورت اور قومی اتفاقِ رائے قائم کیا جاے-
آواز دروں —•—
لائبہ کی خودکُشی نے ھر ماں اور ھر باپ کا دل چھلنی کر ڈالا ھے
درخت پر جھُولتی گولڈ میڈلسٹ ھونہار مگر بے بس بیٹی لائبہ کی لاش در حقیقت معاشرے کے کمزور طبقات کی بے بسی اور مجرموں کو کڑی سزا سے بچانے والے ناکام اور بوسیدہ نظام ِ عدل کی لاش ھے -
یہ لٹکتی لاش دراصل ھماری اجتماعی بے حسی ، سنگدلی اور نا انصافی کی لاش ھے
مروجہ قوانین اور سزا کے پیچیدہ عمل کے باعث معصوم لائبہ کی موت کا ذمہ دار مجرم چند برس بعد پھر آزاد ھو گا ،
خُون ِ ناحق کا بدلہ خُون ھی ھو سکتا !!
ھر موڑ پر قوم کی بیٹی لائبہ لُٹ رھی ھے ، لیکن اس لوٹ مار کو روکنے والا کوئ نہیں
اقتدار و اختیار کے ارتکاز کی دھائیوں سے جاری جنگ و جدل سے فرصت اگر ملے تو کوئ ان بے بس فریادیوں کو انصاف دلانے کا نظام وضع کرے ۔۔۔۔!!
Shoaib Akthar’s 🇵🇰 very first over in the 2003 ODI World Cup in SA. What an over, just see how far the wicket keeper and the slip cordon stands.. What a speedster he was… A true Legend. #Cricket
اب ہر ریٹیلر بنے گا فائلر!
چھوٹے تاجروں کے مطالبات کے عین مطابق، ایف بی آر کی خصوصی ٹیکس اسکیم۔
ایک دکان، ایک صفحہ، ایک فیصد!
20 کروڑ روپے تک کی سالانہ سیل والے دکانداروں کے لیے:
• سالانہ سیل کا صرف 1 فیصد ٹیکس۔
• کم از کم قابلِ ادائیگی ٹیکس صرف 25,000 روپے۔
• اردو اور علاقائی زبانوں میں ایک صفحے کا سادہ اور آسان گوشوارہ فارم۔
• ایف بی آر کی ویب سائٹ، موبائل ایپ یا قریبی ٹیکس آفس کے ذریعے آسان فائلنگ۔
ویب سائٹ: https://t.co/tDrPxojVD1
ہیلپ لائن: 051 111 772 772
ای میل: [email protected]
#ایف_بی_آر #خصوصی_ٹیکس_اسکیم #چھوٹے_دکاندار
#FBR #RetailersSpecialTaxScheme #SmallShopkeepers #TaxFacilitation
@FBRSpokesperson آپ لوگ اسکو اور آسان بنائیں شادیوں پہ کتنا خرچ ہوا بلوں پہ کتنا ہوا اس پہ کتنا ہوا اب سارے سال کا کس کو یاد ہوتا ہے بس انکم اخراجات ٹوٹل اور ٹیکس ہو بس
واہ معاذ صدقے جاوں
اس بچہ نے پورے کریبین لیگ کا میلہ لوٹ لیا۔فائنل میں ایک اور سینچری داغ دی۔جہاں پوری ٹیم ریت کی دیوار ثابت ہوئی یہ تن تنہا چٹان کی طرح کھڑا رہا۔
2022 سےعوام سے قربانیاں مانگی جا رہی ہیں، مگر اسی دوران حکمرانوں، بیوروکریٹس، ججز اور ارکانِ اسمبلی کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ایک طرف مہنگائی، ٹیکس اور بجلی و گیس کے بھاری بل، دوسری طرف شاہانہ سہولتیں۔کیا کفایت شعاری صرف عوام کے لیے ہے؟دیکھیے
آئینی کورٹ نے وقت سے پہلےغیر ضروری مداخلت کرکے انصاف کے راہ میں رکاوٹ کھڑی کردی۔
آج سپریم کورٹ نے جس انداز میں اس کو پروسیڈ کر لیا ہے، دونوں کورٹس کی پروسیڈنگ سے ایسا لگا یہ ایک مقبول ترین لیڈر کی صحت کا مسئلہ نہ ہو، بلکہ یہ اسکول کے بچوں کا تھیسس ہو کہ کون سی عدالت کب کون سے اختیارات استعمال کرے گی۔
تین اور چار ہفتوں کے لیےکیس آپ ایک کورٹ سے دوسرے کورٹ میں فٹبال کی طرح ٹرانسفر کروگے تو آپ کی اپنی تسلی ضرور ہوگی کہ آئین کی انٹرپریٹیشن ہو رہی ہے، لیکن عوام کی انٹرپریٹیشن یہ ہے کہ انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو اس کا انجام ٹھیک نہیں ہوگی۔بیرسٹر گوہر کا سپریم کورٹ سماعت کے بعد ردعمل
