میں نے یہ ضرور کہا ہے اور اب بھی میں اپنے موقف پر قائم ہوں کہ اگر آپ لشکر بنائیں گے، ایک تو یہ ہے کہ لوگ خود لشکر بنا لیں۔ اب جب ایک گاؤں ہے یا ایک علاقہ ہے جہاں فوج بھی نہیں جا رہی، ان کو تحفظ نہیں دے رہی، پولیس بھی نہیں جا رہی، ان کو تحفظ نہیں دے رہی، اور ان کے اوپر یہ مسلح گروہ جو ہیں، وہ آ کر دھاوا بول دیتے ہیں یا ان علاقوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، تو لوگ اگر اپنے طور پر کوئی مزاحمت کرتے ہیں، وہ تو ان کی مجبوری ہو سکتی ہے۔
لیکن جب حکومت کی طرف سے لوگوں کو ترغیب دی جاتی ہے تو یہ اصول ہمارے نزدیک ٹھیک نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا ہے، حضرت، بنگلہ دیش میں 1971 میں جب ایک طرف مکتی باہنی بنی تھی عوامی لیگ کی نگرانی میں اور دوسری طرف البدر اور الشمس کی تنظیمیں بنی تھیں۔ پاکستانی فوج شکستہ پرشکستہ ہو گئی، تو بنگلہ دیش تو بن گیا۔ اب فوجیں تو آ گئیں، انڈیا کی بھی چلی گئیں اور پاکستان کی بھی واپس آ گئیں، لیکن حسینہ واجد کی آخری حکومت تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو اور البدر اور الشمس کے لوگوں کو پھانسی ملتی رہی جی۔ وہ دشمنیاں ختم نہیں ہوتیں جی۔
تو یہ تو قبائل�� لوگ ہیں حضرات، مقامی لوگ ہیں، وہ لوگ بھی مقامی ہیں، یہاں بھی لشکر کے لوگ مقامی ہیں۔ وہ جب ایک دوسرے کو قتل کر دیتے ہیں تو وہ تو بدلے، پھر پتا نہیں نسلوں کے بعد بھی لیے جاتے ہیں۔ تو اس مشکل سے لوگوں کو کیوں دوچار کیا جا رہا ہے؟
اور حکومت کہاں ہے؟ ہمارے جو لا انفورسمنٹ کے جو ادارے ہیں، وہ کدھر ہیں اور وہ کیوں ناکام ہو رہے ہیں؟ اور کیوں لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ، اور تم لشکر بناؤ، اور تم لشکر بناؤ؟
اس کا معنی ہے کہ وہ اپنی بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں ۔
تو یہ چیزیں ہمارے مدِنظر ہیں۔ ہم سنجیدہ سوالات کر رہے ہیں، ہمارے سنجیدہ سوالات کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید نہیں ہے، یہ ملک ہمارا ہے، ہم پارلیمان کے لوگ ہیں، ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم ملک کے نظام کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے اس کے حلف اٹھائے ہوئے ہیں اور ہم اپنے حلف پر قائم ہیں۔
یہ تو وہ جواب دیں کہ جنہوں نے حلف اٹھایا ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لیں گے اور پوری سیاست ان کے کنٹرول میں ہے، تو انہوں نے اپنا محاسبہ کرنا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو
فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑنے والے سڑکوں پر، میڈیا پر، ہر جگہ نظر آئیں گے۔ لبرل مافیا، این جی اوز، موم بتی مافیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں غائب ہوں گی، اکثریت ملک چھوڑنے کی تیاری میں ہوگی۔ ہمارا خمیر اسی مٹی سے ہے، جنازے بھی یہیں اٹھیں گے
میری گفتگو کو سیاسی بات مت سمجھیں،
اگر میں ملکی مفاد میں آپکے(حکومت) کیساتھ کھڑا ہوں تو آپکو بھی میرےساتھ کھڑا ہوناہوگا،
تعاون دوطرفہ معاونت کانام ہےہم آپکےساتھ دشمن کیخلاف لڑنےکا اعلان کرچکےہیں۔
لیکن پتا نہیں آپ کب مدارس کواپنا پاکستانی سمجھیں گے۔
مولانا کا قومی اسمبلی سے خطاب
فلسطینیوں کی نسل کشی میں بنیادی کردار ادا کرنے والی کمپنی مرسک کے خلاف یورپ میں مظاہرے ہورہے ہیں اور ہماری حکومت انویسٹمنٹ کے نام پر بندرگاہوں جیسے قیمتی ملکی اثاثے انہیں تھما رہے ہیں ؟ اسے غفلت کہیں یا سازش ؟
#BoycottMaerskinPakistan
تمغہ امتیاز والے جتنے صحافیوں کو میں جانتا ہو، ان سب کے اکاونٹ کا چکر لگایا، آج والی اسرائیل مخالف قومی کانفرنس بارے ان کی ٹائم. لائن. پر ایسے خاموشی ہے، جیسے کہ وہ بےایمانی کا تمغہ لئے ہوئے ہو..
یا یہ کانفرنس پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مخالف تھا🤔
#StandUpForGaza
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی بار ایسوسی ایشن نے اپنے احاطے میں پیپسی کولا کے استعمال پر باضابطہ پابندی لگا دی ۔
کراچی بار نے کہا ہے کہ غزہ ہے مظلوموں کا ساتھ دینے کیلیے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ ضروری ہے
ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کی بی این پی(مینگل ) کے سربراہ سردار اختر مینگل کے لانگ مارچ پر خودکش حملے کی مذمت
سردار اختر مینگل اور انکے کارکنوں پر خودک�� حملہ افسوسناک ہے، اسلم غوری
آئین پاکستان پر امن احتجاج کی اجازت دیتا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
پر امن احتجاج کی سیکورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اسلم غوری
آئینی طریقے سے حقوق کی بات کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا چاہیے ۔ترجمان جےیوآئی
جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو دیوار سےنہ لگایا جائے ۔اسلم غوری
پارلیمنٹ میں اگر بات نہیں سنی جائیگی تو سڑکوں پر آنا پڑتا ہے ۔ترجمان جے یو آئی
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان
مردان کاٹلنگ میں شہریوں پر ڈرون حملہ قابل مذمت ہے ۔ترجمان جے یو آئی
واقعہ کی تحقیات کی جائیں کہ حملہ کس نے اور کیوں کیا؟ ۔اسلم غوری
اگر تو ریاست کی ��رف سے آپریشن کیا گیا ہے تو پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا ؟ ترجمان جے یو آئی
اگر کسی بیرونی قوت نے حملہ کیا ہے تو یہ ہماری سیکورٹی پر سوالیہ نشان ہے؟ اسلم غوری
حکمرانوں نے پاکستان کی خودمختاری بیرونی قوتوں کے پاس گروی رکھ دی ہے ۔ترجمان جے یو آئی
عوام کبھی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں اور کبھی حکمرانوں کے ہاتھوں۔اسلم غوری
لگتا ہے حکمران پورے ملک کو خون آلود کرنا چاہتے ہیں ۔اسلم غوری
میڈیا سیل جے یو آئی پاکستان