Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
“انسانی معاشرے دو چیزوں پر چلتے ہیں انصاف اور اخلاقی قوت پر۔ جانوروں کا معاشرہ طاقت کی حکمرانی پر چلتا ہے۔ جس میں طاقتور قانون سے بالاتر ہوتا ہے جبکہ انسانوں کے معاشرے میں جب طاقت کے زور پر حکمرانی کی جاتی ہے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اس حوالے سے میں تواتر سے مولانا رومی کے قول کا حوالہ دیتا ہوں: “جب اللہ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگ کیوں رہے ہو”-
آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے جس نے انصاف اور جمہوریت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ اس ملک کے آزاد ججز کو پیچھے کر دیا گیا ہے اور سرکاری ججز کو آگے کر دیا گیا ہے۔ آج پاکستان میں کمزور کے پاس کہیں بھی جانے کا راستہ نہیں ہے۔
ایٹم بم سے قومیں تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات کی گراوٹ قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ یہ انتہائی بےشرمی سے اخلاقیات اور جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔
مجھے زیر کرنے کیلئے جو ناروا سلوک میری اہلیہ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں گراوٹ کی اپنی مثال ہے۔ انتقام کے طور پر شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی بیگمات کو بھی کبھی جیل کی کال کوٹھڑی میں نہیں دھکیلا گیا جیسے مجھ سے انتقام لینے کیلئے میری اہلیہ کیساتھ کیا گیا۔ بشریٰ بی بی کو 14 ماہ سے قید تنہائی میں انتہائی برے حالات میں رکھنے کے پیچھے صرف مجھے سزا دینا مقصود ہے۔ القادر جیسے بے بنیاد کیس میں سزا سنا کے بشریٰ بی بی کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے جس میں ان پر اعانت کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ القادر کیس ٹرائل میں پراسیکیوٹرز نے اعانت کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا-
جنگل کے بادشاہ نے عہدے سے برطرفی کے بعد زلفی بخاری کے ذریعے بشریٰ بی بی کو پیغام پہنچایا کہ “آپا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں”۔ مگر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہذا میں ملاقات نہیں کرونگی۔ جس کا عاصم منیر یہاں اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کے ذریعے انتقام لے رہا ہے۔ غیر قانونی طور پر تعینات اس کرنل کے نزدیک عدالتی احکامات کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں۔ عاصم منیر اب ذاتیات پر اتر آیا ہے، اسی کی ایماء پر میری اور بشریٰ بی بی کی چار ہفتوں سے شیڈول ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی اور قیدیوں کو میسر دیگر بنیادی انسانی حقوق بھی مکمل معطل ہیں۔
تحریک انصاف واحد وفاقی سیاسی جماعت ہے۔ ہم ملک کو جوڑنے والے ہیں، ہم بحیثیت ملک کی سب سے بڑی وفاقی سیاسی قوت کے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے-
اس ملک کو غداری کے الزامات سے بہت نقصان اٹھانا پڑا- ماضی میں شیخ مجیب اور اکبر بگٹی کو غدار قرار دے کر ملک کا بہت نقصان کیا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ اور ہم سب سیاسی لوگ ہیں، غداری کے لیبل لگانے سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
پیکا قانون کے ذریعے زبردستی اور اشتہارات کی ذریعے رشوت دے کر میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ ناجائز 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم اسی مقصد کیلیے لائی جارہی ہے کہ “بادشاہ سلامت” کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی جرآت نہ کرے۔ جو بھی بادشاہ کے سامنے جھکے گا اسکے سارے کیسز معاف کر دیے جائیں گے اور جو بھی بادشاہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اسکا مقدر جیل کی کال کوٹھڑی ہوگی۔ پاکستان میں جو بھی آزاد صحافی تھا بزور جبر یا تو اسے ملک بدری پر مجبور کر دیا گیا، چپ کرا دیا گیا یا اسے اٹھا لیا گیا۔ آزاد صحافیوں کیلئے جیسے زمین تنگ کر دی گئی انکی فیملیز کو جیسے ہراساں کیا گیا ملکی تاریخ میں اسکی نظیر ملنا بھی مشکل ہے۔
