ساون
کانوں میں نصرت گونج رہا ہے۔ تیری دو ٹکے آں دی نوکری اے میرا لکھاں دا ساون جاندا ای آجا اکھیاں اڈیکدیاں دل واجاں ماردا۔ ہمارا کروڑوں کا نقصان تو صرف ساون کا ہوا۔ جو چیتر کی شاموں کا نقصان ہوا وہ تو کبھی گنا ہی نہیں۔ گہری دھند میں پیپے میں لکڑیاں ڈال کر سینکنے کو چھوڑ کر جو اربوں ڈبو دیے وہ؟ کتنے موسم چھوڑے۔ شیرازی سے منسوب قصہ ہے کہ کس�� منگول بادشاہ نے دربار طلب کیا اور کہا جن شہروں کو فتح کرنے کے لیے میں نے ہزاروں میل سفر کیا ، گھوڑے دوڑائے ، کھوپڑیوں کے مینار لگائے وہ تم نے محبوب کے تل پر نچھاور کردیے؟ کیا تم نے کہا بہ خال ھندویش بخشم سمر قند و بخارا را اور پھر اپنا حلیہ دیکھو ، سالے فقرے ، اخے سمر قند اور بخارا نچھاور کردوں ۔ شیرازی نے کہا مخے بس ایسی ہی عیاشیوں کے سبب یہ حالت ہے۔ پُرے دی ہواچلے دل میرا ڈولدا کنبھ کنبھ جاواں جدوں کاں کتھے بولدا۔
ہم نے اپنا سارا سرمایہ بس ایسے ہی برباد کردیا ہے۔ مدتوں سے نہ ساون دیکھے نا جھڑی لگدی ویکھی۔ پُرے دی ہوا چلدی نہیں ویکھی۔ لہندیوں چڑھدی گھٹا نہیں ویکھی۔ دوپہر میں سیاہ کالے بادل اندھیرا کرتے نہیں دیکھے۔ پھر ڈیگر سے زرا پہلے دور افق پر نیلی گھٹاؤں کا کینوس اور انکے سامنے دھوئیں جیسی کھیلتی سفید بدلیاں۔ ہائے ہائے میرا تو پورا اکاونٹ فلش ہوگیا۔ سب ڈوب گیا میاں سب برباد ہوگیا۔ میرا لکھاں دا ساون جاندا ای آجا اکھیاں اڈیکدیاں۔
ریل شروع ہوتی ہے یونہی ناسٹیلجیا کے فلٹرز کیساتھ چھلا مڑ کے نی آیا چھلا مڑ کے نی آیا چھلا مڑ کے نی آیا چھلا مڑ کے کداں آجُو ؟ آونڑ سوکھا؟ ۔ ٹر گئے یار محبتاں والے۔ وے عالما اساں پردیسیاں اک دن ٹر جانا کنڈا مار کے اہناں حویلیاں دا۔ سجناں باہج محمد بخشا سنجی پئی اے حویلی اور پھر جناں باہج پل نی سے لنگھدے اوہ شکلاں یاد نا رئیاں۔ چھلا مڑ کے نی آیا چھلا مڑ کے نی آیا۔ یہاں ظہور لوہار کا ہلکا سا گلہ تو درد کا گھر ہی پورا نہیں کرسکتا۔ وطناں تے ولو آ دل بئوں اداس اے۔ دل اداس اے ؟ دل ختم شد اے۔