نجانے پنجاب کے عام شہریوں کو پتا ہے کہ نہیں کہ انکی وزیر اعلی مریم نواز نے انکے پنجاب حکومت کے خزانے سے تقریباً گیارہ ارب روپے کا انتہائی پر تعیش گلف اسٹریم جہاز اپنے سرکاری اور نجی استعمال کے لئے خریدا اور گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ مریم نواز نے لندن میں اپنی صاحبزادی کی گریجیوشن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ اسی جہاز سفر کیا اس پس منظر میں اب ملک بھر میں پڑھے لکھے لوگ سوالات کی بوچھاڑ کرہے ہیں۔ یہ جہاز کس طریقۂ کار سے خریدا گیا؟ اصل قیمت کیا تھی؟ اگر یہ ایئر پنجاب کے لیے تھا تو پھر وی آئی پی استعمال کیوں ہوا؟ اگر مریم نواز نے نجی سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے تو کتنی رقم ادا کی، کس حساب سے، اور رسید کہاں ہے؟یہ معاملہ صرف ایک مہنگے جہاز کا نہیں، بلکہ سرکاری اختیار، عوامی پیسے اور احتساب کا ہے۔ اسی رقم سے پنجاب میں بنیادی صحت، ڈائلیسس، اسکول میل پروگرام اور دوسرے عوامی منصوبوں کو بڑے پیمانے پر وسعت دی جا سکتی تھی۔ مزید یہ کہ گلف اسٹریم کا سالانہ آپریٹنگ خرچ بھی کم از کم 80 کروڑ روپے میں جا سکتا ہے۔اس بڑی تحقیقاتی کہانی کی مکمل تفصیل، ثبوت اور جواب طلب سوالات کے لیے OMR کا یوٹیوب لنک کلک کریں اور پورا پروگرام ضرور دیکھیں۔ https://t.co/B8H8jmLIME
مائیکل ہولڈنگ 🚨
قتل کے مرتکب لوگوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا، جیسا عمران خان کے ساتھ کیا جا رہا ہے، میں عمران خان کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ کس قسم کے انسان ہیں
اتصلات نے پی ٹی سی ایل کی فروخت کے پاکستان حکومت کے 800 ملیں ڈالرز بیس سال بعد بھی ادا نہیں کیے۔
آئی ٹی کمیٹی اجلاس میں پوچھا گیا تو سیکرٹری ضرار ہاشم نے آئیں بائیں شائیں کی کہ تیاری کر کے اگلی دفعہ بتائوں گا۔ اب جب چھ سات فیڈرل سیکرٹریز بشمول ضرار ہاشم , احد چیمہ، یوفون/پی ٹی سی ایل بورڈ پر ممبر لگ کر ہر اجلاس کے پانچ سے دس ہزار ڈالرز فیس لے رہے ہیں۔
وہ بھلا کیونکر اتصلات سے 800 ملین ڈالرز مانگیں گے؟ ان بابوز کا منہ تو ڈالروں نے بند کر رکھا ہے۔
دوسری طرف ملک کے صدر کی پراپرٹی/جائیداد، سابق وزیراعظم کے بچوں کا بزنس اور وزیرخارجہ کے بچے بھی دوبئی میں کاروبار کرتے رہے ہوں تو کون واپس مانگے گا اور کیوں مانگے گا؟
اس ملک میں بابوز ہوں یا حکمران سب کا مفاد اس میں ہے آٹھ سو ملین ڈالرز بھول جائیں۔۔ کسی کا منہ ڈالروں سے بند ہے تو کسی کا اپنے بچوں اور جائیداد کی وجہ سے۔
حیران کن تفصیلات سنیں کہ سب گونگے کیوں بن گئے ہیں؟
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/XcjJstfz16 via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@CMShehbaz@Financegovpk@FBRSpokesperson@StateBank_Pak@MIshaqDar50@naveedqamarmna@PalwashaKhan18@JunaidAkbarMNA@Ali_MuhammadPTI@ShazaFK@KhawajaMAsif@Ufone@PTCLOfficial@eAndUAE