بے ضمیر، بے شرم چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ نے بادشاہ سلامت کی بادشاہی کے قیام کیلئے بھرپور سہولت کاری کی۔
مفرور سزایافتہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس سمیت کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دئیے گئے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور میرے دیگر پارٹی لیڈرز کا ایک ہی جرم ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے۔ اگر آج وہ پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا مطلوبہ بیان دے دیں تو آج ہی انہیں ناجائز قید سے رہا کر دیا جائے گا۔
آج تک قوم کسی ناانصافی کو نہیں بھولی۔ جسٹس منیر کا ناجائز فیصلہ بھی قوم کی یادداشت میں تازہ ہے اور یہ قوم کبھی بھی قاضی فائز عیسیٰ کے انصاف کے منصب پر بدترین کردار کو فراموش نہیں کرے گی۔ قوم سب ججز کو دیکھ رہی ہے کہ کون تاریخ کی درست سمت میں آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کی طرح بادشاہ سلامت کے حکم کی بجا آوری میں قوم کے حقوق غصب کرنے کے درپے ہے۔
1/2
پہلے قاضی فائز عیسیٰ کے ذریعے پاکستان میں فسطائیت جاری تھی اور اب چھبیسیوں ترمیم کے ذریعے ظلم کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔ اگر آج عدلیہ تاریخ کی درست سمت کھڑی نہیں ہو گی تو ان کا نام بھی جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ ہی لکھا جائے گا جو ہمیشہ تاریخ میں مجرم ہی رہیں گے۔
میری طرف سے سلمان اکرم راجہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، عورتوں سے بد سلوکی، چھبیسویں ترمیم اور کرنل سطح کے لوگوں کی جانب سے مسلسل توہین عدالت جیسی قانون کی پامالی پر سپریم کورٹ کے دونوں سربراہان اور ہائی کورٹ کے ججز کو خط تحریر کریں۔ یہ بوجھ ججز کے کندھوں پر ہے کہ وہ انصاف کا نظام قائم کر کے تاریخ کی درست جانب کھڑے ہوں۔
شریف خاندان این آر او لینے کا عادی ہے۔ دو مرتبہ پہلے این آر او لیا اور اب الیکشن چوری کر کے قوم پر مسلط ہیں۔ اس ملک کو کبھی بھی ایسے لوگ اوپر لے کر نہیں جا سکتے چاہے ایس آئی ایف سی بنا لیں یا کوئی اور کلیہ آزما لیں۔ قوم صرف تب ہی اوپر جاتی ہے جب وہ آزاد ہو اور حکمران اخلاقی طور پر مضبوط ہوں۔
سمبڑیال الیکشن میں تمام لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ اس ظلم کے نظام کے خلاف اپنی واحد طاقت یعنی ووٹ کے ذریعے فیصلہ دیں۔ انہوں نے الیکشن چوری کا پورا پلان بنایا ہو گا لیکن آپ لوگ چوکنا رہیں- فارم 45 لے کر پولنگ سٹیشن سے نکلیں اور فارم 47 ملنے تک RO کے دفتر میں موجود رہیں- دھاندلی کے آگے دیوار بننا ہے تاکہ اس حکومت کو اس کی مقبولیت کا اندازہ دلایا جائے۔
میری ہدایت ہے کہ پارٹی کی پنجاب میں تنظیم سازی کے حوالے سے ترتیب دی گئی کمیٹی میں عالیہ حمزہ اور چاروں ریجنز کے صدور کو شامل کیا جائے۔ کمیٹی کا کنوینر مقرر کرنے کی بجائے سب ایک سطح پر مل کر کام کریں۔
جنگ ہمیشہ باہر والوں سے ہوتی ہے۔ میرا تمام پارٹی اور سوشل میڈیا کو پیغام ہے کہ اپنی تنقید کا نشانہ اپنے لوگوں کو نہ بنائیں اس سے ہمارے بیانیے کو نقصان ہوتا ہے۔ ہمیں ساری توجہ فسطائی قوتوں کے خلاف مرکوز رکھنی چاہیئے تاکہ اس اندھیری رات کا جلد سے جلد خاتمہ ہو سکے-
میرا تحریک انصاف کے لیے خصوصی پیغام ہے کہ جماعت میں کسی کو بھی قربانی دینے سے نہیں گھبرانا چاہیئے۔ اگر مجھ سمیت سینکڑوں کارکنان اور لیڈر شپ جیلوں سے نہیں گھبرائی تو آپ لوگوں کو بھی نہیں گھبرانا چاہیئے۔ پارٹی عہدیداران کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہونے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اب جو عہدہ دار سرگرم نہیں ہو گا اسے برطرف کر دیا جائے گا۔ اس ملک سے ظلمت کے سائے ختم کرنے کے لیے ہم سب کو اپنے حصے کی قربانی دینا ہو گی” -
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی وکلأ، پارٹی ورکرز اور صحافیوں سے گفتگو