ایک طرف نہری پانی والی زمین ہے۔ وہاں تاحد نگاہ پانی اور ایک ایک ایکڑ کا برابر کھیت ، ان میں کھڑا پانی اور تشریفیں ہوا م��ں بلند کیے تیلا تیلا ٹانگتے پانی میں دھنسے ہوئے جوان ۔ جو خود سے مشقت کرتے ہیں انکی مونجی اب تک بوٹا مار جاتی ہے۔ جو لیبر ڈھونڈتے رہتے ہیں ان کا پانی ہی پورا نہیں ہوتا۔لگی جھڑی میں غریب کی چھت ٹپکتی ہے تو اس کا دل دہلتا ہے۔ زمیندار مونجی کی طرف دیکھتا ہے تو زمین کے کنارے کنارے ٹہلتا ہے۔ دوسری طرف میرا زمین جہاں مونجی نہیں ہوتی۔ ڈیلا ، سامک ، ڈھب ، بروں ، کھبل گوڈے گوڈے اور لک لک۔ اگرچہ گٹے سے اوپر کم ہی جاتا دیکھا لیکن شاعری بھی کوئی چیز ہوتی ہے میاں۔ پھر وہاں چرتے جانور۔
کہو کی لکڑی کا لمبا سا دستہ اور اسکے آگے چھوٹا سا پھل کلہاڑی کا ہاتھ میں ۔ آگے آگے دس پندرہ جانور اور تاحد نگاہ پھیلا ہوا سبزہ۔ ایک اونچی سے ڈھیری پر قدرے خشک جگہ پر بیٹھ کر کھیلتے گجی چارا۔ پھر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی بچے کو ڈپٹ کر یا کبھی ترلے کرکے ، میرا مال تے موڑھ لئیا۔ یہاں بھی ظالم کلاس سسٹم ، کس کو ڈپٹنا ہے اور کس کا ترلا کرنا ہے یہ بچے کی قوم پر منحصر۔ اگر کوئی ملازم ساتھ ہے تو پھر چنگھاڑتے ہوئے اوئے جاہ لئے آ بے بے آں تیری بھینڑ کُو ۔ ہائے ہائے غربت تیری سینڑ کُو۔
چھوڑیے میاں کیا کہ��ے ہوگے بابا گھنا ای دکھی اے۔ روندا ای رہندا۔ لگی سون دی جھڑی لگی سون دی جھڑی۔ پھر ؟ پھر چلی ساہواں دی ہنیری ہیں جی؟ ہاں جی کرتی وی گیلی گیلی لاچہ وی گیلا گیلا پنڈے تے دفع کرو جی۔ برسات کے موسم میں تنہائی کے عالم میں گھر سے نکل آیا ایک کھیس بھی اٹھا لیا ، پھر تھوڑا سا پھانڈا آیا ، کھیس بھیگ گیا تو ماں نے سر آسمان پر اٹھایا ، ایہہ مئیں داج وچ لیائیا ، دو جوڑے کپڑے تھے وہ بھیگ گئے تو سردیوں والا گھڑا ہلایا ، اس میں سے موٹا سوٹ نکال کر پایا کہانیاں کرنیاں بوہت سوکھیاں اوکھا ویلا سی جو ٹپایا ، مولا تیرا شکر جو اس دوزخ وچوں کڈھ کے ایتھے لیائیا ، توں وی زمین دا کلہ ویچ تے اوتھوں نکل تایا۔
WHATSAPP USERNAME:
1. Update WhatsApp from the Google Play Store or Apple App Store.
2. Open Settings → Account → Username.
3. Create your username and set up your unique username key.
If the Username option doesn’t appear after updating:
1. Go to Settings → Accounts Centre (Meta).
2. Confirm that your Facebook and Instagram accounts are linked.
Close Accounts Centre, reopen WhatsApp, and check again. The Username setup should appear automatically.
