ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں!
تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی گفتگو
توقيع الاتفاق الدفاعي بين باكستان والسعودية وتركيا خطوة مهمة نحو تعزيز وحدة العالم الإسلامي
أكد مولانا فضل الرحمن أمير جمعية علماء الإسلام باكستان (JUI) أن الاتفاق الدفاعي بين باكستان والمملكة العربية السعودية والجمهورية التركية يمثل خطوة مهمة على طريق تعزيز وحدة العالم الإسلامي وترسيخ التعاون والتكامل بين الدول الإسلامية، مشيرا إلى أن إقامة قوة دفاعية إسلامية مشتركة كانت ولا تزال من التطلعات والأهداف التي تتطلع إليها الأمة الإسلامية.
وأعرب مولانا عن قناعته بأن باكستان والمملكة العربية السعودية تمتلكان مقومات وقدرات كبيرة تؤهلهما للاضطلاع بدور قيادي في العالم الإسلامي، مؤكدا ضرورة توسيع دائرة هذا التعاون الدفاعي، وإتاحة المجال أمام سائر الدول الإسلامية للانضمام إليه والمشاركة في منظومة أمنية ودفاعية مشتركة تخدم مصالح الأمة وتحمي أمنها واستقرارها.
وأضاف أن التعاون الدفاعي بين الدول الإسلامية ينسجم بصورة واضحة مع مبادئ ورؤية ومنهج جمعية علماء الإسلام، مؤكدا أن الاتفاق بين الدول الثلاث يمكن أن يشكل ركيزة قوية لتعزيز العلاقات الأخوية، وترسيخ مفهوم الأمن الجماعي، وتطوير التعاون الاستراتيجي بين الدول الإسلامية.
وأكد مولانا أن المملكة العربية السعودية تحتل مكانة رفيعة في قلوب المسلمين جميعاً، لما تحظى به من شرف رعاية وخدمة الحرمين الشريفين، وأن الشعب الباكستاني ينظر إلى الدفاع عن الحرمين الشريفين باعتباره شرفاً عظيماً وواجباً دينياً مقدساً.
وفي ختام بيانه، سأل الله تعالى أن يجعل هذا التعاون الدفاعي بين باكستان والمملكة العربية السعودية وتركيا خطوة مباركة في طريق وحدة الأمة الإسلامية، وأن يكون منطلقاً لعزتها ونهضتها واستعادة دورها الحضاري، كما تقدم بالتهنئة القلبية إلى قادة وشعوب الدول الثلاث، متمنيا أن يثمر هذا الاتفاق مزيداً من الأمن والاستقرار والتعاون لما فيه خير الأمة الإسلامية جمعاء.
انتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
الحمدللہ! آج ہمارے انتہائی محترم دوست اور بھائی، جناب مفتی عمر رازی دیدلی صاحب سے کافی عرصے بعد ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار، علمی اور فکری اعتبار سے بے حد مفید رہی۔ مختلف دینی، علمی، سماجی اور ملکی سیاسی امور پر سیر حاصل گفتگو ہوئی
#کردارکےبادشاہ_مولانا
اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟
تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟
اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔
اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔"
لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔
اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟
دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔
تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔
میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں:
سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ
اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔
لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے....
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
مولانافضل الرحمٰن گزشتہ 48 گھنٹوں کےدوران سب سےزیادہ سرچ کیےجانےوالی شخصیت بن کرسامنےآئےہیں،جس سےعوامی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنےمیں آیاہے۔ان کا نام آن لائن ٹرینڈز پر سرفہرست رہا،جو پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ان کےکردار کےحوالےسےعوام کےبڑھتےہوئے lتجسس کی عکاسی کرتاہے
JUI Chief Maulana Fazlur Rehman and Jamaat-e-Islami Ameer Hafiz Naeem ur Rehman addressed a joint press conference after their meeting.
They stressed the importance of dialogue, wisdom, and peaceful solutions regarding the current situation in Azad Kashmir, calling on all stakeholders to avoid violence and work together for stability and justice.
ملک کے اندر بدامنی ہے، روزگار کے لیے لوگ گھروں سے باہر نہیں جا سکتے، اور میں یہ بات کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا۔ میں مسلسل یہ بات کر رہا ہوں، ایک پاکستانی کی حیثیت سے اور ایک پارلیمنٹیرین کی حیثیت سے، کہ ملک کا امن و امان انتہائی حد تک خراب ہے۔
آپ لوگ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں، جناب اسپیکر، آپ کے ہاں ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے، اور ہمارے ہاں تو حکومتی رٹ ختم ہو چکی ہے۔ تھانوں پر قبضے ہو رہے ہیں، پولیس اسٹیشن تباہ کیے جا رہے ہیں، چھاؤنیوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ہماری فوج کے جوان، ایف سی کے جوان اور پولیس کے اہلکار آئے روز حملوں کا شکار ہو رہے ہیں اور شہید ہو رہے ہیں۔ دفاعی صلاحیت ہماری کمزور ہو رہی ہے۔
مناسب نہیں کہ ہم اس فورم پر یہ بات کہیں، لیکن میں یہ تجویز دے چکا ہوں کہ یہ مسئلہ اس حد تک گمبھیر ہے کہ ہمیں اِن کیمرہ اجلاس کرنا چاہیے اور پارلیمنٹ کے اراکین کو بتانا چاہیے کہ یہ صورتحال کیوں درپیش ہے۔ اصل حقائق سامنے لائے جائیں۔ افغانستان کی صورتحال، اس کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت اس وقت کیا ہے؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہے؟ ملک کے اندر دو چھوٹے صوبوں کی خصوصیات کے ساتھ ہم دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہم نے تو صرف ایک سوال کیا تھا کہ ہمیں صرف اتنا بتایا جائے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے، بس۔ لیکن آج تک یہ نہیں بتایا جا رہا کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا پارلیمنٹ میں خطاب
#MaulanaInParliament