2/2
“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بالآخر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے آتی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گرفتار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے گفتگو:
(۲۲ مئی ۲۰۲۵)
”نو مئی کے جھوٹے کیسز کا ٹرائل ایک بار پھر شروع کیا گیا ہے- 9 مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج آج تک پیش نہیں کی جا سکی اور پچھلے دو سال نے یہ ثابت کیا کہ اس کا واحد مقصد تحریک انصاف کو کچلنا تھا۔ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج اگر پیش کر دی جائے تو سچ سب کے سامنے آ جائے۔
ملک بھر کی طرح پشاور میں بھی ہمارے امیدواروں سے فارم 47 کے ذریعے سیٹیں چھینی گئیں- الیکشن پٹیشنز کا فیصلہ دینے کے لیے ذیادہ سے ذیادہ 180 دن کا وقت ہوتا ہے لیکن 15 ماہ گزرنے اور بار بار قانون اور جج بدلنے کے باوجود اب تک سماعت بھی نہیں شروع ہو سکی-
پشاور سے ہمارے جن لوگوں کا مینڈیٹ چھینا گیا ان کو کابینہ سمیت فوری طور پر ہائی کورٹ سے رجوع کر کے پٹیشن دائر کرنی چاہیئے اور الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج بھی کرنا چاہئیے۔اس کے علاوہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کریں۔
بطور پارٹی سربراہ بجٹ اور پالیسی سازی کے حوالے سے خیبرپختونخوا کی حکومت نے مجھ سے ہدایات لینی ہوتی ہیں۔ عوام نے تحریک انصاف کو حکومت کیلئے منتخب کیا ہے تو پالیسی مرتب کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے- لہذا بجٹ پیش کرنے سے پہلے علی امین گنڈاپور اور وزیر خزانہ کی مجھ سے ملاقات کروانا ضروری ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے کوئی مجھ سے ملاقات کرنے نہیں آیا، یہ خبر محض جھوٹ پر مبنی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جو سبکی ہوئی اس خفت مٹانے کیلئے وہ ضرور دوبارہ وار کرے گا
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں
انہی وجوہات کی بدولت میں نے مذاکرات کی بات کی ہے۔ مذاکرات ان سے ہی ہوں گے جن کے پاس اختیار ہے اور یہ مذاکرات صرف ملکی مفادات کی خاطر ہوں گے۔ میں کسی مشکل سے نہیں گھبراتا میرا عزم مضبوط ہے۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ فارم 47 کی اس جعلی حکومت نے پہلے ہی ہمارے دو مہینے ضائع کیے۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔
جمہوریت کا قیام دو بنیادی اصولوں پر ہوتا ہے ایک قانون کی بالادستی اور دوسرا اخلاقیات۔ مجھ پر اور تحریکِ انصاف سے منسلک دیگر لوگوں پر جس طرح کے بے بنیاد سیاسی مقدمے بنائے گئے ہیں، جبری اغوا اور گمشدگیوں کے بعد پارٹی ممبران سے تحریکِ انصاف چھوڑنے سے متعلق پریس کانفرنس کروائی گئی اس سے ثابت ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی ہرگز نہیں بلکہ جنگل کا راج قائم ہے۔
اخلاقیات کی پستی کا یہ عالم ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر ممبران الیکشن کمیشن اپنی مقررہ مدت پوری کرنے کے باوجود عہدوں پر براجمان ہیں۔ متنازعہ آئینی بینچ کا قیام، اسکے فیصلے اور کیسز کی ہینڈلنگ سے اخلاقیات کی گراوٹ ثابت ہے۔ قانون اور اخلاقیات کی عدم موجودگی میں جمہوریت ہرگز نہیں پنپ سکتی، یہ معاشرے کی تباہی کا باعث ہے اور ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
مجھ پر ہر طرح کی سختی کی جا رہی ہے۔ میرے بچوں سے میری بات تک نہیں کروائی جاتی ، میرے اہل خانہ سے ملاقات کئی کئی دن روک لی جاتی ہے اور میرے معالج تک کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا اس کے باوجود میں اپنی قوم کی خاطر ڈٹ کر کھڑا رہوں گا-“
عمران خان کسی بات پر اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے اس بات پر خوش ہوئے کہ جب ان کو قاسم اور سلیمان کے انٹرویو کے متعلق بتایا گیا اور بتایا کہ 20 ملین لوگوں نے اس انٹرویو کو دیکھ لیا ہے اور آپ کی تمام نصیحتیں انھوں نے انٹرویو میں بتائی ہیں!