تین لاکھ سرکاری ٹیچرز ہیں ایک لاکھ ایکس پر آ جائیں روز اپنے مالک کو مہذب طریقے سے پیش کریں ٹرینڈ کریں اصل سچ سامنے لائیں ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا پر impression management والی وزارت ایسے بھاگے گی کہ سوچ ہے آپ کی
آج کے دور کا موثر احتجاج سوشل میڈیا ہے سڑکوں پر جانے کی ضرورت نہی ہے
ایس ٹی آئی ہیں جن کی بھرتی پر آپ فحر کرتے انکو گرمیوں کی چھٹیوں کی تنخواہ نہیں دیتے، چھٹیوں کے بعد پھر 8 ماہ کنٹریکٹ دے دیتے ہیں اور مئی کے مہینے میں بھی 9 دن کی تنخواہ کاٹ لی ہے کہ مہینہ پورا نہیں پڑھایا،اب ایس ٹی آئی 3 ماہ انکے کی طرف دیکھے گے پھر یہ وعدہ تھا کہ ہر ماہ تنخواہ ملے گی،یہ وعدہ موصوف دس دفعہ کر چکے ہیں۔ ابھی ہماری مارچ اپریل مئی کی تنخواہ بھی نہیں ملی
ایک SIT کا وزیر تعلیم پنجاب @RanaSikandarH سے سوال
جانئے کہ ایلیٹ کلاس کے اپنے اسکولوں میں ٹیچرز کی تنخواہوں کی کیا صورتحال ہے ؟
گذشتہ سال ایک بڑے سکول نے ج��نئیر کلاسز کو پڑھانے کیلئے رابطہ کیا
اور دو لاکھ تیس ہزار سیلری آفر کی
انہیں کہا کہ سینئر سکول کو پڑھاؤں گا
سیلری بھلے دس ہزار کم دے دو
ای��یسن کالج ، بیکن ہاؤس ، ایل جی ایس ، لاکاس ، سائیکاس وغیرہ میں ٹیچر کی کم سے کم تنخواہ بھی لاکھ سے اوپر ہوتی ہے
اور اساتذہ کے معیار کا بہت سخت خیال رکھا جاتا ہے، رانا سکندر کے اپنے بچے بھی کسی ایسے ہی سکول میں پڑھتے ہوں گے
مگر غریبوں کے بچوں کیلئے پندرہ ہزار والے اساتذہ رکھے ہیں ؟؟
اور الٹا اس پہ فخر بھی کرتے ہیں
یہ اپنے بچوں کو پندرہ ہزار والے اساتذہ سے اور ان سکولوں میں کیوں نہیں پڑھاتے ہیں ؟؟
#پاکستان
اگر میرے اختیار میں کسی ایک شعبے کی تنخواہیں دگنی کرنا ہو، تو میں اساتذہ کا انتخاب کروں گا۔
کیونکہ جو قوم اپنے استاد کی قدر نہیں کرتی، وہ اپنے مستقبل کی قدر بھی نہیں کرتی!
ایک ٹیچر ہفتے میں چھ دن سکول جاتا ہے
روز کے سات لیکچر دے
تو جمعہ نکال کر ہفتے کے 39 لیکچرز بنتے ہیں
یعنی مہینے کے 156 لیکچرز, اور ایک سو چھپن لیکچرز کی تنخواہ صرف پندرہ ہزار روپے ملتی ہے یعنی تقریباً 97 روپے پر لیکچر، مطلب 679 روپے دیہاڑی ، جبکہ آج کل ایک عام مزدور کی دیہاڑی 1500 روپے روزانہ ہے
کسی ترقی یافتہ ملک میں کوئی وزیر ایسا گھٹیا بیان دیتا تو عمر بھر کیلئے نااہل ہو جاتا مگر اس جعلی حکومت میں جو ج��نا بڑا احمق ہے
اتنے ہی بڑے عہدے پر ہے
💯 درست رائے ہے آپ کی ۔۔۔ہر وزیر کی تنخواہ 15000 ہونی چاہیے۔اس پہ ٹرینڈ کریں ایک ۔پاکستان کی ایلیٹ کلاس کو غریب کا احساس ہے ہی نہیں۔ایسا ہی ہونا چاہیے تاکہ سب وزراء کو پتا لگے 15000 میں گھر کیسے چلتا
وزیرتعلیم پنجاب کی تنخواہ ایک لاکھ سے 10 لاکھ تک پہنچ گئی،مگر سکول ٹیچر کی تنخواہ بارے ان کا کہنا ہے کہ 15 ہزار والا ٹیچر بہترین نتائج دے رہا ہے۔ محمد عمیر
@MohUmair87
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
تقریباً 30 ہزار سرکاری سکولز پرائیویٹ ٹھیکیداروں کو دیے گئے ہیں جہاں میڑک پاس ٹیچرز 8 سے 10 ہزار کی تنخواہ پر رکھے گئےہیں، بجلی کی بچت کے لیے پنکھے بھی بند کر دیے جاتے ہیں،پچھلے دو سال سے مسلسل پرانی پھٹی ہوئی کتابیں غریب بچوں کو دی جاتی ہیں اور اسے ہم بچت کہتے ہیں،
رانا سکندر صاحب یہ آپکی ٹویٹ کے نیچے آئے چند ریپلائز ہیں انکو پڑھ لیں تاکہ علم میں آئے لوگ آپ کی وزارت اور پرفارمنس بارے کیا رائے رکھتے ہیں۔ ہم بات نظام کی کی کررہے آپ مثال اپنی ذات کی دے رہے ہیں۔ آپ دس گنا دیں یا کچھ بھی نہ دیں مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں، آپ نظام تعلیم کو بہتر بنانے آئے ہیں۔ شکریہ
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر صاحب، میرا آپ سے ذاتی جھگڑا نہیں ہے مگر کاش آپ اس ویڈیو پر ہی شرمندہ ہو جاتے۔
یہ چنیوٹ میں ایک ٹھیکے والے سرکاری سکول کا حال ہے۔ جب یہ ویڈیو وائرل ہوئی تو انکوائری شروع ہوئی مگر ہمیں کیا معلوم ایسے کتنے سکول ہیں؟
آٹھ سو ارب کے بجٹ پر اسی لیے ہم سوال پوچھ رہے ہیں کہ وہ کہاں لگ رہا ہے۔ آپ کے لکھے خوش کن اعداد و شمار نہیں، یہ حقیقت فیصلہ کرے گی۔
یقین کریں جن مغربی ممالک کا آپ حوالہ دیتے ہیں، وہاں ایسا ہوتا تو وزیر تعلیم استعفیٰ دے کر شرمندگی سے سیاست بھی چھوڑ چکا ہوتا مگر آپ تو سوال کرنے والوں کو شرمندہ کرتے ہیں۔
15 ہزار تنخواہ لینے والے ٹیچر کا رزلٹ ایک لاکھ تنخواہ لینے والے ٹیچر سے کئی گنا بہتر ہے ! صوبائی وزیر تعلیم پنجاب...
بجائے تالیاں مروانے کے اگر شرم ہوتی تو ان سکولز والوں سے پوچھتا کہ مزدور کی کم از کم اجرت سے بھی کم تنخواہ کیوں دے رہے ہو؟ ان سکولز کے خلاف کاروائی کرتا الٹا خوشی سےبتارہا ہے کہ کیسے پرائیویٹ ٹیچرز کا معاشی استحصال ہورہا ہے
ڈگری ہولڈرز کے منہ پر 15 ہزار روپے مار کر استاد بنانے والے، ان پڑھ کو 40 ہزار میں 'ستھرا پنجاب' کی جاب دے رہے ہیں۔
نظامِ تعلیم کا ایسا "ستھراؤ" پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا
دشت میں ہے ایک نقشُِ رہگُزر سب سے الگ
ہم میں ہے شاید کوئی محوِ سفر سب سے الگ
چلتے چلتے وہ بھی آخر بِھیڑ میں گم ہو گیا
وہ جو ہر صورت میں آتا تھا نظر سب سے الگ
سرمد صہبائی
ہمارے ادارے،عدالتیں اور سرکاری لوگ عمران خان کو سمجھ ہی نہیں سکے، وہ سمجھتے بھی کیسے؟؟ وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔ جب وہ وزیراعظم تھ�� تو اُس کے بنی گالا والے گھر کا بجلی کا بل دو لاکھ اسی ہزار آگیا تو اُس نے خود فون کرکے ایس ڈی او کو بلا کر کہا کہ ” بل بہت زیادہ آگیا ہے،اس کی قسطیں کردیں“ ایس ڈی او حیران تھا کہ یہ وزیراعظم پاکستان ہے اور ذاتی گھر کے بجلی کے بل کی قسطیں کروا رہا ہے،دراصل سرکاری لوگوں نے ایسا وزیراعظم دیکھا ہی نہیں تھاکیونکہ یہاں تو وزیراعظم ایسی باتیں کرتے ہی نہیں تھے ، یہاں تو حکم ہی کچھ اور ہوتا تھا۔
Thousand degree centigrade Hot Metal Ball VS Cola🥤, Sprite🥤, Beer🍺 & Milk🥛
دودھ کی افادیت کو اگر سمجھنا ہے تو یہ ویڈیو ضرور دیکھیں، انسانی جسم میں بھی دودھ اس ہی طرح سے کام کرتا ہے Toxic ختم کرتا ہے، اندرونی اعضاء کو تقویت دیتا ہے اور توانا رکھتا ہے۔