“تمام پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چوکس اور متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ نریندر مودی پاکستان پر حملے سے اپنی اندرونی ساکھ کو بڑھاوا دینا چاہتا تھا، اس کے مذموم عزائم ناکام ہو چکے ہیں اور وہ زخمی ہے- وہ اپنی رسوائی کے بعد مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
ان حالات میں ملک و قوم کو اتحاد اور یگانگت کی بہت ضرورت ہے۔ اس اتحاد کے لیے بہت ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کی خاطر آئین و قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اپنے لیے کسی ڈیل یا آسائش کی ضرورت نہیں۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کا جو تہذیبی و اخلاقی ڈھانچہ تھوڑا بہت قائم تھا، وہ ان لوگوں نے پچھلے دو سال میں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ چور ہونا یا ڈاکو ہونا اس وقت اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔
آج کے حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ “امر بالمعروف” پر یقین رکھتے ہیں، اگر آپ نیکی اور سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، تو آپ جرم کے مرتکب سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں جن کو این آر او ملتا ہے، وہی سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ جو چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں معافی ملتی ہے- لیکن جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جیل میں ڈالے جا رہے ہیں۔
جب عوام 9 مئی کو ظلم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کے لیے نکلی، تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار تھیں لیکن ایک نے پریس کانفرنس کر کے سچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا، وہ آج باہر ہے، اور جو سچ کے ساتھ کھڑی رہیں، وہ آج بھی جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ وہ سائفر کیس میں میرے خلاف بیان دیں، لیکن جب انہوں نے سچ کا ساتھ دیا، تو وہ آج اس کیس سے بری ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ اگر وہ جھوٹ کے ساتھ ہوتے، تو آزاد گھوم رہے ہوتے۔
الیکشن کی لوٹ پر کھڑی فارم 47 حکومت کے بلند و بانگ کھوکھلے دعووں کے باوجود پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا حصول ناممکن ہے۔ معیشت کی بدحالی دراصل ملک میں آئین و قانون کے نظام کی تباہی کا نتیجہ ہے۔
جھوٹ اور فریب پر مبنی یہ نظام آزاد عدلیہ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں عوام کے ووٹ کو لوٹنے کے بعد مسلسل عدالتی نظام پر ایک حملہ جاری ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم اسی حملے کی ایک کڑی ہے جسے اعظم تاررڑ اوراحسن بھون نے نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی “فیکٹری” میں مینوفیکچر کیا- اس کا مقصد تھا کہ ایک قاضی فائز عیسٰی کی جگہ کئی قاضی فائز پیدا کرو، ہر کورٹ میں ایک قاضی فائز بٹھاؤ اور پورا انصاف کا نظام دفن کر دو-
اقتدار پر قابض ناسمجھ لوگ جھوٹے نظام کو بچانے کے لیے ملک کے ہر علاقے میں پاکستانیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کو پامال کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی اغواء کاری اور ان پر تشدد روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
حضرت علی کا مشہور قول ہے: کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔
پاکستان میں رائج ظلم، جبر اور نانصافی کا نظام بھی انشأللہ ذیادہ دیر نہیں چلے گا!
میری بہنوں نے مجھے قاسم اور سلیمان کے پہلے انٹرویو کے مندرجات اور انٹرویو کی پاکستانی عوام کی جانب سے بےحد پذیرائی اور پسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے سن کر بہت خوشی ہوئی-
ملک میں اس وقت انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے۔ میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-
میں اپنے پارٹی لیڈرز، خواتین اور ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس وقت بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تمام افراد جو ناجائز فوجی عدالتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، وہ بہادری کا استعارہ ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات میں گفتگو (20-05-2025)
I am grateful to share that I am drafting the PAKISTAN DEMOCRACY ACT to ban from the United States those in the Pakistan military government responsible for the wrongful persecution and imprisonment of Imran Khan. Thank you!
Former Prime Minister Imran Khan's conversation with lawyers and media at Adiala Jail - January 22, 2025
"To extend Yahya Khan Part 2's hold on power and to cover up the events of May 9th (2023), Chief Justice Qazi Faez Isa did not hear our petitions regarding the May 9th false flag operation and the election rigging of February 8th (2024). The worst human rights violations in history were committed against PTI. From Zille Shah to Sami Wazir, there is a long tale of oppression and tyranny against us. We have not been able to get justice from any court across the country. The courts are paralyzed, but even today, the illegitimate government fears that if a judge hears our petitions on human rights violations on merit, they might actually deliver justice. But no matter what they do, it is a divine law that a reign of tyranny and oppression cannot last long.
I am deeply grateful to Saudi Crown Prince HRH Mohammed bin Salman for responding to my appeal and releasing nearly 7,200 poor and deserving Pakistani citizens from Saudi prisons. I have always tried to use my position and influence to improve the lives of ordinary Pakistanis. This was one of the reasons I entered politics, and I will continue to strive for it for as long as I live.
Neither Bushra Bibi nor I have financially benefited from the Al-Qadir Trust in any way. Malik Riaz will testify that I was the only Prime Minister who never sought anything from him for personal or financial gain. Unlike Zardari, I did not have a Bilawal House built for me, nor did I sell One Hyde Park at double its value, like the Sharif family did. The future of Pakistan's youth is important for me, and it was for this reason that Al-Qadir University was established.
They have used every tactic to cause me agony. I strongly condemn the social media campaign launched by our opponents against Bushra Bibi. The opposition has been slinging mud at Bushra Bibi for the past six years just so they can somehow malign my character. Those who claim to be our well-wishers, but become part of their propaganda are not our well-wishers, but are playing into the enemy’s hands by carrying out their mission."